سڑکیں اب بھی بحال نہیں ہوسکیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں جو ساڑھے چھ ہزار کلومیٹر طویل سڑکیں تباہ ہوئی تھیں وہ آج بھی مکمل طور بحال نہیں ہوسکیں۔ چند مرکزی سڑکوں کو چھوڑکر بے شمار ذیلی سڑکوں پر تاحال معمول کی ٹریفک بحال نہیں ہوسکی ہے اور اس لحاظ سے کئی دیہات اب بھی باقی دنیا سے کٹے ہوئے ہیں۔ پاکستان کے زیرانتظام کشیمر میں زلزلے نے پہاڑوں کو اندر باہر سے ہلا کر رکھ دیا، کئی متاثرہ پہاڑوں میں لینڈ سلائیڈنگ اب تک جاری ہے جس سے وہ سڑکیں بھی بار بار بند ہوجاتی ہیں جنہیں جزوی طور پر بحال کر دیا گیا تھا۔ مظفرآباد کے کالج کی طالبہ مہرش چودھری چھٹی کے بعد گھر جانے کے لیے جیپ میں سوار ہو رہی تھیں، ان کا گاؤں بٹ مانگ سات کلومیٹر دور ہے، مسلسل لینڈ سلائیڈنگ نے ان کے گھر سے کالج کے راستے کو خاصا دشوار کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ سے ان کا سفر طویل ہوگیا ہے اور تعلیمی سرگرمیاں بحال رکھنا دشوار تر۔ جس رفتار سے سڑکیں بننے کے بعد پھر ٹوٹ رہی ہیں اس سے بظاہر یوں لگتا ہے کہ سڑک بحالی کا کام کئی برس میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا۔ ٹوٹی سڑکوں کی وجہ سے تکلیف کے شکار ایک مسافر میر سلامت نےکہا کہ ان کے گاؤں تک کی سڑک ایک بار بن گئی تھی لیکن پھر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی جس کے بعد سڑک دوبارہ بند ہوگئی اور عام ٹریفک کی آمد و رفت بند ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ ’کئی ماہ ہوگئے لیکن جس سرکاری ادارے نے ایک بار یہ سڑک کھول دی تھی اس نے دوبارہ ادھر کا رخ نہیں کیا۔‘ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر تمعیر نو و ترقیات ریٹائرڈ کرنل راجہ نسیم خان نے کہا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ حکومت نے کافی حد تک سڑکیں کھول دی تھیں لیکن جب ان پر ہیوی ٹریفک چلنا شروع ہوئی اور لینڈ سلائیڈنگ ہوئی تو مسائل پیدا ہوئے۔‘
شبیر حسین فوج سے ریٹائر منٹ کے بعد سے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں جیپ چلارہے ہیں۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے مختلف علاقوں میں جیپ چلائی ہے اور اسی بنیاد پر وہ یہ کہتے ہیں کہ حکومت نے صرف ان بڑی سڑکوں کو بحال کرنے کی کوشش کی ہے جہاں ٹرک جاسکتے ہیں یا ان کی کوئی دفاعی اہمیت ہے جبکہ ذیلی راستوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ بعض ذیلی راستے تو لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کھول لیے ہیں لیکن وہ محض اس قابل ہوسکے ہیں کہ وہاں جیپ جاسکے۔ جیپ کا سفر مہنگا پڑتا ہے مظفر آباد کے نواحی گاؤں میں رہنے والے میر سلامت نے کا کہنا ہے کہ پہلے جو سفر پانچ روپے میں ہوجاتا تھا اب جیپ میں تیس روپے میں ہوتا ہے اور اگر کسی کو سالم جیپ کرایہ پر لینی پڑ جائے تو پھر آٹھ سو روپے کرایہ بھرنا ہوتا ہے۔ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں زندگی کی طرح سڑک کا سفر ایک برس بعد بھی دشوار ہے، مکمل بحالی کب ہوسکے گی اس سوال کا جواب ذرا مشکل ہے۔ |
اسی بارے میں زلزلہ: بچھڑنے والے افراد کی تلاش08 June, 2006 | پاکستان آٹھ ماہ بعد ملبے سے لاشیں برآمد12 June, 2006 | پاکستان بارش میں پھنسے کشمیری خاندان 06 July, 2006 | پاکستان زلزلہ متاثرین کے لیئے امداد کا معاہدہ01 July, 2006 | پاکستان بٹگرام: زلزلہ امداد پرتنازعہ، 3 ہلاک17 July, 2006 | پاکستان زلزلہ زدہ خاندانوں کے لیئے بھینسیں26 July, 2006 | پاکستان امدادی تنظیموں کے لیئے ضابط اخلاق04 August, 2006 | پاکستان زلزلہ زدہ علاقوں میں ہیضہ، 9 ہلاک07 August, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||