کراچی کی ’جنگ‘ کس نے جیتی؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بارہ مئی کو لڑی جانے والی سیاسی جنگ کون جیتا؟ اگر صرف شہر کے بیشتر علاقوں میں جا بجا گرتی ہوئی لاشوں کو دیکھا جائے تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ بارہ مئی کو ایک ایسی لڑائی لڑی گئی ہے جو بظاہر سب ہار گئے ہیں۔ اگر کسی کو اس بات پر شک ہے تو آئیے بارہ مئی کو کراچی میں کھیلے جانے والے خونی کھیل کے ہر کردار پر فرداً فرداً نظر ڈالتے ہیں۔ سب سے پہلے صدر مشرف کو لیجیئے۔ موجودہ عدالتی بحران کے اٹھتے ہی انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ چیف جسٹس نامی گولی ان کے لیے خاصی کڑوی ثابت ہوسکتی ہے۔ اس لیے پچھلے چند ہفتوں میں ان کی بھرپور کوشش رہی ہے کہ وہ اس سارے معاملے کو خالصتا ایک قانونی معاملے کے طور پر پیش کریں۔ ظاہر ہے کہ عدالتی بحران کا ایک واضح سیاسی رخ اختیار کر لینا نہ تو ان کی خواہش ہو سکتی ہے اور نہ ہی ان کے مفاد میں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہی صدر مشرف اس سارے معاملے پر فوج کے اندر پیدا ہونے والے جذبات سے بھی بے بہرہ نہیں ہونگے۔ پاکستانی فوج کے اندر قبائلی علاقوں اور بلوچستان کے معاملات پر پہلے ہی خاصی چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔ اب اگر ملک کا ایک اور صوبہ غیریقینی صورتحال کا شکار ہو جاتا ہے تو یہ کسی طور بھی صدر مشرف کے مفاد میں نہیں ہو سکتا۔
باخبر ذرائع کے مطابق ملکی سیاست کے عسکری آقاؤں کا خیال تھا کہ اگر ایم کیو ایم کی مقامی قیادت کو اقتدار کی سہولتوں کا مزہ چکھا دیا جائے تو پھر شاید وہ ہمہ وقت تصادم کی سیاست سے پرہیز کرنے لگے۔ ساتھ ہی ساتھ ان عسکری آقاؤں کا یہ بھی خیال تھا کہ مقامی قیادت کے ہاتھ اقتدار تھمانے سے شاید یہ پارٹی رفتہ رفتہ اپنی غیرملکی قیادت کے اثر سے آزاد ہونے لگے۔ لیکن بارہ مئی کے واقعات دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ تجربہ ابھی کامیابی کی پہلی سیڑھی تک بھی شاید نہیں پہنچا۔ ایسے میں ہو سکتا ہے کہ ایم کیو ایم کے عسکری آقا ایک بار پھر اس جماعت سے نالاں ہوجائیں اور ایم کیو ایم کو آئندہ انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ سے وہ سہارا نہ مل سکے جو ابھی تک اس کی سیاست کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ ان سب باتوں سے قطع نظر ایم کیو ایم کا شمار حکومتی حلقوں میں ہوتا ہے اور اس کی قیادت جو بھی کہے عام آدمی کی نظر میں امن و عامہ کی ذمہ داری ایم کیو ایم پر ہی رہے گی۔ اس کا ایک اشارہ ایم کیو ایم کے جلسہ میں شرکاء کی نسبتا محدود تعداد سے ہوتا ہے۔ اس پس منظر میں بارہ مئی کے ہنگامے کسی صورت بھی ایم کیو ایم کے مفاد میں نہیں۔ اب آئیے اس کھیل کے تیسرے کردار کی طرف جو پاکستان کے چیف جسٹس افتخار چوہدری ہیں۔
لیکن ان نیک ارادوں کے باوجود اگر پاکستان کے چیف جسٹس کسی بھی وجہ سے ایک خونی ڈرامے کا مرکزی کردار بن کر ابھرتے ہیں تو یہ یقینا ان کے مفاد میں نہیں ہے۔ رہ گیا حزب اختلاف تو پاکستان کی سیاسی روایت کچھ ایسی ہے کہ اقتدار سے باہر بیٹھی جماعتوں کو ہمیشہ مفاد پرست ہی سمجھا جاتا ہے۔ وہ اگر سو فیصد سچی بات بھی کر رہی ہوں تو عام تاثر یہی قائم ہوتا ہے کہ وہ موقع پرستی دکھا رہی ہیں۔ اس پس منظر میں ایک عام آدمی کی نظر میں بارہ مئی کو کراچی میں ہلاک ہونے والے 30 سے زیادہ لوگوں کا خون ناحق ملک کی سیاسی، عسکری اور عدالتی گردنوں پر یکساں جما ہے۔ اور جو جنگ ہر کوئی ہار جائے اس کے محرکات تلاش کرنا مشکل ہی نہیں کبھی کبھی نا ممکن ہو جاتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہی کہا جا سکتا ہے کہ بارہ مئی کے معرکے کا یا تو یہ مطلب ہے کہ صدر مشرف حکومتی معاملات پر اپنی گرفت تیزی سے کھو رہے ہیں یا پھر ان کے کسی عسکری ہمدرد نے کمال مہارت کے ساتھ ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں جن میں پورے ملک میں انصاف کا ذمہ دار چیف جسٹس 30 سے زیادہ ہلاکتوں کا براہ راست ذمہ دار نظر آئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||