مشرف کےحامیوں کی نئی تجویز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ان دنوں موجودہ اسمبلیوں کی مدت میں اضافہ پر نئی بحث چھڑ گئی ہے حکومت کے بعض اراکین کا کہنا ہے کہ موجودہ اسمبلیوں کی مدت پانچ کی بجائے چھ برس کر دی جائے جبکہ اپوزیشن کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا غیر جمہوری ہوگا اور اس کا راستہ روکا جائے گا۔ اس بحث کا آغاز متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے ایک وفاقی وزیر بابرغوری کی اسمبلیوں کی مدت ایک برس بڑھا دینے کی اس اپیل کے بعد شروع ہوا جو انہوں نے میڈیا کے ذریعے صدر پاکستان سے کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میں جاری سیاسی اور ترقیاتی کاموں کی بروقت تکمیل کے لیےایسا کیا جانا ضروری ہے۔ وفاقی وزیر نے یہ بھی کہا تھا کہ آئین کے تحت ملک میں ایمرجنسی لگا کر اسمبلیوں کی مدت ایک برس بڑھائی جا سکتی ہے۔بعد میں لندن سے ایم کیو ایم کے ہیڈکواٹر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں اسے ایک وفاقی وزیر کی ذاتی رائے قرار دیا گیا لیکن سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ جملے ان کے منہ سے اتفاق سے نہیں نکلے کیونکہ ایم کیو ایم میں آزادانہ بیانات دینے کی روایت موجود نہیں ہے۔ جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل منور حسن نے کہا کہ بابر غوری نے ایسا ’لندن کے باس اور اسلام آباد کے باس‘ کے حکم پر کیا ہے ان کا اشارہ الطاف حسین اور صدر مشرف کی جانب تھا۔ اگلے ہی روز حکمران مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت نے بھی نجی ٹیلی ویژن چینل سے گفتگو کرتے ہوئے بالکل وہی بات دہرائی انہوں نے کہا کہ
یہ اعلان یوں تو تمام سیاسی جماعتوں کے لیے ایک دھچکے کا سبب بنا ہے لیکن پیپلز پارٹی پر خاص طور بجلی بن کر گرا جسے شدت سے آئندہ انتخابات کا انتظار ہے۔ پیپلز پارٹی پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے اس نئی صورتحال کو انہی اسمبلیوں سے صدر مشرف کے دوبارہ انتخاب کی کوشش کے سلسلے کی نئی سازش قرار دیا ہے۔ دینی جماعتوں کے اتحاد مجلس عمل نے بھی اس فیصلے کی سخت مخالفت کی ہے اورایم ایم اے کی بڑی جماعت جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی ترجمان مولانا امجد خان نے پیر کوایک ہنگامی پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ اگر صدر مشرف نے انہی اسمبلیوں سے دوبارہ منتخب ہونے کی کوشش کی تو ان کی جماعت کے امیر مولانا فضل الرحمان خود تمام سیاسی جماعتوں کو اس کے خلاف ایک پلیٹ فارم پر متحد کریں گے اور ایک مشترکہ لائحہ عمل بنائیں گے۔ پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی نئیر بخاری نے کہا کہ اگر اسمبلی کی مدت ایک برس بڑھ بھی جائے تو تب بھی صدر مشرف کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کا معاملہ متنازعہ ہے کیونکہ ابھی یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ ان کے صدراتی عہدے کی مدت کب شروع ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کیا یہ مدت صدر تارڑ کو ہٹا کر پہلی بار حلف لینے سے شروع ہوئی تھی، سنہ دوہزار دو کے ریفرنڈم سے شروع ہوئی تھی یا سنہ دوہزار چار میں اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے سے شروع ہوئی؟ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ آئین میں یہ گنجائش تو موجود ہے کہ ایمرجنسی لگا کر اسلمبیوں کی مدت ایک برس بڑھائی جاسکتی ہے تاہم انہوں نے کہا ایمرجنسی لگنے کی صورت میں شہریوں کے بنیادی اور انسانی حقوق سلب ہوجائیں گے وہ عدالتوں سے داد رسی نہیں پاسکیں گے ،تقریر و تحریر کی آزادی ختم ہوجائے گی اور حکومت جس مرضی خبر کو رکوا یا لگوا سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ صدر، کابینہ کے مشورے پر یا ازخود ایمرجنسی لگا سکتے ہیں لیکن اس سے اسمبلی کی مدت از خودبڑھ نہیں جائے گی بلکہ اس کا فیصلہ ایوان میں ہی ہوگا جہاں ان کے بقول اپوزیشن جماعتیں اس کی مخالفت کریں گی۔ مسلم لیگ نواز کے رکن پنجاب اسمبلی رانا ثناءاللہ نے کہا کہ اگر ملکی صورتحال خراب ہے تو انتخابات ملتوی کرنے کی بجائے فوری کروانے چاہیے تاکہ تازہ اور حقیقی مینڈیٹ کے ساتھ معرض وجود میں آنے والی اسمبلیاں حالات کا مقابلہ کر سکیں۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بہرحال موجودہ سیاسی صورتحال اس لحاظ سے انوکھی ہے کیونکہ چند عشروں سے پاکستان میں بعض سیاسی اور جمہوریت پسند حلقے ہمیشہ اس خوف میں مبتلا رہے ہیں کہ اسمبلیاں اپنی مدت پوری کربھی پائیں گی یا نہیں؟ اور اب نیا ڈریہ پیدا ہوا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اسمبلیاں اپنی مدت پوری کرنے بعد بھی ختم نہ ہوسکیں۔ | اسی بارے میں مشرف کی آئینی مشکلات01 January, 2007 | پاکستان مشرف: سیاسی سرگرمیوں پر بحث07 January, 2007 | پاکستان ’مشرف وردی نہیں اُتاریں گے‘24 January, 2007 | پاکستان مشرف الیکشن نہیں کراسکتے: کھر28 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||