صدر کی درخواست نظر انداز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس نے صدر پرویز مشرف کے وکلاء کی طرف سے جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کی سماعت کے لیے تمام ججوں پر مشتمل فل کورٹ تشکیل دینے کی درخواست کو نظر انداز کر دیا ہے۔ جمعہ کی شام سپریم کورٹ کی طرف سے جاری کی جانے والی مقدموں کی ہفتہ وار فہرست جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست اسی پانچ رکنی بینچ کے سامنے لگائی گئی ہے جس پر صدر مشرف کے وکلاء نے اعتراضات اٹھائے تھے۔ صدر جنرل مشرف کے وکلاء نے اعتراض کیا تھا کہ سینئر ججوں کی موجودگی میں جونیئر ججوں پر مشتمل بینچ بنانا سمجھ سے بالا تر ہے۔ صدر پرویز مشرف کے وکلاء کا موقف ہے کہ ایسے چار جج جو سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی سے منسلک ہیں۔ ان کے علاوہ پانچ سینئر ججوں کو نظر انداز کر کے جسٹس جاوید بٹر، جسٹس ناصر الملک، جسٹس راجہ فیاض، جسٹس اعجاز احمد اور جسٹس حامد علی مرزا پر مشتمل بینچ تشکیل دیا گیا جس کی وجہ ان کی سمجھ سے بالا تر ہے۔
صدر جنرل مشرف کے وکلاء نے اعتراض کیا تھا کہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے، جسٹس نواز عباسی، جسٹس فقیر محمد کھوکھر اور جسٹس شاکر اللہ جان کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ جسٹس نواز عباسی اور جسٹس فقیر محمد کھوکھر صدر جنرل مشرف کے دور میں سیکرٹری قانون کے عہدے پر تعینات رہ چکے ہیں جبکہ خلیل الرحمن رمدے مسلم لیگ (نواز) حکومت میں وزیر مملکت چودھری اسد الرحمن اور سابق اٹارنی جنرل چودھری فاروق کے بھائی ہیں۔ پشاور ہائی کورٹ کے ایک جج جسٹس جہانزیب نے جسٹس افتخار محمد چودھری اور جسٹس شاکر اللہ جان پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے ان کا ایک مقدمہ خارج کرکے ان کو مالی نقصان پہنچایا تھا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان سینئر ججوں پر مشتمل تشکیل دے دیا جاتا تو الزام لگایا جا سکتا تھا کہ بینچ پنجابی ججوں پر مشتمل ہے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکلاء نے جمعرات کو سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کے دوران صدر جنرل مشرف کے وکلاء کی اس درخواست کی مخالفت کی تھی جس میں قائم مقام چیف جسٹس سے کہا گیا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے لیے تمام ججوں پر مشتمل بینچ تشکیل دیا جائے۔ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کےدوران جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکلاء نے کہا تھا کہ جب انہوں نے فل کورٹ تشکیل دینے کی درخواست کی تھی تو حکومت نے اس کی تحریری طور پر مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ یہ چیف جسٹس کی صوابدید ہے کہ وہ جو چاہے بینچ تشکیل دے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکلاء نے کہا تھا کہ جب پانچ رکنی بینچ تشکیل دے دیا گیا ہے تو اس میں تبدیلی کی ضرورت نہیں ہے۔ |
اسی بارے میں گرفتاریاں، بائیکاٹ، مظاہرے،گرمی 02 May, 2007 | پاکستان وکلاء کے خلاف ’انتقامی‘ کارروائی28 April, 2007 | پاکستان جسٹس پیٹیشن، اہم قانونی نکات 26 April, 2007 | پاکستان ’مجھے حراست میں رکھا گیا‘25 April, 2007 | پاکستان آئینی پٹیشن اور ریفرنس، تصادم کا خطرہ24 April, 2007 | پاکستان لاہور بار سے خطاب، پانچ مئی کو24 April, 2007 | پاکستان پشاور میں بھی پروٹوکول ملےگا19 April, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||