پھر وہی ٹرین، جواب دہ کون ہیں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گذشتہ دنوں جو پانی پت کے قریب سمجھوتہ ایکسپریس میں دھماکے سے کئي لوگ ہلاک و زخمی ہوئے تو اس کے جواب دہ کون ہوسکتے ہیں؟ میں نے خود سے پوچھا۔ ’نہرو، جناح اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن‘۔ یہ جواب مجھے اپنے اندر کسی کنویں میں سے آتی ہوئی آواز کی طرح لگا۔ ایسے لگا کہ برصغیر کا یہ خطہ کب سے جلتی ہوئی ٹرین کی ایسی پٹریاں بنا ہوا ہے جن پر کئي نسلیں جل کر شعلوں کی نظر ہو رہی ہیں۔ جب تاریخ کا پہیہ الٹا چلتا ہے تو انسانی نسلیں اس کے تلے بےگناہ روندی جاتی ہیں۔ کئي سال ہوئے کہ اردو کی شاعرہ فہیمدہ ریاض نے یہ بات کہی تھی۔ ’لکڑی جل کر کوئلہ بنی اور کوئلے ہو گئے راکھ، میں پاپن ایسی جلی نہ کوئلہ ہوئی نہ راکھ‘۔ برصغیر کے لوگ بہت دنوں سے اسی جلتی ہوئی ٹرین پر سوار ہیں جس کی پٹریاں غلط منزل کی طرف جاتی ہیں۔ کیا سمجھوتہ ایکسپریس کو اڑانے والے بمبار دہشت گردوں نے فلم بارڈر دیکھ رکھی تھی! فلم بارڈر کہ جس کے لیے تب میرے ایک دوست نے لکھا تھا کہ شاید کسی نے گجرال ڈاکٹرائین کو توپ کے منہ ميں رکھ کر اڑادیا ہو۔
’بھگوان پندرہ اگست انیس سو سینتالیس کو مرگیا‘ کلیان (الہاس نگر) کی کیمپوں میں بڑے ہوتے ہوئے سندھی ادیب و ناول نگار موہن کلپنا نے لکھا تھا۔ موہن کلپنا نے یہ بھی لکھا تھا ’ کوٹری کے سٹیشن پر جو لسی بکتی تھی کاش اگر اس کا ایک گلاس بھی جناح اور نہرو نے پیا ہوتا تو شاید ہی بٹوارے پر رضامند ہوتے‘۔ راتوں رات نقشہ تبدیل ہوگیا۔ کایا پلٹ گئی۔ بقول شاعر، دیسی پردیسی اور پردیسی دیسی ہوگئے۔ لوگ راستوں پر نہیں ریلوں میں بھٹک گئے۔ گاندھی کوگوروں نے ریل کے ڈبے میں چڑھنے نہیں دیا۔ ہاں برا کیا بہت ہی برا کیا۔ لیکن پھر وہی ٹرین؟ بے اماں، بے سمت و منزل لوگوں کے ٹرینوں پر سوار قافلے۔ پائے دانوں پر خون اور لاشوں سے اٹی ہوئي ریلیں، ممبئی میں بموں سے اڑتی ہوئی ریلیں، گجرات میں جلتی ہوئی ریلیں۔ ’ہے رام! نتھو رام گوڈسے یہاں اہنسا کو ہر روز و شب گولی مار رہا ہے۔ ہندو انتہا پسند مسلمان جنونی‘۔ وہ لوگ جو ان ٹرینوں پر اپنی مرضی سے نہیں بیٹھے محبت اور مجبوری میں بیٹھے۔ تاریخ کے جبر نے انہیں زبردستی بٹھوایا۔ ساٹھ سال میں کوئی اپنی ماں سے ملنے گیا، کوئی بیٹی اور بہن سے۔ کوئي درو دیوار سے۔ یہ لوگ تاریخ کے
کاش لال حویلی کے در دیوار پوچھ سکتے کہ ان کے اصل مکین کیا ہوئے؟ کہاں گئے؟ سری نگر اور مظفرآباد کے درمیان چلنے والی بسوں پر محبت کے مارے مسافروں کو بھی ’خدائی فوجداروں‘ نے دھمکی دی تھی۔ پاکستان میں ایم ایم اے کہتی ہے سکولوں میں چندرگپت موریہ اور اشوک کے زمانے کی تاریخ بچوں کو پڑھانے سے اسلام خطرے میں پڑ جائے گا۔ اشوک برصغیر کا وہ واحد حکمران تھا جس کے لیے کہتے ہیں جب وہ ہاتھی کی پشت پر بیٹھ کر میدان جنگ میں اترا تھا تو اس کے ہاتھ میں کوئی ہتھیار و تلوار نہیں پر مور چھل (مور کے پر ) تھے لیکن ٹرینیں اڑانے والوں کے ضمیر کو کون سمجھائے کہ یہ ہے میرا اصل برصغیر۔ پراچین انڈس سولائزیشن۔ سری نگر سے سندھ تک پھیلی ہوئی۔ راجستھانی عورتیں جب تھر ایکسپریس سے کھوکھرو پار اترتی ہوں گی تو امن کی آس وہاں لوگوں کے من میں تھری لوک گیتوں کی طرح انگڑائی لیتی ہوگی۔ ’میرا جانی جیل میں، میں تو ریل لیکر جاؤں‘ ایک لوک گیت کے بول ہیں۔ مائی بھاگی ،ایلا ارون، موہن بھگت اور صادق فقیر۔ ’من بھولا بھولا پھرے جگت میں کیسا ناطا ہے‘۔ ایسے بھولے من اور ناطوں والے لوگ سمجھوتہ ایکسپریس پر بھی سوار تھے جو جنونیت اورنفرت کی آگ اور
بمبار دہشت گرد کون تھے۔ کیا یہ را کی سازش تھی یا آئي ایس آئي کی؟ مسلم انتہا پسند تھے کہ ہندو جنونی؟ جو بھی تھے وہ دونوں دیسوں کے بیچ امن کے نام کے دشمن تھے۔ ایسے لگتا ہے کہ جو ٹرین اگست سینتالیس کو چلی تھی اسے آج بھی آگ لگي ہوئی ہے یا خوشونت سنگھ کے ناول کا عنوان آج بھی نیا ہے کسی گہرے اور پرانے زخم کی طرح۔ ’اے ٹرین ٹو پاکستان‘۔ لیکن میرے عزیزو! میں تمہیں بتاؤں کہ ساٹھ سال کی زندگی قوموں کی تاریخ میں کسی فلم کے انٹرویل جیسی ہوتی ہے۔ برصغیر کی ہزاروں سالہ تاریخ میں کئی کورو پانڈو، ملا پنڈت، جناح، نہرو، گاندھی۔ ضیا، مشرف، منموہن اور بٹوارے آئے اور بقول شخصے، تاریخ کے طوفانوں میں تنکوں کے طرح بہہ گئے۔ یہ نفرتوں اور آتنک واد کی لال آندھی اور سیاست کی رام لیلا بھی گذر جائے گي۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||