BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرکاری ملازمین اور سرکاری ریلی

واسا کے ملازمین کو دھاڑی کاٹنے کی دھمکی دی گئی تھی
لاہور میں حکمران مسلم لیگ کی ریلی میں شرکت کے لیے ہفتے کو سینکڑوں اساتذہ کو ایجوکیشن کمپلیکس میں محبوس رکھا گیا اور جب انہیں چھوڑا گیا تو ان میں سے بیشتر ریلی میں شرکت کی بجائے گھروں کو چلے گئے اور ریلی کے شرکاء کی تعداد کسی موقع پر بھی چند سو سے زیادہ نہ ہوسکی۔

چیف جسٹس افتخار چودھری کے جلوس کے مقابلے میں وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویز الہی نے اسی روز ریلی نکالنےکا اعلان کیا جس کے انتظامات تو دو روز سے جاری تھے لیکن بعض سرکاری ملازمین کو بھی زبردستی ریلی میں شریک کروایا گیا۔

مسلم لیگ ہاؤس کے باہر سندرداس روڈ پر پانی کی فراہمی اور نکاسی کے ادارے واسا کی آٹھ ٹرک اور ٹریکٹر ٹرالیاں کھڑی تھیں جن پر کئی درجن سرکاری اہلکار موجود تھے۔

ایک ٹریکٹر ٹرالی پر کوئی سولہ اہلکار سوار تھے انہوں نے بتایا کہ وہ گرین ٹاؤن سے آئے ہیں ایک اہلکار نے کہا کہ صبح سے ہی انہیں ان کے دفاتر میں روکا گیا تھا انہیں سرکاری طور پر کھانا کھلایا گیا اور کہا گیاکہ چھٹی ریلی کے بعد ہی ملے گی۔

ان میں سے ایک سے جب یہ پوچھا گیا کہ اگر وہ چلے جائیں تو کیا ہوگا اس نے کہا کہ ہونا کیا ہے ایک روزکی دیہاڑی (اجرت) ماری جائے گی۔ اہلکاروں کے مطابق انہیں دھمکی دی گئی ہے کہ ریلی میں شرکت نہ کرنے والے کی غیرحاضری لگے گی۔

واسا کے ملازمین کو کھانا بھی سرکاری خرچے سے کھلایا گیا

شام چھ بجے کے قریب ہال روڈ پر ایجوکیشن کمپلیکس کے مین گیٹ پر تالہ لگا تھا اور کئی درجن اساتذہ عملاً احاطے میں محبوس تھے۔گیٹ پر چند اساتذہ کھڑے تھے جو باہر جانے کے لیے اس اہلکار کی منت سماجت کررہے تھے جس کے پاس چابی تھی اور وہ انہیں کہہ رہا تھا کہ یہ چابی صرف اندر جانے والوں کے لیے تالے میں لگے گی، کیونکہ ڈی ای او کا حکم ہے کہ باہر جانا منع ہے۔

یہ وہ ٹیچر تھے جنہیں سکول بند ہونے کے بعد بھی چھٹی نہیں ملی سکی تھی ایک ٹیچر اس قید سے کسی طرح باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ سکولوں میں ٹیلی فون پر محکمہ تعلیم کے افسران نے اساتذہ کو پہلے نیپئر روڈ پر گرلز سکول میں بلایا چار بجے تک مین گیٹ بند کرکے وہاں محبوس رکھا اور پھر ہال روڈ کے اس ایجوکشن کمپلیکس میں لاکر بند کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منتقلی کے دوران وہ کسی طرح حکام کی حراست سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اساتذہ صبح سے بھوکے پیاسے ہیں اور سخت اذیت کا شکار ہیں۔

اسی دوران لاہور کے ڈی سی او یعنی ضلعی رابطہ افسرمیاں محمد اعجاز ایجوکیشن کمپلیکس پہنچ گئے ان کے لیے مین گیٹ کا تالہ کھولا گیا اساتذہ کی ایک ٹولی نے بھیڑ بکریوں کے ایک ریوڑ کی طرح اس موقع سے فائدہ اٹھا کر باہر نکلنے کی کوشش کی لیکن انہیں واپس دھکیل کر گیٹ بند کردیا گیا۔

ڈی سی او نے بی بی سی کو کہا کہ ان اساتذہ کو ترقی کے انٹرویو کے لیے روکا گیا ہے تاہم ان کے پاس اس سوال کا جواب نہیں تھا کہ پھر تالہ لگانے کی کیا ضرورت ہے کیا یہ اساتذہ ترقی نہیں لینا چاہتے ؟ انہیں زبردستی ترقی کیوں دی جارہی ہے۔

ریلی لاہورکی میکلوڈ روڈ پر جی پی او سے چند گز کے فاصلے پر ہوئی اور وہ کسی جلسے کی شکل اختیار نہیں کر سکی البتہ صدر پرویز مشرف اور وزیر اعلی چودھری پرویز الہی کی تصاویر، مسلم لیگ کے جھنڈے بڑی تعداد میں نظر آئے۔

اس ریلی کی قیادت وزیر اعلی نے کرنی تھی لیکن وہ ریلی کی قیادت کرنے نہیں پہنچے
چند ٹولیاں بھی نعرے بازی کرتی رہیں ان کے نعرے تھے قدم بڑھاؤ پرویز مشرف ہم تمہارے ساتھ ہیں اور پرویز الہی زندہ باد، سیاسی چیف جسٹس نامنظور، انہوں نے پوسٹر اور بینر اٹھا رکھے تھے چند پر لکھا تھا کہ عدلیہ کا وقار سیاست سے انکار، ساری قوم کا ایک ہی نعرہ پرویز مشرف صدر ہمارا، سیاسی چیف جسٹس نامنظور،

جلوس کے شرکاء کی تعداد کسی موقع پر بھی چند سو سے تجاوز نہیں کرسکی حالانکہ اس جلوس کی تیاریوں کے لیے صبح سے ٹریفک پولیس ویگنیں پکڑ رہی تھی۔

وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویز الہی نے ریلی میں شرکت کا اعلان تو نہیں کیاتھا لیکن ان کا انتظار آخر وقت تک کیا جاتا رہا۔ حکمران مسلم لیگ کے نائب صدر وزیر زراعت ارشدخان لودھی نے ریلی کی قیادت کی۔

انہوں نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس کے خلاف صدارتی ریفرنس قانون کے عین مطابق ہے اور اسے خواہ مخواہ سیاسی رنگ دیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں اس آڑ میں فائدہ اٹھانا چاہتی ہیں لیکن انہیں ناکامی کا سامنا ہوگا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نےکہاکہ واسا کے ملازم اور اساتذہ بھی عوام کا حصہ ہیں اور انہیں ریلی میں شامل ہونے سے نہیں روکا جاسکتا۔

انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ کسی سرکاری ملازم کو زبردستی ریلی میں شریک کیا گیاہے۔ سرکاری ریلی اور چیف جسٹس کے استقبالی جلوس سے تصادم سے بچانے کے لیے سخت سکیورٹی کا بندوبست کیا گیا تھا اور کنٹیر رکھ کر اور خار دار تاریں بچھا کر بفر زون قائم کیا گیا تھا سخت سکیورٹی کے اس جلوس میں چھوٹی چھوٹی ٹولیاں کچھ دیر بعد آتیں اور نعرے بازی کرتی چلی جاتیں۔

جلوس کی قیادت کرنے والے صوبائی وزراء سمیت جلوس کے شرکاء کو آخری وقت تک معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ ریلی کب شروع ہوئی کہاں سے شروع ہوئی اور کب ختم بھی ہوگئی؟

اسی بارے میں
مشرف کی وکلاء کو وارننگ
05 May, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد