BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 27 April, 2007, 22:43 GMT 03:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پیمرا پر پارلیمانی وزیر کی تنقید

پیمرا پر ایسے الزامات پہلے بھی لگائے گئے ہیں
پاکستان کے پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیر افگن نیازی نے اقرار کیا ہے کہ میڈیا کو ریگولیٹ کرنے والے ادارے ’پیمرا‘ نے دو ٹی وی چینلز کو سزا دینے کی خاطر انہیں نوٹس جاری کیے اور اس ادارے نے پارلیمان کو مذاق بنا رکھا ہے۔

انہوں نے قومی اسمبلی میں پیمرا کی جانب سے مختلف ٹی وی چینلز کو لائسنس منسوخ کیے جانے کے بارے میں جاری کردہ شو کاز نوٹس کے خلاف حزب مخالف کی جمع کرائی گئی چھ تحاریک التویٰ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں پیمرا کے مجاز حکام جواب ہی نہیں دے رہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حزب مخالف کی تحاریک پر بحث کرائی جائے اور معاملہ سٹینڈنگ کمیٹی کو بھجوایا جائے تاکہ پیمرا کے ذمہ داران افسران کے خلاف کارروائی کی جاسکے۔

وفاقی وزیر کے اس غیرمتوقع بیان کے بعد پارلیمانی امور کی پارلیمانی سیکریٹری ڈاکٹر عاشق فردوس اعوان نے وضاحت کی کہ پیمرا حکام کو رات گیارہ بجے جواب دینے کے لیے نوٹس ملا اور انہوں نے شیر افگن نیازی کے گھر فون کیا تو انہیں بتایا گیا کہ وہ دوائی کھا کر سو رہے ہیں۔

وزیر نے کہا کہ پیمرا والے غلط بیانی کر رہے ہیں کیونکہ وہ رات کو ساڑھے گیارہ بجے تک سوئے اور نہ ہی کوئی رات کی دوائی کھاتے ہیں۔

 یہ پہلا موقع ہے کہ ایک وفاق وزیر نے اقرار کیا ہے کہ پیمرا نے نجی ٹی وی چینلز کو سزا دینے کے لیے انہیں نوٹس جاری کیے ہیں اور حزب مخالف کی طرح وزیر نے بھی پیمرا حکام کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اس دوران حکومت کے دو ذمہ داران میں اختلاف رائے جب کھل کر سامنے آئے تو حزب مخالف کی جماعت پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنما راجہ پرویز اشرف نے بات کرنا چاہی لیکن سپیکر چودھری امیر حسین نے انہیں سختی سے منع کردیا۔

ڈاکٹر شیر افگن نیازی نے کہا کہ پیمرا والوں نے ایوان کا استحقاق مجروح کیا ہے اور انہوں نے ایوان کے تقدس کی کی بحالی کا حلف اٹھایا ہوا ہے اس لیے ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق پیمرا کے بورڈ کا اجلاس بھی کافی عرصے سے نہیں ہوا۔

پارلیمانی سیکریٹری عاشق فردوس اعوان نے کہا کہ ایسی بات نہیں ہے اصل میں پیمرا کو جواب دینے کے لیے ایک روز کی مہلت چاہیے اور وزیر کو اپنی انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔

ڈاکٹر شیر افگن نیازی نے کہا کہ رات کو پارلیمان سے گیارہ بجے نوٹس ملنے کی بات صریحاً جھوٹ ہے اور اس میں کوئی چکر ہے۔ ان کے مطابق ایسی غلط بیانی کرنے والوں کو ضرور سزا ملنی چاہیے۔

سپیکر چودھری امیر حسین نے کہا کہ حضرت علی کا قول ہے کہ ’جس سے نیکی کرو اس کے شر سے بچو‘۔ ان کے مطابق پیمرا کو رات کو گیارہ بجے نوٹس بھیجنے کی بات باالکل غلط ہے۔

اس دوران راجہ پرویز اشرف نے اس معاملے پر سختی سے زور دیا اور کہا کہ حزب مخالف کی تحاریک التویٰ پر بحث کا وقت مقرر کریں جس پر سپیکر نے انہیں کہا کہ انہیں اگر اس پر پریس کانفرنس کرنی ہے تو ایوان سے باہر کریں۔

حکمران اتحاد کے چیف وہپ سردار نصراللہ دریشک نے کہا کہ وہ اس بارے میں حزب مخالف کی جماعتوں کے نمائندوں سے بات کر کے معاملہ طے کریں گے۔

واضح رہے کہ آج ٹی وی اور رائل ٹی وی کی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ حکومت نے چیف جسٹس کی کوریج پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی نشریات متاثر کی ہیں اور انہیں نوٹس جاری کیا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ ایک وفاق وزیر نے اقرار کیا ہے کہ پیمرا نے نجی ٹی وی چینلز کو سزا دینے کے لیے انہیں نوٹس جاری کیے ہیں اور حزب مخالف کی طرح وزیر نے بھی پیمرا حکام کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

پیمرا کی مذمت
سینیٹ کے اندر اور باہر پیمرا پر تنقید
مست ایف ایمنہیں چلنے دیں گے
بی بی سی اردو کی نشریات پر پابندی
radio87 ایف ایم بند
غیر قانونی ایف ایم ریڈیو کے خلاف کارروائی
آج ٹی وی پیمرا کے ضابطے یا
’آج‘ ٹیلی ویژن کو بند کرنے کی دھمکی
آج ٹی وی پاکستان اور ٹی وی
’آج‘ ڈائریکٹ ٹکراؤ سے گریز کیوں کرے گا؟
ایم ریڈیو سٹیشننئے ایف ایم سٹیشن
پنجاب میں نو نئے ایف ایم ریڈیو سٹیشن منظور
میڈیا کی آزادیاے آر وائی پر بندش
اظہار کی آزادی پولیس کے رحم و کرم پر؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد