ہمارے رپورٹرز سے: لمحہ بہ لمحہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سات بجکر ایک منٹ: علی سلمان، لاہور لاہور کی سڑکوں اور مختلف شاہراہوں پر پولیس کی نفری تعینات کی گئی ہے ایک پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر بھر کے پولیس افسران کو کہا گیا ہے کہ اگلی ہدایت آنے تک وہ سڑکوں پر موجود رہیں۔ چھ بج کر تیس منٹ، اعجاز مہر، اسلام آباد پارلیمان کے سامنے پی ٹی وی کی جانب سےاسلام آباد میں حکومتی جلسے کے شرکاء کو محظوظ کرنے کے لیے میوزیکل شو منعقد کیا ہے جس میں عارف لوہار سمیت کئی فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ کراچی میں ڈیڑھ درجن کے قریب افراد کی ہلاکت کے بعد وہاں شہر میں سوگ اور خوف کا منظر ہے لیکن اسلام آباد میں مسلم لیگ کے جلسے میں ہر طرف ڈھول اور شہنائیوں پر بھنگڑے ڈالے جارہے ہیں۔ سینکڑوں گاڑیوں میں پنجاب اور صوبہ سرحد کے مختلف شہروں سے ہزاروں لوگوں کو جلسہ گاہ پہنچایا گیا ہے۔ جلسہ گاہ میں ہر طرف صدر جنرل پرویز مشرف، چودھری شجاعت حسین اور پرویز الہٰی کی بڑی بڑی تصاویر لگی ہوئی ہیں۔ جلسے کے شرکاء کے لیے شربت کا بندوسبت کیا گیا ہے۔ جلسہ گاہ میں داخلہ کے دروازے پر سکینرز لگے ہیں اور ہر آدمی کی تلاشی لی جا رہی ہے۔ سیکورٹی کے پیش نظر سٹیج اور عوام کے درمیاں چالیس فٹ کے قریب فاصلہ رکھا گیا ہے۔ چھ بج کر تیرہ منٹ،علی سلمان، لاہور مقامی ٹی وی چینل ’آج” کے کراچی آفس پر حملے کے خلاف لاہور کی مال روڈ پر صحافیوں نے ایک احتجاجی جلوس نکالا اور حکومت،صدر مشرف اور ایم کیو ایم کے خلاف نعرے بازی کی صحافیوں نے پنجاب اسمبلی کے سامنے چیئرنگ کراس پر دھرنا دیا اس موقع پر صحافتی تنظیموں کے نمائندوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے اندر ریاست بنا دی گئی ہے انہوں نے آج ٹی وی پر حملے کی مذمت کی اور کہا صحافی گولی سے ڈر کر سچ بتانا بند نہیں کریں گے۔ احتجاج میں پنجاب اسمبلی کی قائد حزب اختلاف قاسم ضیا نے شرکت کی اور دھرنا دیا۔ پریس کلب کے سامنے تحریک انصاف اور شباب ملی کے کارکنوں نے ایم کیو ایم اور حکومت کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی انہوں نے نعرے لگائے قاتل قاتل ایم کیو ایم قاتل،گو مشرف گو،گولی لاٹھی کی سرکار نہیں چلے گی۔ لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں وکلاء نے احتجاجی مظاہرہ کیا اس موقع پر عدلیہ بچاؤ ایکشن کمیٹی کے عہدیداروں نے پیر کو وکلاء کی ایک احتجاجی ریلی نکالنے کا اعلان کیا۔ گوجرانوالہ میں سہ پہر چار بجے کے قریب وکلاء نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ پانچ بج کر پانچ منٹ، مانیٹرنگ، اسلام آباد ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے چیف جسٹس افتخار چوہدری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے کو اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے قوم سے معافی مانگیں۔ انہوں نے یہ بات تبت سنٹر پر ایم کیو ایم کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ الطاف حسین نے کہا کہ وہ ان تمام ججوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے ماضی میں پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر چیف جسٹس استفعی دے کر عدلیہ کی آزادی کے لیے دوبارہ میدان میں آئیں تو وہ ان کو یقین دلاتے ہیں کہ ایم کیو ایم ان کا بھرپور ساتھ دے گی۔ چار بجکر پچپن منٹ: احمد رضا، اسلام آباد کراچی میں واقع نجی ٹی وی چینل آج کے دفتر کے پارکنگ ایریا پر مسلح افراد نے حملہ کردیا اور وہاں کھڑی متعدد گاڑیوں کو نذر آتش کردیا۔ حملہ اس وقت کیا گیا جب ٹی وی چینل پر اسکے دفتر کے اطراف مورچہ بند مسلح افراد کو کھلے عام اسلحہ اٹھائے فائرنگ کرتے ہوئے دکھایا جارہا تھا اور یہ خبر نشر کی جارہی تھی کہ ٹی وی کے دفتر پر فائرنگ کی گئی ہے جبکہ اسکا عملہ کئی گھنٹوں سے محصور اور غیرمحفوظ ہے اور حکومت سندھ کی جانب سے سیکیورٹی کا منتظر ہے۔ حملہ کے وقت متحدہ قومی موومینٹ کے قائد الطاف حسین آج ٹی وی کے دفتر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہی بندر روڈ پر اپوزیشن کے خلاف ریلی سے خطاب کررہے تھے اور ان کا یہ خطاب آج ٹی وی کے سوا بعض دوسرے نجی ٹی وی چینلز پر براہ راست نشر کیا جارہا تھا۔ حملے کےدوران مسلح افراد کو جب آج ٹی وی چینل پر براہ راست گاڑیوں کو توڑ پھوڑ کرتے اور نذر آتش کرتے دکھایا جارہا تھا تو پس منظر میں دو بار نیوز کاسٹر کی آواز سنائی دی کہ اب وہ مزید نہیں بول سکتیں۔ اسکے کچھ دیر بعد ہی آج ٹی وی پر بھی الطاف حسین کی تقریر براہ راست نشر ہونا شروع ہوگئی۔ چار بجکر بیالیس منٹ: احمد رضا، اسلام آباد سنیچر کے روز کراچی اور ملک کے مختلف شہروں کے درمیان چلنے والی پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں جس سے مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ نجی فضائی کمپنی ائر بلیو کے اہلکار محمد ندیم نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی کمپنی نے کراچی ائرپورٹ کے لئے اور وہاں سے ملک کے مختلف شہروں کے لئے چلنے والی 14 پروازیں منسوخ کی ہیں جس کی وجہ کراچی ائرپورٹ کی ناکہ بندی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان پروازوں میں کراچی سے اسلام آباد، لاہور، گوادر، پشاور اور کوئٹہ کے لئے اور ان شہروں سے کراچی کے لئے چلنے والی تمام پروازیں منسوخ کی گئی ہیں۔ ان کے مطابق صبح 7 بجے سے لیکر شام ساڑھے چھ بجے تک کی تمام پروازیں منسوخ ہوئی ہیں تاہم رات ساڑھے نو بجے کراچی تا اسلام آباد اور 12 بجے اسلام آباد تا کراچی چلنے والی پروازوں کو آن شیڈول رکھا گیا ہے۔ ندیم نے بتایا کہ منسوخ ہونے والی پروازوں کے مسافروں کو ٹکٹ کی پوری رقم واپس کی جارہی ہے تاہم انہیں مسافروں کی جانب سے دباؤ کا سامنا ہے کیونکہ ’ہر ایک رات والی فلائٹس میں جانا چاہتا ہے۔،، تاہم انہوں نے کہا کہ جن پروازوں کو آن شیڈول رکھا گیا ہے ان کی روانگی کے بارے میں بھی یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پروازوں پر مسافروں کی اوسطاً تعداد 150 سے 200 کے درمیان ہوتی ہے اور پروازوں کی تنسیخ سے انہیں بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ دریں اثناء پی آئی اے نے بھی کراچی کے لئے اور وہاں سے ملک کے دوسرے حصوں کے لئے چلنے والے پروازیں منسوخ کردی ہیں تاہم بار ہار رابطہ کرنے کے باوجود پی آئی اے کے اہلکاروں سے بات نہیں ہوسکی۔ چار بجکر اکتیس منٹ: ریاض سہیل، کراچی شاہراہ فیصل پر بلوچ پل کے قریب فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے اورشاہراہ پر واقع فارن آفس کی عمارت پر ایک پختون سیاسی جماعت کے کارکنوں نے قبضہ کرلیا ہے۔قابض جماعت کے کارکنوں کی جانب سے مخالف جماعت کے خلاف نعرے بازی جاری ہے۔ چار بجکر انتیس منٹ: اعجاز مہر، کراچی اسلام آباد میں حکمران مسلم لیگ کے مختف علاقوں سے جلوس پہنچنا شروع ہوگئے ہیں اور سینکڑوں افراد جلسہ گاہ میں داخل ہوچکے ہیں۔ لیکن اب بھی پریڈ گراؤنڈ کا کافی حصہ خالی ہے۔ چار بجکر دس منٹ: احمد رضا، کراچی ملک میں مفت ایمبولینس فراہم کرنے والے سب سے بڑے نجی نیٹ ورک کے چیف والینٹئر رضوان ایدھی نے بتایا ہے کہ کراچی کے علاقے ملیر سے دو زخمیوں کو ہسپتال لے جانے والے ڈرائیور فیض الرحمان کو مسلح افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا اور اسکے بعد ان دونوں زخمیوں کو بھی گولیاں مارکر ہلاک کردیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس واقعے کا عینی شاہد ان کی ایک دوسری ایمبولینس کا ڈرائیور ہے۔ ’دونوں ایمبولینس ساتھ ساتھ آرہی تھیں لیکن مسلح لڑکوں نے اس ڈرائیور کو چھوڑ دیا۔،، دریں اثناء رضوان ایدھی نے بتایا کہ انہیں اور ایدھی ویلفیئر ٹرسٹ کے سربراہ عبدالستار ایدھی کے بیٹے فیصل ایدھی کو کراچی کے علاقے کالا پل کے قریب بعض مسلح افراد نے کچھ دیر یرغمال بنائے رکھنے کے بعد چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ اس علاقے میں کچھ لوگ زخمی ہیں جس پر وہ ایمبولینس لیکر وہاں گئے تھے تاہم بعض مسلح افراد نے انہیں یرغمال بنالیا اور کچھ دیر بعد چھوڑ دیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے علاقے سے دو زخمیوں کو اٹھاکر ہسپتال پہنچایا جنہیں کالا پل کے قریب پارکنگ ایریا میں ایک کونے میں لے جاکر گولیاں ماری گئیں لیکن وہ زندہ تھے اور انہیں بروقت ہسپتال پہنچادیا گیا۔ چار بجکر چھ منٹ: مانیٹرنگ، اسلام آباد کراچی میں آج ٹیلیوژن کے دفتر کے آس پاس فائرنگ کا سلسہ جاری ہے اور آج ٹی وی پر دکھائی جانے والی تصاویر میں خود کار اسلحہ سے لیس افراد کو مسلسل مختلف اطراف میں فائرنگ کرتے ہوئے دکھایا جا رہا ہے۔ آج ٹی وی کی تصاویر میں اسلحہ بردار لوگوں کو کھلم کھلا گاڑیوں سے خودکار بندوقیں نکالتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس دوران سندھ کے سیکریٹری داخلہ نے آج ٹی وی کو سیکیورٹی مہیا کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے لیکن تاحال رینجرز ٹی وی کے دفتر کے قریب نہیں پہنچ سکے۔ دریں اثنا آج ٹی وی کے اسلام آباد میں موجود عملے نے اپنے دفتر کے باہر کراچی کی صورتحال کی خلاف مظاہرہ کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جلد از جلد ٹی وی کو سیکیورٹی فراہم کرے۔ تین بجکر سینتیس منٹ: ریاض سہیل، کراچی کراچی میں شاہراہ فیصل پر واقع بلوچ پل سے اے این پی کے جلوس پر بلاک پھینکنے کے نتیجے میں سات افراد زخمی ہو گئے ہیں۔زخمی ہونے والے افراد کافی دیر تک جائے وقوعہ پر پڑے رہے۔ بعد ازاں زخمیوں کو قریبی پٹرول پمپ پر منتقل کردیا گیا۔جلوس کے شرکاء نے بتایا کہ جلوس پر فائرنگ بھی کی گئی۔ فائرنگ اور بلاک پھینکے جانے کی وجہ سے موقع پر موجودگاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ دو بجکرچھپن منٹ: احمد رضا، اسلام آباد پاکستان میں مفت ایمبولینس سروس فراہم کرنے والے سب سے بڑے نجی نیٹ ورک کے چیف والینٹئر رضوان ایدھی نے بتایا ہے کہ انہیں کالا پل کے قریب مسلح افراد نے یرغمال بنایا ہوا ہے۔ بی بی سی کے رابطہ کرنے پر وہ صرف اتنا کہہ سکے کہ ’اس وقت میں نرغے میں ہوں لڑکوں کے، گنیں ہمارے اوپر ہیں آپ تھوڑی دیر بعد فون کریں۔کالا پل کے قریب پھنسا ہوا ہوں۔ پلیز پلیز پلیز تھوڑی دیر بعد فون کریں، ہمارے ڈرائیور کو بھی ماردیا ہے۔، دو بجکر چون منٹ: علی سلمان، لاہور کراچی میں ہونے والے واقعات پر لاہور اور ملتان میں وکلاء نے متحدہ قومی موومنٹ اور حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے اور نعرے بازی کی۔ ملتان میں کچہری چوک پر وکلاء نے دھرنا دیا اور آدھ گھنٹے سے زائد وقت تک ٹریفک بلاک کیے رکھی وہ نعرے لگا رہے تھے کہ ’الطاف حسین مردہ باد”، ایم کیو ایم مردہ باد”، ’ٹیکسی ڈرائیور مردہ باد”،’گو مشرف گو”۔ جلوس کی قیادت ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان بنچ کے صدر حبیب اللہ شاکر کر رہے تھے احتجاجی مظاہرے دوران انہوں بی بی سی ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کو مارشل لاء کی طرف لے جانے کی ایک سازش ہے لیکن وکلاء اسے ناکام بنائیں گے انہوں نے کہا کہ ان کا مطالبہ جنرل مشرف کے مستعفی ہونے کےبعد آئین کے مطابق انتخابات کروائے جائیں۔ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ایک ہنگامی اجلاس میں قرارداد مذمت پیش کرنے کے بعد سینکڑوں وکلاء ایم کیو ا یم ،صدر مشرف اور الطاف حسین کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے سڑک پر آگئے اور ایوان عدل سے قریب ہی واقع پی ایم جی چوک تک مارچ کی اور دھرنا دیا۔ لاہور ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر احسن بھون ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں کراچی کے واقعات کی مذمت کی ہے۔ دو بجکر پچیس منٹ: اعجاز مہر، اسلام آباد نجی ٹی وی چینل آج کے کراچی میں واقع دفتر پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی ہے۔ اس سے پہلے اسلام آباد اور راولپنڈی کے کئی علاقوں میں آج ٹی وی چینل کی نشریات سوا دو بجے اس وقت بند ہوگئی تھی جب براہ راست اس چینل پر ایک الٹو کار میں سوار شخص کلاشنکوف سے فائرنگ کر رہا تھا۔ فائرنگ کرنے والے کے بارے میں تو معلوم نہیں لیکن جس کار سے وہ فائرنگ کر رہا تھا اس کے ساتھ ایک موٹر سائیکل کھڑا تھا جس پر ایم کیو ایم کا پرچم لگا ہوا تھا۔ چند منٹ کے وقفے کے بعد اس چینل کی نشریات بحال ہوگئیں۔ دو بجکر کر دس منٹ: نثار کھوکھر، کراچی جناح ہسپتال میں ڈیوٹی پر موجودشعبہ حادثات کی انچارج ڈاکٹر شیریں جمالی کے مطابق اب تک سات لاشیں لائی جا چکی ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں سے ایدھی ایمبولینس سروس کا ڈرائیور فیض الرحمن، سنی تحریک کے رہنما سہیل قادری اور مسلم لیگ نواز کے کارکن اصغر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ چونتیس افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ایک بجکر اکتالیس منٹ: علی سلمان، لاہور پنجاب کے مختلف شہروں سے حکمران مسلم لیگ کے قافلے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگئے ہیں جہاں ایک بڑی ریلی منعقد کی جارہی ہے۔لاہور سے ایک ہزار سے زائد گاڑیوں کا ایک قافلہ وزیر اعلی پنجاب کے صاحبزادے مونس الہی کی قیادت میں پاکستانی وقت کےمطابق صبح پونے گیارہ بجے لاہور کے ٹھوکر نیاز بیگ چوک سے روانہ ہوا۔ قافلہ میں لوگ بڑی تعداد شریک تو تھے لیکن اس جوش و جذبے سے عاری محسوس ہوتے تھے جو چیف جسٹس کی ریلیوں کے شرکاءمیں پایا جاتا ہے۔ گاڑیوں پر حکمران مسلم لیگ کے جھنڈے اور صدرپرویز مشرف اور وزیر اعلی چودھری پرویز الہی کی تصاویر لگی تھیں۔ قافلے کے منتظمین نے اس بات کا خاص خیال رکھا تھا کہ بسیں اور ویگنیں خالی نہ جائیں ٹھوکر نیاز بیگ پر حکمران مسلم لیگ کا ایک کیمپ لگا تھا جس میں حاضری لگائی جاتی رہی ہر بس کاایک منتظم تھا جو بس کے شرکاء کی فہرست کیمپ میں دکھاتا اور کیمپ منتظمین میں سے کوئی ایک بس میں جھانک کر تعدادکا سرسری جائزہ لےلیتا۔ٹھوکر نیاز بیگ چوک پر بسوں کے شرکاء کو کھانے کے ڈبے ان کی حاضری کے مطابق فراہم کردئیے گئے۔ مونس الہی کے پاس حکمران مسلم لیگ کا کوئی عہدہ نہیں ہے لیکن عملی طور پر لاہورمیں سیاسی محاذ وہ ہی سنبھالےہوئے ہیں۔ پونےگیارہ بجے وہ اپنی گاڑی میں جلوس کی قیادت کرتے ہوئے روانہ ہوئے تو ان کےہمراہ صوبائی وزیر عبدالعلیم خان،ضلعی ناظم میاں عامر محمود اورمیاں منیر بھی تھے۔ جلوس کے شرکاءکو بتایا گیا تھا کہ ٹول پلازہ پر خصوصی کیمرےلگائےگئے ہیں تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ کس کی بس میں کتنےلوگ تھے۔ اس جلوس کے لیے بسوں کی پکڑ دھکڑ دوروز سے جاری تھی اور لاہور کے قذافی سٹڈیم اور مینار پاکستان کی گڈی گراؤنڈ میں انہیں اکٹھا کیا جاتا رہا۔ شرکاء کو اکٹھا کرنے اور ان کےلیے کھانے اور گاڑیوں کا انتظام کرنے کے لیے صوبہ بھر کے بلدیاتی نمائندوں کو ہدائت کی گئی تھی لیکن حکمران مسلم لیگ نے کہا ہے کہ اس ریلی کے اخراجات خود مسلم لیگی عہدیدار برداشت کریں گے۔ گوجرانوالہ میں مقامی انتظامیہ نے بسیں اور ویگنیں پکڑ گوجرانوالہ کے مسلم لیگی عہدیداروں اور وزراء کے گھروں تک پہنچا دی تھیں جو سنیچر کی صبح اسلام آباد کی جانب روانہ ہوگئیں۔ پنجاب کے مختلف شہروں سے قافلہ اسلام آباد پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔ ایک بجکر پینتیس منٹ، کراچی بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق کراچی کے علاقے ملیر میں چارگاڑیوں کو آگ لگا دی گئی ہے۔ ملیر کے علاقے میں ہی فائرنگ کے واقعات میں چار افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے جن میں سے تین کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی جبکہ ایک کا تعلق اے این پی سے ہے۔ ایک بجکر تیس منٹ: اعجاز مہر، اسلام آباد پارلیمان کے سامنے صدر جنرل پرویز مشرف کی حمایت میں حکمران مسلم لیگ کے جلسے کا سٹیج سج چکا ہے اور لوگوں کی آمد شروع ہوگئی ہے۔ ڈیڑھ درجن سے زائد کنٹینرز رکھ کر سٹیج تیار کیا گیا ہے ہر طرف صدر جنرل پرویز مشرف، قائد اعظم، چودھری شجاعت حسین اور پرویز الہیٰ کی دیو قامت تصاویر، بینر اور پرچم لگے ہیں۔ سیکورٹی کے انتظامات انتہائی سخت ہیں اور جلسہ گاہ میں داخلہ کے لیے سکینرز لگائے گئے ہیں۔ انٹیلی جنس اور سپیشل برانچ کی بیسیوں اہلکاروں کے ساتھ ساتھ اسلام آباد اور راولپنڈی پولیس کے اہلکار تعینات ہیں جبکہ رینجرز کے دستے گشت کر رہے ہیں۔ کیپیٹل ڈیولپمینٹ اتھارٹی یعنی ’سی ڈی اے، کی گاڑیوں پر مسلم لیگ کے پرچم لگے ہیں۔ حکومتی انتظام میں رفع حاجت کے لیے عارضی باتھ روم قائم کیے گئے ہیں جہاں سرکاری وردی پہنے خاکروبوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ جلسہ گاہ میں سی ڈی اے کے ملازمین اور گاڑیوں کی موجودگی سرکاری وسائل استعمال نہ کرنے کے حکومتی دعوے کی نفی کر رہی ہے۔ پریڈ گراؤنڈ کی دونوں اطراف پینے کے پانی سبیلیں لگائی گئی ہیں جبکہ قناتیں لگا کر کیمپ بھی قائم کیے ہیں۔ جہاں صدر مشرف اور دیگر رہنماؤں کی تصاویر والے کتبوں کے ڈھیر لگے ہیں۔ اسلام آباد میں واقع مسلم لیگ ہاؤس کے سامنے دوپہر تک بیس کے قریب گاڑیاں اور چند درجن مسلم لیگی کارکن کھڑے نظر آئے۔ مسلم لیگ کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کی حمایت میں پنجاب اور صوبہ سرحد کے بعض شہروں سے جلوس اسلام آباد کے لیے روانہ ہوچکے ہیں۔ ایک بجے دن: بیورو رپورٹ، کراچی پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے کہا ہے کہ ان کے جلوس کے سات سے آٹھ ہزار کارکنوں کو کراچی کنٹونمنٹ بورڈ کے پاس روک لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے شاہراہ فیصل کو میدان جنگ بنا دیا ہے۔ شیری رحمبن کے مطابق ابھی ان کو کچھ پتا نہیں کہ ان کا جلوس آگے بڑھ سکے گا یا انہیں وہیں سے واپس جانا پڑے گا۔ دوسری جانب ایم کیو ایم کی رہنما نسرین جلیل نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی کسی بھی صورت میں تصادم نہیں چاہتی اور وہ چاہتے ہیں کہ آج کا دن امن وار سکون سے گزر جائے۔ نسرین جلیل نے تمام سیاسی کارکنوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے جذبات قابو میں رکھیں اور صور تحال کو انتشار کا شکار ہونے سے بچائیں۔ چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن کے مطابق چیف جسٹس کو طیارے سے نکلتے وقت اغوا کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے ائیرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقامی انتظامیہ کا شاید یہ ارادہ تھا کہ چیف جسٹس کو سیکیورٹی کے بہانے کسی نامعلوم مقام پر لے جا کر محصور کر دیا جاتا اس لیے انہوں نے حکومتی اہلکاروں کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ جب تک حکومت تمام رستے کھول نہیں دیتی اور چیف جسٹس کے حامیوں کو ان کا آزادانہ استقبال نہیں کرنے دیتی، وہ ائیرپورٹ پر ہی بیٹھے رہیں گے۔ بارہ بجکر ستاون منٹ: مسعود عالم، کراچی چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری کراچی پہنچ گئے ہیں، لیکن ایئرپورٹ کو جانے والے تمام راستے بند ہونے کی وجہ سے ان کے پروٹوکول کے لیے بھیجی گئی سرکاری گاڑی بھی ان تک پہنچنے میں ناکام ہونے کے بعد واپس ہائی کورٹ آ گئی ہے۔ جسٹس افتخار جب باقی مسافروں کے ساتھ لاؤنج میں پہنچے تو حکام انہیں دوسری طرف لے گئے، جہاں رینجرز کے کچھ باوردی افسر بھی موجود تھے۔ جسٹس افتخار کے قریبی ذرائع کے مطابق حکومت کہہ رہی ہے کہ وہ سندھ ہائی کورٹ تک صرف ہیلی کاپٹر کے ذریعے جا سکتے ہیں۔ بارہ بجکر باون منٹ: نثار کھوکھر، کراچی سندہ حکومت کی جانب سے شہر کے راستے مکمل بند رکھنے کے باوجود پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کی طرف سے شہر کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔ جبکہ فائرنگ اور تشدد کے واقعات میں لانڈھی کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے سنی تحریک کے کارکن سہیل قادری کو قتل کردیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے جلوس پر شاہراہ فیصل پر ڈرگ روڈ پر فائرنگ متعدد کارکنان زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ایم کیو ایم اور پی پی کارکنان کے درمیان کشیدگی ۔شاہراہ فیصل پر ایک گاڑی کو آگ لگا دی گئی۔ جلوس میں شامل پی پی کے رکن سندہ اسمبلی ایاز سومرو نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی جماعت کے پانچ کارکن زخمی ہو گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شاہراہ فیصل پر ناتھا گوٹھ کے اوور ہیڈ برج پر ایم کیو ایم کے مسلح کارکنان کھڑے تھے جنہوں نے جلوس پر شدید فائرنگ کر دی۔ پی پی کے جس جلوس پر فائرنگ ہوئی ہے اس کی قیادت پی پی سندہ کے رہنما سید قائم علی شاہ،شیری رحمان، سید خورشید شاہ نثار کھڑو اور دیگر رہنما کر رہے تھے۔ دوسری جانب ملیر ڈسٹرکٹ بار کے ایک جلوس پر شاہراہ فیصل کے ملیر ہالٹ والے علاقے میں فائرنگ ہوئی ہے۔ ملیر بار کے ارکان کے مطابق ان پر ایم کیو ایم کے کارکنوں نے فائرنگ کی ہے۔ ملیر بار کے وائس چیئرمین اشرف سموں کے مطابق ان کے پانچ وکلا زخمی ہوئے ہیں اور وہ زخمی حالت میں روڈ پر پڑے ہیں ان کو ہسپتال اٹھانے کی کوشش کرنے والوں پر بھی فائرنگ ہو رہی ہے۔ دوسری جانب بنارس چوک پر عوامی نیشنل پارٹی کے ایک جلوس پر فائرنگ کی اطلاعات ملی ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی رہنما امین خٹک کی سربراہی میں کا رکنان نے سپر ہائی پر احتجاجی مظا ہرہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے کارکنان چیف جسٹس کے استقبال کے لیے ایئر پو رٹ جا رہے تھے لیکن ان کو ایم کیو ایم کے مسلح کارکنان نے راستے میں روک دیا ہے۔ گیارہ بجکر آٹھ منٹ: ریاض سہیل، کراچی کراچی میں چیف جسٹس آف پاکستان کی آمد کے موقع پر کراچی بار کے ایک جلوس پر حملہ ہوا ہے جس میں بیس سے زائد وکلا زخمی ہو گئے ہیں۔ کراچی بار کے ایک رکن آفتاب ایڈووکیٹ کے مطابق جب وہ جلوس لے کر ایم اے جناح روڈ پر داخل ہورہے تھے تو ان پر پتھراؤ شروع ہوگیا۔ پتھراؤ کے نتیجے میں خود ان کے سمیت بیس سے زائد وکیل زخمی ہوگئے۔ دریں اثنا تشد د کے واقعات کے بعد سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس چیف جسٹس کے چیمبر میں مو جود سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے رکن یاسین آزاد کے مطابق سی پی او اظہر فاروقی نے چیف جسٹس کو بتایا کہ وہ ان کے احکامات پر عمل درآمد نہیں کرا سکتے۔ جس پر چیف جسٹس نے سندھ کے چیف سیکریٹری، آئی جی پولیس اور ہوم سیکریٹری کو طلب کرلیا۔ سندھ ہائی کورٹ کے چاروں طرف رکاوٹوں کی وجہ سے ہائی کورٹ کے کئی جج بھی پیدل چل کر اپنے دفاتر پہنچے۔ ایک اور اطلاع کے مطابق تشدد کے ایک اور واقعے میں نامعلوم افراد نے کراچی بار کے ویمن ونگ کے دفتر کو پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی ہے۔ دس بجکر بیس منٹ: بیورو رپورٹ، اسلام آباد اسلام آباد سے آنے والی اطلاعات کے مطابق جسٹس افتخار محمد چودھری اسلام آباد سے کراچی کے لیے پی آئی اے کی پرواز PK-301 اپنے وکیل اعتزاز احسن کے ہمراہ روانہ ہو گئے ہیں۔ اس سے پہلے کراچی جانے والی ایک اور پرواز جس میں راولپنڈی اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے وکلاء نے کراچی جانا تھا منسوخ کردی گئی اور یہ خدشہ پیدا ہو چلا تھا کہ کہیں چیف جسٹس کی پرواز کا شیڈول بھی متاثرنہ ہو جائے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||