جرنیلوں کا فاتح یا جرنیلی سڑک کا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگر کسی نے آج تک گرینڈ ٹرنک روڈ عرف جرنیلی سڑک پر لاکھوں لوگوں کے دل فتح کیے ہیں تو وہ پاکستان کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری ہیں جو پانچ مئی کو اسلام آباد سے چلے تھے اور چھ مئی کو لاہور پہنچے۔ وہ گذشتہ اتوار کو پو پھٹے ہزاروں شہریوں اور وکیلوں کے جلو میں ایک انقلاب(چاہے اسکا ایک ٹریلر ہی سہی) کی طرح لاہور میں داخل ہوئے ہوں گے۔ فیض احمد فیض کی نظم کی بجتی تیز رنگ ترنگ میں کہ ’ہم دیکھیں گے لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے، ہم دیکھیں گے جب محکوموں کے پاؤں تلے یہ دھرتی تھر تھر کانپے گي ۔۔۔۔‘ جس دن چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اپنے گھر ججز کالونی اسلام آباد سے پانچ مئي کو چلے تھے اس دن کو میرے شہر سان ڈیاگو میں ہسپانوی بولنے والے میکسیکو کے لوگ ’سنکو ڈی مایو‘ نامی ایک جشن کے طور مناتے ہیں کیونکہ پانچ مئی اٹھارہ سو چھیاسٹھ کو میکسیکو کی فوجوں نے اپنے ملک پر فرانسیسی مداخلت روک دی تھی۔
اسی دن پاکستانی چینل پر معطل چیف جسٹس کے جلوس کی فوٹیج دیکھ کر میری میکسیکن ہمسائی نے مجھ سے پوچھا کیا آج پاکستان میں بھی ’سنکو ڈی مایو‘ ہے؟ اسی دن پاکستان کے چیف جسٹس جرنیلی سڑک پر جرنیلوں کو اخلاقی شکست سے ہمکنار کر چکے تھے۔ گوجر خان سے لاہور تک کے درمیاں لاٹھی چارج، آنسو گیس، گولی اور آتشزنی کے باوجود ہزاروں لوگوں کا والہانہ استقبال واقعی ایک ریفرنڈم تھا جو کسی بھی مہذب معاشرے میں مرغوں کو اپنے ڈربوں اور فوج کو بیرکوں میں جانے پر مجبور کردیتا لیکن یہ پیارا پاکستان تھا جہاں جرنیلوں کی مضبوط ناک اور انا پر عوامی خواہشات اور ملکی مفادات کی بلی چڑھائي جاتی ہے۔ صدیوں سالوں سے اسی پنجاب اور اسکی جرنیلی سڑک پر سے بڑے بڑے دبنگ، ظالم اور جابر فاتح اور حکمران گزرے ہیں، ہاتھیوں اور ساتھیوں کے جلو میں تیر، تفنگ، توپیں اور مارشل لائيں اور مارشل لاء نما مصبتیں لیے، لیکن عوامی قافلوں کے پیچھے اٹھتی ہوئی دھول میں غائب ہوگئے۔ ان کے برعکس وہ جو لوگوں کے دلوں میں ہیں داستانوں کے روپ میں دائم رہے ہیں دریائے جہلم و سندھ کی طرح۔ شاید سرائے عالمگیر سے لیکرسندھ ، اورپشاور سے بولان تک چیف جسٹس چودھری افتخار محمد اب ایک عوامی کردار بنا ہوا ہے۔
ایک ایسا انکاری کردار جس نے ملک میں جرنیلوں کی طاقت اور لاقانونیت کے آگے گھٹنے ٹیکنے کی بجائے ملک میں قانون کی بالادستی کی بات کی ہے۔ لکیر کھینـچی جا چکی ہے، طبل بج چکا ہے۔ ایک وہ جرنیل اور انکے حاشیہ بردار شیدے پستول ٹائپ ہیں جو لاقانونیت کے پروردہ ہیں۔ قاسم جلالی کے ڈرامے ’شمع‘ میں اداکار جمشید انصاری کا کردار تھا ’میرے پاس چقو ہے چقو‘ بالکل اسی طرح وزیر اعظم شوکت عزیز کے پاس’ایمرجنسی‘ کےہتھیار والے اختیارات ہیں۔ اور دوسری طرف انصاف اور قانون کی بالادستی سے محروم عوام ہے جسے پاکستان جیسے ملک میں امید کی چھوٹی سی کرن چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے روپ میں دیکھنے کو ملی ہے۔
میں سوچ رہا ہوں اس بچارے پاکستان کے عوام کا کیا ہوگا؟ اگر جنرل اپنی انا اور ضد چھوڑ کر خاموشی سے چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس واپس لیتے ہوئے انہیں اپنے عہدے پر بحال کردیں۔ اگر پاکستان کے جنرل اور جج اتنے عاقبت اندیش ہوتے تو اکثر عوام آج تک بھٹو کا رونا نہ رو رہے ہوتے۔ آپ نے سنا کہ سابق جسٹس نسیم حسن شاہ نے بھی اب کہہ دیا کہ انہوں نے بھٹو کے خلاف پھانسی کے فیصلے پر دستخط ’غلطی‘ سے کیے تھے۔ پاکستان کی تاریخ کتنی جلاد صفت ثابت ہوئی ہے کہ جنرل مشرف کے ایک ہاتھ پر احمد رضا قصوری کھڑے ہیں تو دوسرے ہاتھ پر بینظیر بھٹو انکی بیعت کرنا چاہتی ہیں۔ جیسا استقبال جسٹس افتخار چودھری کا ہو رہا ہے ایسا امریکہ میں راک سٹارز کا ہوا کرتا ہے۔ سڑکیں یا تو چیف جسٹس پر نچھاور کیے جانے والے پھولوں سے سرخ ہیں یا پھر انکے مداحوں پر پولیس اور ایجینسیوں کی لاٹھیوں سے بہتے خون سے: کنڈیاں تے ٹُر کے آئے تیرے کول پیروانڑیں یہ ہیں دریاۓ جہلم پر بسنے والے لوگ اور انکے گیت جو اس دن چیف جسٹس کیلیے لاٹھی گولی کھا کر پہنچے تھے۔ گجرات میں گھوڑوں کا ناچ، ڈھول تاشے اور ہزاروں کا استقبال دیکھ مجھے پنجابی لکھاری سلیم پاشا کی سطریں یاد آتی ہیں ’دوجے پاسے چودھری اعتزاز کلم کلیاں چیف جسٹس نوں اپنی گڈی وچ بٹھا کے جٹ کچہری چڑہدا نظری آندا ہے تے لوکی آپے اوہدے پچھے پچھے نعرے لاندے ٹر پیندے نے۔` کہنے والے کہتے ہیں چودھری برادران ان کے مری کے پہاڑوں پر ہاؤسنگ پروجیکٹس کا کیس اٹھانے پر چیف جسٹس سے سخت ناراض ہیں۔ ساہیوال کے وکلاء کے پرامن مشعل بردار جلوس پر جو لاٹھی چارج اور حملہ پنجاب پولیس نے کیا ہے وہ حکمرانوں کو چودھری ہٹلر بنا دیتا ہے۔ کیا اس ریاست کا لاٹھی گولی کے بل بوتے کے علاوہ قانونی و اخلاقی جواز باقی رہ جاتا ہے جہاں کا چیف جسٹس بھی انصا ف سے محروم اور حکمرانوں کا معتوب بنا ہوا ہو۔ پنجاب اور باقی ملک کی سڑکوں پر عوامی فیصلہ چیف جسٹس کے حق میں آچکا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ گیند کورٹ میں ہے، یا بقول شخصے ’ کورٹ مشرف کے بال‘ میں ہے؟ |
اسی بارے میں خط، جنرل اور’تار‘27 July, 2006 | قلم اور کالم نیا قبیلہ اور سردار02 September, 2006 | قلم اور کالم 'دار کی خشک ٹہنی پہ۔۔۔۔'08 October, 2006 | قلم اور کالم ’انٹیلیجنس ریپبلک آف غائبستان‘23 November, 2006 | قلم اور کالم ’بس یہ ہے میرا عراق‘31 December, 2006 | قلم اور کالم ’بغدادی انصاف‘ اور بھٹو04 January, 2007 | قلم اور کالم ’بھری کشتی میں صرف ہندو بھاری‘12 February, 2007 | قلم اور کالم 'لاٹھی گولی کی سرکار‘ 17 March, 2007 | قلم اور کالم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||