متاثرین شکایت کی عرضی دیں: ایرا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور آبادکاری کے لئے کام کرنے والے ادارے ایرا نے کہا ہے کہ امداد کی تقسیم کے دوران بدعنوانیوں کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ بی بی سی اردو سروس کے ریڈیو پروگرام سیربین میں سامعین کے سوالوں کا براہ راست جواب دیتے ہوئے ایرا کے نائب سربراہ لیفٹنٹ جنرل ندیم احمد نے لوگوں سے کہا کہ وہ بدعنوانیوں کے الزامات کی تفصیلات انہیں فیکس کریں یا شواہد کے ساتھ ان سے اسلام آباد میں ملیں۔ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع باغ سے سوال پوچھنے والے ایک شخص کے اس الزام پر کہ ایرا کے اہلکار بغیر پیسہ لیے زلزلہ کے متاثرین کو ان کا معاوضہ نہیں دیتے ندیم احمد نے اس کے ’شواہد‘ ان کے فیکس پر بھیجنے کو کہا۔ ایرا کے نائب سربراہ کا کہنا تھا کہ وہ ایسے اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔
لیکن بٹل سے عامر نام کے شخص کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ پیسے بینکوں کے ذریعے بھیجے جاتے ہیں تاہم سروے ٹیمیں پہلے ہی باقی پیسہ یعنی رشوت وصول کرلیتی ہیں۔ اس پر ندیم احمد نے عامر کو اپنے دفتر اسلام آباد بھی آنے کو کہا لیکن اس وارننگ کے ساتھ کہ اگر الزامات کے شواہد نہیں ہوئے تو ان پر بھی کارروائی ہوگی۔ تاہم ایرا کے نائب سربراہ نے اعتراف کیا کہ ’اتھارٹی کا غلط استعمال ہوا‘ ہے اور اس طرح کی بدعنوانیاں ممکن ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خاندانوں کی شناخت کے لیے دوبارہ گراؤنڈ ویریفیکیشن کیا جائے گا تاکہ ان افراد کو امداد پہنچائی جاسکے جو اس کے مستحق ہیں لیکن ایک ہی خاندان میں شامل ہونے کی وجہ سے امداد نہیں حاصل کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی امدادی ادارے آکسفیم کا یہ الزام کہ اٹھارہ لاکھ متاثرین اس سال کی سردی بھی خیموں میں گزاریں گے غلط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیموں میں اس وقت صرف لگ بھگ پینتیس ہزار افراد ہیں جن میں سے تین ہزار صوبہ سرحد میں ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ نجی سیکٹر سے تعلق رکھنے والے اسکول، ہسپتال، تجارتی یا دیگر اداروں کو زلزلے کی امداد نہیں مل سکتی ہے البتہ حکومت اب بھی یہ کوشش کررہی ہے کہ انہیں بینکوں کے ذریعے سافٹ لون دینے کی سہولت آسان بنائی جاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ امداد سے متعلق تمام معلومات انٹرنیٹ پر دستیاب ہے اور متاثرین اس سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں اور جو لوگ انٹرنیٹ تک رسائی نہیں رکھتے وہ نوجوانوں اور دوسروں سے مدد حاصل کریں۔ انہوں نے ان الزامات کی تردید بھی کی کہ مظفرآباد میں ترکی کی مدد سے بنائی جانے والی یونیورسٹی صرف کاغذی کارروائی ہے یا شہر کی تعمیر نو کا ماسٹر پلان تیار نہیں ہے۔ انہوں نے صحافیوں کو چیلنج کرتے ہوئے افسوس ظاہر کی کہ اس طرح کے الزامات لگائے جارہے ہیں جبکہ حقیقت کچھ اور ہے۔ ایرا کے نائب سربراہ کا کہنا تھا کہ جن متاثرین کو امداد نہیں مل سکی ہے یا اگر وہ امداد کے لئے اب تک رجسٹریشن نہیں کراسکے وہ اب بھی شکایت کی عرضی داخل کرسکتے ہیں جس پر غور کے بعد ان کا پھر سے رجسٹریشن کیا جائے گا۔ |
اسی بارے میں آٹھ ماہ بعد ملبے سے لاشیں برآمد12 June, 2006 | پاکستان مظفر آباد: لاشوں کی تعداد 18 ہو گئی14 June, 2006 | پاکستان تحقیق کے لیئے اڑتالیس کروڑ منظور01 July, 2006 | پاکستان زلزلہ متاثرین کے لیئے امداد کا معاہدہ01 July, 2006 | پاکستان بارش میں پھنسے کشمیری خاندان 06 July, 2006 | پاکستان اقوام متحدہ کی سرگرمیوں میں کمی07 July, 2006 | پاکستان تودے گرنے سے بارہ زلزلہ متاثرین ہلاک24 July, 2006 | پاکستان زلزلہ زدہ علاقوں میں ہیضہ، 9 ہلاک07 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||