عدالتی ہڈی اور سیاسی گلے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے غیر فعال چيف جسٹس افتخار چودھری کی لاہور یاترا کو اگر بہت بڑھا چڑھا کر نہ بھی بیان کیا جائے تو بھی شاید ہی کوئی ایسا سیاسی مبصر ہوگا جو اس کی سیاسی اہمیت سے انکار کرسکے۔ یہ پہلی بار نہیں کہ ملک کی عدلیہ اور انتظامیہ میں ٹھن گئی ہو۔ نواز شریف دور میں سپریم کورٹ پر ہونے والا حملہ آج بھی پاکستان کی عدالتی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں شمار ہوتا ہے۔ لیکن ایسا شاید ہی کبھی ہوا کہ ایک عدالتی افسر خواہ وہ چیف جسٹس ہی کیوں نہ ہو کسی فوجی حکمران کے خلاف ایک ملک گیر تحریک کا بانی ہو گيا ہو۔ مشرف حکومت کے حمایتی کہتے ہیں کہ یہ سارا معاملہ صدر مخالف سیاسی جماعتوں نے بگاڑا ہے اور انہوں نے بار بار حزب اختلاف سے اپیل بھی کی ہے کہ وہ ایک قانونی جنگ کو سیاسی رنگ نہ دیں۔ دوسری جانب حزب مخالف کا کہنا کہ چیف جسٹس کی بڑھتی ہوئی حمایت دراصل صدر مشرف کی پالیسیوں کے خلاف عوامی غم و غصہ کا وہ لاوا ہے جسے موجودہ عدالتی بحران نے ایک باقاعدہ دھارے کی شکل دے دی ہے۔
صدر کے حمایتی کہتے ہیں کہ جو ہو رہا ہے وہ ملکی مفاد میں نہيں ہے کیونکہ اس سےعدلیہ سیاست کی لپیٹ میں آجائے گی، جبکہ ان کے مخالف کہتے ہیں کہ جسٹس چودھری کی اس تحریک کی کامیابی میں ہی ملک کی بقا ہے کیونکہ ان کی جیت ہی عدلیہ کی آزادی کی ضمانت ہے۔ اس کشمکش میں ہمارا محاوراتی شخصِ عام مخمصے کا شکار ہے کہ کس کی بات مانے اور کس کی نہ مانے۔ اور کیونکہ شخصِ عام کا ہاتھ قانونی پیچيدگیوں سے قطع نظر سیاست کی نبض پر ہوتاہے تو کیوں نہ ہم اس سارے معاملے پر ایک خالصتاً سیاسی نظر ڈالیں۔ شاید یوں ہی یہ معاملہ سلجھانے میں مدد ملے۔ سب سے پہلے تو اس مقدمے کے دو منطقی نتائج پر نظر ڈالتے ہیں۔ یا تو جسٹس چودھری یہ مقدمہ ہار جائیں گے یا وہ جیت جائیں گے۔ ہارنے کی صورت میں یہ حقیقت امر ہو جائے گی کہ پاکستان میں عدلیہ ، انتظامیہ سے ٹکر نہيں لے سکتی اور آئندہ آنے والا کوئی بھی چیف جسٹس اس طرح کی جرآت شاید نہ کر سکے۔ پاکستان کی عدلیہ ایک طرح سے ہمیشہ ہمیشہ انتظامیہ کی ماتحت ہوجائے گی۔ پھر نہ تو کوئی سستی نجکاری کے خلاف آواز اٹھائے گا اور نہ ہی کوئی لاپتہ افراد کا چارہ ساز اور غمگسار ہوگا۔اور کل کا کوئی حکمران جب کسی عدالتی افسر کو گھر بٹھا کر استعفی دینے کو کہے گا تو وہ افسر انکار کی جرات نہ کر پائے گا۔ وہ سیاسی جماعتیں بھی جو ہمیشہ سے اپنی سیاسی جنگیں عدالتوں میں لڑتی آئی ہیں انہیں اپنا سیاسی قبلہ، کارکنوں اور سیاسی اصولوں کی طرف واپس موڑنا ہوگا۔ یقینا یہ صورتحال کسی کو بھی قابل قبول نہ ہوگی۔ دوسری صورت یہ ہوسکتی ہیں کہ سپریم کورٹ جسٹس چودھری کے خلاف قائم کردہ جوڈیشیل کونسل توڑ دے اور ان کو مکمل اختیارات کے ساتھ بحال کردے۔ اس صورت میں جسٹس چودھری پاکستانی تاریخ کے طاقتور ترین چیف جسٹس بن کر ابھریں گے۔ وہ ملک کی تاریخ کے واحد عدالتی افسر ہونگے جن کو ملک بھر سے سیاسی حمایت بھی حاصل ہو گی اور ان کے پاس چھ سال کا ایک لمبا عرصہ ہوگا جس میں غالباً وہ جو چاہیں کر سکیں۔ان کی بحالی سے ایک نئے سیاسی عمل کا آغاز ہوگا جو رفتہ رفتہ آمر حکمرانوں کی جڑوں کو گھن کی طرح چاٹنے لگے گا۔ بظاہر تو لگتا ہے کہ اس صورتحال کا وہ سیاسی جماعتیں خیرم قدم کریں گی جو اس وقت چیف جسٹس کی قانونی جنگ میں ان کا ساتھ دے رہی ہیں۔ لیکن اگر آپ پاکستان کی عدالتی اور سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایسا سوچنے والے عقل اور سیاسی سوجھ بوجھ سے عاری نظر آئیں گے۔
ایسا کب ہوا ہے کہ پاکستان کی کسی فوجی یا سیاسی حکومت کو ایک طاقتور چیف جسٹس راس آیا ہو؟ ذرا جسٹس سجاد علی شاہ کی زندگی پر نظر ڈالیں۔ ان کا انجام افسوس ناک ہی نہیں عبرت ناک بھی تھا۔ان کے دور میں سپریم کورٹ پر حملہ ہوا، ملک کی تاریخ میں پہلی بار دو سپریم کورٹوں نے دفتر لگایا اور ان کو ایسے حالات میں گھر جانا پڑا جب ان کے اپنے ساتھی ان کو ایک مہذب الوداعی سلام کرنے کو تیار نہ تھے۔ شاید اس وقت ایسا کہنا غیر مقبول ہولیکن حقیقت یہ ہی ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ جسٹس چودھری ایک ایسی ہڈی بنتے جارہے ہیں جو صرف صدر مشرف کے ہی نہيں بلکہ ہر سیاسی جماعت کے گلے میں پھنس سکتی ہے۔ کچھ مبصرین کے خیال میں صرف ایک ہی راستہ ہے کہ صدر مشرف اور ملک کی سیاسی جماعتیں خود کو اس تکلیف دہ مستقبل سے بچا سکیں۔ اور یہ وہ راستہ ہے جو ڈیل کے بے اصول خود غرض اور موقع پرست سمندر میں جا ڈوبتا ہے ۔ان مبصرین کے مطابق چیف جسٹس کی لاہور یاترا نے ملک کی سیاسی صورتحال کو بے جا اس راستے پر دھکیل دیا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جسٹس چودھری جب اپنے سیاسی قافلے سمیت اس سمندر ميں اتریں گے تو ان کے سیاسی حمایتی تو صدر مشرف کے ساتھ ڈیل کی کشتی میں سوار کسی نہ کسی کنارے لگ ہی جائیں گے۔ لیکن جسٹس چودھری کو بے یار و مددگار غوطے کھاتا دیکھ کر ان کے ہم عصر اور وارث آئندہ کبھی کسی فوجی حکمران کے خلاف سیاسی حمایت کے بل بوتے پر کسی قسم کا اصولی موقف اپنانے سے ہمیشہ کے لیے توبہ کر لیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||