BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 10 May, 2007, 14:06 GMT 19:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدر کے جلسوں میں تیزی

صدر مشرف اور وزیر اعلیٰ پرویز الہی
صدر کے اہم حلیف چوہدری صاحبان کا تعلق پنجاب سے ہے اور آئندہ انتخابات میں یہاں اہم فیصلے ہوں گے: مبصر
پاکستان کے فوجی حکمران صدر جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ کچھ عرصے سے ملک کے مختلف علاقوں میں عوامی جلسوں کا ایک سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ ملک میں جاری عدالتی بحران اور اس سال کے متوقع صدارتی انتخابات کے تناظر میں یہ اجتماعات زیادہ تیزی سے منعقد کیئے جانے لگے ہیں۔

موجودہ عدالتی بحران میں ایک جانب اگر حزب اختلاف اور وکلاء نے حکومت پر دباؤ بڑھا رکھا ہے تو دوسری جانب صدر جنرل پرویز مشرف کے عوامی جلسوں میں بھی تیزی آئی ہے۔

نو مارچ سے اب تک وہ پانچ ریلیاں کر چکے ہیں جن میں زیادہ تر صوبے پنجاب میں منعقد ہوئیں۔ سنیچر کو اسلام آباد میں حکومت ایک اور بڑی ریلی کا انتظام کر رہی ہے۔

حکومتی ارکان کا کہنا ہے کہ ان اجتماعات کے ذریعے صدر کو سرکاری پالیسیوں کی وضاحت کرنے میں مدد ملتی ہے۔ سابق حکومتی ترجمان اور وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ صدر کے سہہ ماہی شیڈول میں دو تین ریلیاں ضرور ہوتی ہیں۔

البتہ حالیہ دنوں میں انتخابی جلسوں میں تیزی کی وجہ انہوں نے ملکی حالات کو قرار دیا۔ ’آپ نے دیکھا کہ گزشتہ چھ ماہ میں چار خودکش حملے ہوئے۔ لوگ ڈی مورالائز ہوتے ہیں۔

مشرف ریفرنڈم سے پہلے اجتماعات میں زیادہ تر وردی میں نظر آئے
جو کوریج صدر مشرف کو پاکستان میں میڈیا دیتا ہے وہ اور کسی کو نہیں ملتی۔ جو وزن ان کی بات کو ملتا ہے وہ کسی اور کو نہیں ملتا ہے۔ تو اس کے لیے انہیں بھی نکلنا پڑتا ہے‘۔

ان ریلیوں میں کبھی صدر لاپتہ افراد کے مسئلے پر عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش میں مصروف دکھائی دیتے ہیں تو کبھی عدالتی بحران میں اپنے اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے۔

لیکن کئی سیاستدان ان ریلیوں کو صدارتی انتخاب کی مہم کا آغاز بھی مانتے ہیں۔ متحدہ مجلس عمل صوبہ سرحد کے امیر اور سابق سینر صوبائی وزیر سراج الحق کہتے ہیں کہ یہ ایک المیہ ہے کہ نہ تو انتخابات کا اعلان ہوا ہے اور نہ کسی تاریخ کا لیکن صدر صاحب نے اپنی مہم ناصرف شروع کر رکھی ہے بلکہ بڑے بڑے اعلانات بھی کیئے جا رہے ہیں۔ ’صدر مسلم لیگ ق اور روشن خیال کے نام سے ووٹ بھی مانگ رہے ہیں‘۔

عام تاثر یہ ہے کہ صدر نے دیگر صوبوں کے مقابلہ پنجاب میں ان ریلیوں میں ترقیاتی منصوبوں کے بڑے بڑے اعلانات کیئے ہیں۔ کہیں ایکسپریس وے تو کہیں موٹروے کی تعمیر کے اعلانات سے چھوٹے صوبوں کے سیاستدانوں میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔

سراج الحق کہتے ہیں کہ ان ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات سے ناصرف صوبہ سرحد بلکہ بلوچستان میں بھی احساس محرومی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ’ہم نے بڑے بڑے منصوبوں کے پی سی ون بنا کر بھیجے ہیں لیکن ان کے لیے پیسے نہیں ملتے‘۔

چھوٹے صوبوں کا مؤقف جو بھی ہو مبصرین کا ماننا ہے کہ صدر پنجاب کی سیاسی اہمیت کو سمجھتے ہیں اور اس کا برملا اظہار وہ کئی مرتبہ کر چکے ہیں۔ پنجاب کے بارے میں صدر کا مؤقف بہت واضع ہیں۔

مسئلہ مناسب لباس کا
 صدر جس لباس میں بھی ہوں وہ صدر بھی ہیں اور فوجی سربراہ بھی۔ ’اب اگر کوئی یونیفارم میں تصویر آجاتی ہے تب مسئلہ ہے اگر بغیر یونیفارم کے ہو تب مسئلہ ہے۔ آخر وہ جائیں تو کہاں جائیں۔ جب ان کے پاس وقت ہوتا ہے تو کپڑے تبدیل کرلیتے ہیں اگر نہ ہو تو یونیفارم میں چلے جاتے ہیں۔ تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے یونیفارم پہنی ہوئی ہے
شیخ رشید

تجزیہ نگار طلعت حسین نے یاد دلایا کہ صدر نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ پنجاب سیاسی اعتبار سے بنانے یا بگاڑنے کی حالت میں ہے۔ ’اس کے بغیر ایک مستحکم سیاسی نظام قائم نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے اہم حلیف یعنی چوہدری صاحبان کا تعلق پنجاب سے ہے اور آئندہ انتخابات میں یہاں اہم فیصلے ہوں گے۔اس لیے چھوٹے صوبوں کے تحفظات جو بھی ہوں پنجاب کی اپنی اہمیت ہے‘۔

اگر یہ اعلانات ان کی صدارتی انتخاب کی مہم کا حصہ ہے تو پھر ان کی سوچ کی تبدیلی ان کے لباس سے ظاہر ہوتی ہے۔ سن دو ہزار دو میں صدارتی ریفرنڈم کی مہم کے دوران صدر اکثر فوجی لباس میں عوامی جلسوں میں شریک ہوتے تھے لیکن اس مرتبہ وہ تمام جلسوں میں شلوار قمیض میں نظر آتے ہیں۔

طلعت حسین کا ماننا ہے کہ صدر کا سویلین آؤٹ لُک زیادہ واضع ہوتا جا رہا ہے۔ ’فوج وردی میں ان کی آخری تصویر چیف جسٹس افتخار چوہدری کے ساتھ تھی جو ایک بڑا اِشو بن گیا‘۔

شیخ رشید کا کہنا ہے کہ صدر جس لباس میں بھی ہوں وہ صدر بھی ہیں اور فوجی سربراہ بھی۔ ’اب اگر کوئی یونیفارم میں تصویر آجاتی ہے تب مسئلہ ہے اگر بغیر یونیفارم کے ہو تب مسئلہ ہے۔ آخر وہ جائیں تو کہاں جائیں۔ جب ان کے پاس وقت ہوتا ہے تو کپڑے تبدیل کرلیتے ہیں اگر نہ ہو تو یونیفارم میں چلے جاتے ہیں۔ تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے یونیفارم پہنی ہوئی ہے‘۔

صدر کے جلسوں سے مختلف پیغامات لوگوں کو ملتے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ شاید یہ اجتماعات ان کی انتخابی مہم کا حصہ ہیں۔ تاہم شیخ رشید کے مطابق صدر کو انتخابی مہم کی ضرورت نہیں۔ ’ان کو جتنے ووٹ چاہیے ان کا بندوبست مسلم لیگ ق اور ان کی حلیف جماعتیں کر چکی ہیں‘۔

یہ سیاسی اجتماعات صدر کی انتخابی مہم کا حصہ ہوں یا نہ ہوں تاہم ان کے لیے اپنی بات واضع کرنے کا ایک اہم ذریعے ضرور ہیں۔ اس بات کا ثبوت چند ہفتے قبل ان کا صحافیوں سے ایک غیررسمی گفتگو میں یہ پوچھنا تھا کہ وہ چیف جسٹس کے خلاف اپنی معلومات ان جلسوں میں عوام کے سامنے رکھیں یا نہیں۔

اسی بارے میں
مشرف کی وکلاء کو وارننگ
05 May, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد