’ججوں کو بھی دھمکایا جاتا ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق جج جسٹس وجیہ الدین احمد کا کہنا ہے کہ جن ججوں نے مارشل لاء حکومتوں کے پسندیدہ فیصلے دیے ان کی تصاویر سپریم کورٹ سے اتار دی جائیں۔ جسٹس وجیہ الدین احمد کراچی پریس کلب میں جمعرات کی شام پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے تحت ہونے والے پروگرام ’پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی کی صورتحال کے دوران خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں ماضی کے کئی اہم مقدمات کا ذکر کیا۔ جسٹس وجیہ الدین نے کہا کہ صرف صحافیوں کو ہی ڈرایا دھمکایا نہیں جاتا بلکہ یہاں ججوں کو بھی ڈرایا جاتا ہے۔ ’سپریم کورٹ کے جسٹس حلیم کے سامنے کرین سے بڑے پتھر گرا کر انہیں دھمکایا گیا تھا‘۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ججوں کے تبادلے کر کے بھی اپنے من پسند فیصلے لیتی رہی ہے۔ مولوی تمیزالدین کیس میں سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس شہاب الدین کا بنگال ہائی کورٹ تبادلہ کیا گیا اور پنجاب سے ایس اے رحمان کو لایا گیا، اسی طرح ایک اور جج کا تبادلہ کر کے حکومت نے من پسند فیصلہ لیا تھا۔ جسٹس وجیہ الدین کا کہنا تھا کہ جسٹس افتخار محمد چودھری نے فوج اور عدلیہ کا گٹھ جوڑ توڑنے کی کوشش کی ہے اور ’خود کو بھی صاف کرلیا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کی فراہمی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے مگر یہاں ایشیائی ترقیاتی بینک سے قرضہ لیکر یہ ذمہ داری نبھائی جا رہی ہے۔ ’حکمرانوں نے تیرہ ارب کی مالیت کی گاڑیاں منگوائی ہیں۔ اگر یہ رقم کراچی، پشاور یا لاہور میں انڈر گراونڈ ریلوے پر خرچ کی جاتی تو عوام کو فائدہ ہوسکتا تھا‘۔
سندھ ہائی کورٹ کے سابق جسٹس رشید اے رضوی کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس افتخار محمد کی معطلی کے بعد پیدا ہونے والے ماحول کا ججوں نے بہت اثر لیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سترہ مارچ کو چیف جسٹس کی سپریم جوڈیشل کاؤنسل میں سماعت کے موقع پر ہونے والی کوریج نے وکلاء کی تحریک کو ایک نئی جلا بخشی اور عام لوگ بھی اس سے متاثر ہوئے۔ رشید اے رضوی، جو پیمرا کی جانب سے جاری کئے گئے نوٹس میں’ آج ٹی وی ‘ کی طرف سے وکیل بھی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے میڈیا کو پریشان کرنے کے نت نئے طریقے ڈھونڈ لیے ہیں۔ ان کے مطابق کوئی بھی ایس ایچ او کیبل آپریٹر کے پاس آ کر چینل کی نشریات بند کرادیتا ہے یا کیبل آپریٹرکے دباؤ میں آ کر چینل کی سیٹنگ تبدیل کردیتے ہیں تاکہ اس دن حکومت مخالف پروگرام نہ دیکھا جاسکے۔ انہوں نے صحافی تنظیموں کو بتایا کہ پاکستان الیکٹرانک ریگولیٹری اتھارٹی یعنی پیمرا کا قیام آئین کے آرٹیکل انیس کی خلاف ورزی ہے۔ ’صحافیوں کو اسے چیلنج کرنا چاہیے‘۔ اس پروگرام میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سیکریٹری جنرل مظہر عباس، کراچی پریس کلب کے صدر صبیح الدین غوثی، ایسو سی ایشن آف |
اسی بارے میں ’ایسا انوکھا واقعہ پہلے نہیں دیکھا‘26 April, 2007 | پاکستان ’آزاد عدلیہ نہیں، آزاد جج چاہئیں‘11 April, 2007 | پاکستان پاکستانی حکومتیں، جج اور عدلیہ11 March, 2007 | پاکستان اخبار کا ایڈیٹر کئی روز سے ’لاپتہ‘18 January, 2007 | پاکستان کراچی سے بلوچ صحافی لاپتہ21 September, 2006 | پاکستان ’آزادی صحافت کے دعوے ڈھونگ‘02 May, 2005 | پاکستان ’سیاستدان دیوار کھڑی نہیں کرتے‘ 29 April, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||