BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 01 May, 2007, 14:44 GMT 19:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مشرف: ایک عہدہ لازماً چھوڑیں‘
پرویز مشرف
دونوں عہدے اپنے پاس رکھنے کے لیے پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کا اصرار آئینی جمہوریت کی طرف پاکستان کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا
ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ پرویز مشرف کوصدر یا آرمی چیف کے عہدوں میں سے کسی ایک عہدے سے لازماً دستربردار ہو جانا چاہیے۔

ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ دونوں عہدے اپنے پاس رکھنے کے لیے پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کا اصرار آئینی جمہوریت کی طرف پاکستان کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا۔


صدر جنرل پرویز مشرف کے لیے ضروری ہے کہ وہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات سے قبل اس سال کے اختتام تک یونیفارم میں رہتے ہوئے اپنے دوبارہ منتخب ہو جانے کو یقینی بنائیں۔ پاکستان کے آئین کے مطابق قومی اسمبلی، سینیٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیاں صدر کو منتخب کرتی ہیں۔

پاکستانی آئین کے مطابق ہی جب تک صدر مشرف، آرمی چیف رہتے ہیں ان کا صدارتی انتخاب غیر آئینی ہو گا۔ 27 اپریل کو دیے جانے والے ایک اخباری انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ موجودہ اسمبلیاں نومبر میں عام انتخِابات سے قبل، اکتوبر میں صدر کا انتخاب کریں گی اور ان اسمبلیوں میں ایک ایسی جماعت کو اکثریت حاصل ہے جو فوجی پشت پناہی کی بنا پر چل رہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ان کا صدر منتخب ہونا اور چیف آف آرمی کے عہدے کا تسلسل برقرار رکھنا ممکن ہو جائے گا۔ نان اسمبلیوں کی مدت اکتوبر میں ختم ہو رہی ہے۔

مشرف جمہوری تقاضوں سے روگردانی
 پارلیمانی انتخابات سے پہلے صدارتی انتخابات کرا کے مشرف ایک بار پھر جمہوری عمل کے تقاضوں سے روگردانی کرنا چاہتے ہیں

ہیومن رائٹس واچ کے ایشیا ڈائریکٹر بیڈ ایڈم کا کہنا ہے کہ ’پارلیمانی انتخابات سے پہلے صدارتی انتخابات کرا کے مشرف ایک بار پھر جمہوری عمل کے تقاضوں سے روگردانی کرنا چاہتے ہیں‘۔ جب کہ ان کا کہنا ہے کہ ’حقیقی جمہوری راستے پر لوٹنے کے لیے پاکستان کو قانونی تقاضوں کے مطابق ہونے والے پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کی ضرورت ہے اور اس کے علاوہ جو بھی طریقہ اپنایا جائے گا جعلی ہوگا‘۔

انیس سو ننانوے میں حکومت کا تختہ الٹ کر برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے مشرف مسلسل آرمی چیف اور صدر کے عہدے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں جب کے پاکستان کا آئین آرمی چیف کو سیاسی عہدہ رکھنے کی اجازت نہیں دیتا۔ دو ہزار تین میں پرویز مشرف نے وعدہ کیا تھا کہ وہ دسمبر 2004 کے بعد صرف کسی ایک عہدے پر فائز رہیں گے لیکن ایک ہی سال بعد انہوں نے سرِ عام اس وعدے سے انحراف کا اعلان کر دیا۔

بطور صدر مزید طاقتور بننے کے لیے پرویز مشرف نے صدارتی اختیارات میں اضافے کے لیے آئین میں ایسی من مانی ترامیم کیں جن سے منتخب نمائندوں کے اختیارات کم ہوئے اور فوج کو حکومت میں ایک باقاعدہ کردار حاصل ہو گیا۔ مشرف کے دور میں قانون کے برخلاف فوج کی من مانیوں میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ جن میں پانانوں سے ماورا ہلاکتیں، تشدد، من مانی گرفتاریاں اور سیاسی حریفوں پر مظالم شامل ہیں۔

اسی سال نو مارچ کو پرویز مشرف نے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کو اپنے دفتر بلایا اور ’عہدے کے ناجائز استعمال‘ کا مبینہ الزام لگا کر معطل کر دیا۔ اس اقدام نے نہ صرف پاکستان میں بلکہ عالمی سطح پر بھی شدید ردِ عمل پیدا کیا اور وکلاء کے علاوہ حقوقِ انسانی کے اداروں نے بھی اس اقدام کی مذمت کی۔

مشرف: چیف جسٹس کی معطلی
 اسی سال نو مارچ کو پرویز مشرف نے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کو اپنے دفتر بلایا اور ’عہدے کے ناجائز استعمال‘ کا مبینہ الزام لگا کر معطل کر دیا

پرویز مشرف نے صدارتی انتخابات کے حوالے سے حال ہی میں جو بیانات دیے ہیں ان سے پاکستان کے عدالتی بحران کی شدت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ 27 اپریل کو دیے جانے والے ایک اخباری انٹرویو میں انہوں نہ کہا ہے کہ ’ میرا خیال ہے کہ پاکستان میں انتخابات نومبر میں ہوں گے‘۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ ’مجھے توقع ہے کہ جو سیاسی گروپ میرے حامی ہیں ایک بار پھر کامیابی حاصل کریں گے، ہر چند کہ میرے مینڈیٹ کی پارلیمانی توسیع ستمبر یا اکتوبر میں ہو جائے گی‘۔

ایڈم کا کہنا ہے کہ ’مشرف نے صدارت کو ملک کا سب سے طاقتور عہدہ بنا دیا ہے اور اب یہ انتہائی اہم ہے کہ پاکستانی ووٹر اس بات کا فیصلہ کریں کہ اس عہدے پر فوج اور مشرف کے برخلاف کسے رہنا چاہیے‘۔

سابق وزیراعظم بینظیر بھٹوبینظیر کی پراعتمادی؟
بینظیر کی پراعتمادی یا مشرف سے ڈیل
مشرف’موزوں چیف جسٹس‘
مشرف کیلیے جسٹس افتخار بہتر: ملک قیوم
شجاعت حسیناسمبلیوں کی مدت
جنرل مشرف کے اتحادیوں کی نئی تجویز
جنرل مشرف’جہاد پر اختیار‘
جہاد صرف حکومت ہی کر سکتی ہے: جنرل مشرف
مشرف اور آئین
کیا کوئی3 مرتبہ صدر کا حلف اٹھا سکتا ہے؟
صدر پرویز مشرفمشرف اور 2007
سن 2007 کے انتخابات اور صدر کے حربے؟
بے نظیرنئے سیاسی اشارے
مشرف کےحدود خطاب میں مفاہمت کے اشارے؟
اسی بارے میں
مشرف حکومت کی ’لوٹ سیل‘
20 April, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد