جسٹس کا دورہِ لاہور، توجہ کا مرکز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جبری رخصت پر بھیجے گئے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے مجوزہ دورہِ لاہور پر جہاں ذرائع ابلاغ اور سیاسی حلقوں کی نظریں جمی ہوئی ہیں وہیں حکومت بھی قدرے مضطرب دکھائی دے رہی ہے۔ پانچ مئی کو لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کے سلسلے میں جسٹس افتخار بذریعہ سڑک پنجاب کے صوبائی دارالحکومت پہنچنا چاہتے ہیں جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ لاء اینڈ آرڈر کی موجودہ صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے انہیں ہوائی سفر کرنا چاہیے۔ اسلام آباد سے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق جسٹس افتخار سنیچر کی صبح ساڑھے سات بجے اسلام آباد سے لاہور کے لیے براستہ جی ٹی روڈ روانہ ہوں گے۔ ان کے وکلاء کا کہنا ہے کہ جسٹس افتخار لاہور جاتے ہوئے ظہرانے کی خاطر کچھ دیر کے لیے گجرات میں قیام کرینگے۔ گجرات حکمران جماعت کے سربراہ چودھری شجاعت حسین اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الہیٰ کا آبائی شہر ہے۔
جمعہ کو قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف نے الزام لگایا کہ پنجاب میں چیف جسٹس کے استقبال کی تیاریاں کرنے والے ہزاروں سیاسی کارکنوں اور وکلاء کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔ ایوان میں موجود کسی وزیر یا حکومتی رکن نے اس الزام کی نہ تو تردید کی اور نہ ہی تصدیق۔ لاہور سے نامہ نگار عبادالحق نے پولیس حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی لاہور آمد کے موقع پر کمانڈوز سمیت پانچ ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں اور ان کا خطاب سننے کے لیے پنڈال میں داخل ہونے والوں کو تلاشی کے مرحلے سے گزرنا ہوگا۔ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے جسٹس افتخار کے خطاب میں شرکت کے لیے لاہور ہائی کورٹ کے جج صاحبان کو بھی دعوت دے رکھی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سپریم جوڈیشل کونسل کے رکن ہیں، جو چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کے لیے تشکیل دی گئی ہے۔ بار ایسوسی ایشن نے چیف جسٹس کے خطاب کے پروگرام کو منسوخ کرنے کے لیے دو سو اکیتس ارکان کی طرف سے پیش کی گئی ایک قرار داد بھی مسترد کردی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ بار ایسو سی ایشن کے ارکان کی تعداد دس ہزار سے زائد بتائی جاتی ہے۔
پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین اور جسٹس افتخار کے وکلاء کے پینل میں شامل علی احمد کرد نے بتایا کہ نہ تو چیف جسٹس اور نہ ہی ان کے وکلاء میں سے کسی کو حکومت کی طرف سے کوئی ایسی چٹھی ملی ہے جس میں ان کے (جسٹس افتخار) بذریعہ سڑک لاہور پہنچنے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہو۔ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان کا خطاب عام لوگوں تک براہ راست پہنچانے کے لیے ہائی کورٹ کی عمارت کے باہر تین بڑی سکرینز لگائی جا رہی ہیں۔ نامہ نگار علی سلمان کے مطابق عملی طور معطل چیف جسٹس آف پاکستان کی لاہور آمد سے پہلے پولیس نے ’پیشگی پکڑ دھکڑ ‘ کا ایک سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ ان گرفتاریوں کی خبریں ٹی وی چینلز اور اخبارات میں تواتر کے ساتھ آ رہی ہیں، لیکن کوئی بھی پولیس افسر ’آن دی ریکارڈ‘ یہ بات ماننے کو تیار نہیں۔ فوجداری مقدمات کے معروف وکیل اکرم قریشی کے مطابق اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ تر گرفتاریاں غیر قانونی ہیں۔ |
اسی بارے میں گرفتاریاں، بائیکاٹ، مظاہرے،گرمی 02 May, 2007 | پاکستان وکلاء کے خلاف ’انتقامی‘ کارروائی28 April, 2007 | پاکستان جسٹس پیٹیشن، اہم قانونی نکات 26 April, 2007 | پاکستان ’مجھے حراست میں رکھا گیا‘25 April, 2007 | پاکستان آئینی پٹیشن اور ریفرنس، تصادم کا خطرہ24 April, 2007 | پاکستان لاہور بار سے خطاب، پانچ مئی کو24 April, 2007 | پاکستان پشاور میں بھی پروٹوکول ملےگا19 April, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||