BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 February, 2007, 12:36 GMT 17:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف الیکشن نہیں کراسکتے: کھر

غلام مصطفی کھر
کھر کہتے ہیں کہ اس وقت قوم کی سوچ اور موڈ جنرل کی وردی کے حق میں نہیں
پنجاب کے سابق وزیر اعلی اور پیپلز پارٹی کے رہنما غلام مصطفی کھر نے کہا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف اس ملک میں عام انتخابات نہیں کراسکتے اور امکان یہ ہے کہ ملک میں ایمرجنسی یا مارشل لاء لگا دیا جائے گا۔

بدھ کو لاہور پریس کلب میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب سابق گورنر اور سابق وزیر اعلی مصطفی کھر نے کہا کہ موجودہ حکمران ایک بھی ضمنی انتخاب صاف شفاف اور منصفانہ طور پر نہیں کراسکے جبکہ کسی حکومت کے لیے یہ ایک آسان الیکشن ہوتا ہے تو وہ عام انتخابات کیوں کرائیں گے جس میں ان کی چھٹی ہوجائے۔

مصطفی کھر نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ ملک میں یا تو ایمرجنسی لگا کر الیکشن ملتوی کیے جائیں گے یا مارشل لاء لگے گا اور دونوں صورتوں میں سب سے پہلے جنرل مشرف کی چھٹی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف کے لیے ایک ہی با عزت راستہ ہے اور وہ یہ کہ وہ فیصلہ کریں کہ وہ حکمرانی نہیں کرسکتے اور سیاستدانوں سے واپسی کا محفوظ راستہ لینے کے لیے بات چیت کریں اور ان کا مشورہ ہے کہ سیاستدانوں کو مشرف کو واپسی کا راستہ دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور بے نظیر بھٹو ملک کے دو سب سے بڑے سیاسی لیڈر ہیں اور انہیں کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے جو عوام قبول نہ کریں۔

 کھر نے کہا کہ وہ سوچ رہے ہیں کہ ملک کے تمام دانشوروں کی ایک کانفرنس بلائیں جو مل بیٹھ کر سیاستدانوں کے لیے رہنما اصول بنا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت قوم کی سوچ اور موڈ جنرل کی وردی کے حق میں نہیں ہے اور نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کو کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے جس پر وہ عوام کو قائل نہ کرسکیں۔

کھر نے کہا کہ ان کا مشورہ ہے کہ نواز شریف اور بے نظیر بھٹو دونوں کو آل پارٹیز کانفرنس میں شریک ہونا چاہیے اور اسے انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے پاس یہ سنہری موقع ہے کہ وہ مل بیٹھیں اور عوام میں نئی امید پیدا کریں۔

انہوں نے کہا کہ اگر نواز شریف اور بے نظیر نے یہ موقع ضائع کردیا تو قوم میں سخت مایوسی پیدا ہوگی۔

مصطفی کھر نے کہا کہ ان دونوں رہنماؤں کے پاس آخری موقع ہے کہ وہ ذاتی مفادات پس پشت ڈال کر قوم کے مفاد میں فیصلہ کریں اور وہ قوم کے غیر متنازعہ رہنما بن جائیں بصورت دیگر اس ملک میں پرانے سیاستدان ختم ہوجائیں گے اور نئی سیاسی قیادت آئے گی۔

کھر نے کہا کہ پیپلز پارٹی سے بات چیت میں کہا جارہا ہے کہ حکمرانوں کو پیپلز پارٹی تو قبول ہے لیکن بے نظیر قبول نہیں تو اس بات کاماننا پیپلز پارٹی کے تابوت میں آخری کیل ٹھوکنے کے مترادف ہوگا۔

کھر نے کہا کہ وہ سوچ رہے ہیں کہ ملک کے تمام دانشوروں کی ایک کانفرنس بلائیں جو مل بیٹھ کر سیاستدانوں کے لیے رہنما اصول بنا سکیں۔

پی پی پی ریلیپیپلز پارٹی کا جلسہ
راولپنڈی کے لیاقت باغ میں پی پی پی کا جلسہ
’یہ سال اچھا ہے‘
عوامی سیاست کا جادو اور ڈِیل کا منتر
اسی بارے میں
آل پارٹیز کانفرنس کی کوششیں
21 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد