BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 30 April, 2007, 08:17 GMT 13:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف پرتوہین عدالت کا الزام

صدر کی طرف سے ریفرنس دائرہونے کے بعد یہ معاملہ ایک بحران کی صورت اختیار کر گیا ہے
عملی طور پرمعطل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو صدر ہاؤس میں مبینہ طور پر حراست میں رکھنے کے الزام میں صدر جنرل مشرف کے خلاف سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کردی گئی ہے۔

سپریم کورٹ میں یہ درخواست پیر کو سندھی قوم پرست رہنماء اور سپریم کورٹ کے وکیل رسول بخش پلیجو کی طرف سے دائر کی گئی ہے۔

رسول بخش پلیجو نے کہا کہ وہ پاکستان کے ایک ’محب وطن‘ شہری ہیں اور سمجھتے ہیں کہ آزاد عدلیہ کے بغیر وفاق کو برقرار نہیں رکھا جا سکے گا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے سپریم کورٹ میں دائر کردہ اپنی درخواست میں یہ الزام عائد کیا تھا کہ انہیں ایوان صدر کیمپ آفس راولپنڈی میں طلب کر کے زیر حراست رکھا گیا اور جب انہوں نے واپس سپریم کورٹ میں جانے کی کوشش کی تو ان کو زبردستی روکا گیا۔

رسول بخش پلیجو نے اپنی درخواست میں یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے نو مارچ کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو طلب کر کے انہیں چار گھنٹوں تک حراست میں رکھ کر اور ان پر چیف جسٹس کے عہدے سے مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈال کر توہین عدالت کا ارتکاب کیا ہے۔

رسول بخش پلیجو نے اپنے وکیل اکرام چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس افتخار کو حراست میں رکھ کر جنرل مشرف نے دوسرے ججوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ ان کے ساتھ بھی یہی برتاؤ کیا جا سکتا ہے۔

رسول بخش پلیجو نے کہا کہ انہوں نے یہ درخواست اس لیے دائر کی ہے کہ اب تک جسٹس افتخار سے متعلق جتنی بھی درخواستیں سپریم کورٹ کے سامنے آئی ہیں ان میں کوئی بھی توہین عدالت سے متعلق نہیں ہے۔

رسول پلیجو نے کہا کہ انصاف کی فراہمی ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور چیف جسٹس کو معطل کر کے شہریوں کو ان کے بنیادی حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

رسول بخش پلیجو نے اپنی درخواست میں لکھا ہے کہ جسٹس افتخار محمد چودھری نے جنرل مشرف سے متعلق کوئی ایسا فیصلہ نہیں دیا جس سے ان کی قانونی حثیت پر کوئی فرق پڑا ہو لیکن اس کے باوجود ان کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا اس سے عدلیہ کی توہین ہوئی ہے۔

رسول بخش پلیجو نے کہا کہ البتہ جسٹس افتخار نے کچھ ایسے فیصلے ضرور کیے جن سے حکومت کو شرمندگی اٹھانی پڑی۔

رسول بخش پلیجو نے کہا کہ نو مارچ کو جنرل مشرف نے وزیر اعظم شوکت عزیز اور دوسرے کئی جرنیلوں کی موجودگی میں عدلیہ کے سب اعلیٰ عہدیدار، چیف جسٹس آف پاکستان کو استفعیٰ دینے پر مجبور کرنے کی کوشش کی جو عدلیہ کی توہین ہے۔

اس درخواست میں صدر جنرل مشرف، وزیر اعظم شوکت عزیز، سیکرٹری وزارت قانون و انصاف، اور سیکرٹری وزارت دفاع کو فریق بنایا ہے۔

اسی بارے میں
وکلاء کے خلاف تحقیقات
06 April, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد