امریکی صدر اور پاکستانی جمہوریت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ رات ٹیلیویژن پر صدر جارج بش کی ’سٹیٹ آف دی یونین‘ تقریر میں مجھے انکی دہشتگردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے پاکستان کا کوئي ذکر خير نہ کرنے پر کوئی حیرت نہیں ہوئی کیونکہ صدر مشرف اور آئي ایس آئی کا اس جنگ میں ’ڈبل رول‘ اب کوئی راز کی بات نہیں رہی ہے۔ البتہ امریکی صدر بش کی اس سٹیٹ آف دی یونین تقریر میں پاکستان کا ذکر اس وقت نہ کرنے پر حیرت ضرور ہوئي جب وہ مشرق وسطی اور ایران سمیت دنیا کے ملکوں میں مطلق العنان حکومتوں اور عدم جمہوریت کی بات کر رہے تھے۔ جبکہ انہوں نے بیلاروس اور برما میں بھی شاید پہلی بار آمریتوں کے خاتمے کی بات کی۔ بقول شخصے ’مسلم ممالک میں پاکستان واحد ملک ہے جہاں جمہوریت کے حق میں سب سے بڑی تحریک چلی ہے اور پاکستان سے ہی جمہوریت کے لیے چلنے والی تحریکوں سے امریکہ نے سرد مہری برتی ہے-‘ اپنی اس ساتویں ’سٹیٹ آف دی یونین‘ تقریر میں صدر بش نے امریکہ کی مشرق وسطی میں اعتدال پسند رہنماؤں کی حمایت کی بھی بات کی۔ انہوں نے امریکہ کو شیعہ اور سنی انتہا پسندی کے خطرے کا بھی ذکر کیا۔(میں کہتا ہوں شیعہ سنی انتہا پسندی کا گڑھ اگر ایران، شام، عراق اور افغانستان جیسے ممالک تھے تو انکی نرسری اور ننہیال پاکستان اور اسکی غیر جمہوری حکومتیں رہی ہیں)۔ صدر بش جب یہ سب کچھ کہہ رہے تھے تو اس وقت بھی وہ امریکی تاریخ میں سب سے زیادہ غیر مقبول صدر ہیں کیونکہ انکی کارکردگي کی امریکی عوام کی طرف سے ریٹنگ چونتیس فی صد تھی (جو کہ کسی بھی امریکی صدر کی نہیں رہی)۔ ’ابو! کیا بش ٹربل میں ہیں؟‘ صدر بش کی تقریر سے قبل ٹیلیویژن پر میڈیا کے مبصروں کی انکی تقریر کی متعلق پشین گوئيوں پر میرے ساتھ بیٹھے اپنا ہوم ورک کرتے میرے بیٹے نے پوچھا- ’سکول میں بچے کہتے ہیں کہ بش اب ’مین‘ ہوگیا ہے‘ میرے بیٹے نے کہا- اس وقت میری بیوی گروسری کرنے گئي تھی لیکن وہ مجھے تاکید کر گئی تھی کہ صدر بش کی تقریر میں انکی ہیلتھ انشورنس کے متعلق کی ہوئي باتیں اسکے لیے ضرور یاد رکھوں- ہم بھی امریکہ میں ان چھ کروڑ لوگوں میں سے ہیں جنکے (سواۓ میرے بیٹے کے ) پاس ہیلتھ انشورنس نہیں۔ بہرحال۔ ’امریکہ کے لوگ کبھی بھی جنگ پسند نہیں رہے، البتہ انہوں نے اپنے رہنماؤں کی باتوں پر ہمشیہ اعتبار کیا ہے‘ ایک امریکی مبصر نے کہا۔ ’بش نے جھوٹ بولا ہزاروں قتل ہوئے‘( ’بش لائيڈ تھاؤزینڈز ڈائیڈ‘) اس نعرے والی ٹی شرٹ پہنے ایک شخص کو اگلے روز میں نے ہل کریسٹ (سان ڈیاگو میں ’گے‘ علاقہ) میں میگزین کی ایک دکان پر دیکھا- امریکہ کے یہ علاقے ایسے ہیں جہاں کے کتے بھی ’گے‘ اور انقلابی ہیں- ’ریڈیکل پیٹس‘ کتوں پر نکلنے والے ایک جریدے کا نام تھا جس میں ایک مضمون تھا: ’کتوں کے پارک میں لوگوں کیلیے آداب اور طور طریقے ۔‘ ’امریکہ کے جھوٹ بولنے والے صدور‘ میگزین ’اٹلانٹک منتھلی‘ کے تازہ شمارے کی کور سٹوری کا عنوان ہے۔ میگزين میں معروف اور انتہائي معتبر امریکی مورخین نے صدر جارج واشنگٹن کے چیری کے درخت کاٹنے والی ’کہانی‘ سے لے کر دوسری جنگ عظیم کے دوران روزویلٹ کی اپنی گرتی صحت چھپانے سے لے کر صدر نِکسن کے واٹر گیٹ سکینڈل اور بل کلنٹن کی مونیکا لیونسکی معاملے تک، اور اب صدر بش کے عراق میں ’وسیع تباہی کے ہتھیار‘ اور پھر وہاں جنگ کے جواز تک تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ اسی مضمون میں پرنسٹن یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر شون ویلنٹز نے کہا ہے کہ ’ کم و بیش ہر کوئي امریکی صدر امریکی عوام سے جھوٹ بولتا رہا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ انکے جھوٹ سے فقط انکی ذاتی ساکھ خراب ہوئی یا انکے جھوٹ سے امریکہ کو کیا نقصانات یا فائدے پہنچـے‘۔ ’کیا بش کی ٹربلز ختم ہوگئيں ؟ کیا اب میں اپنے کارٹون دیکھ سکتا ہوں‘ بش کی ٹیلویژن پر لائيو سٹیٹ آف دی یونین تقریر کے خاتمے پر میرے بیٹے نے مجھ سے پوچھا- ویسے مجھے لگا کہ انیس بیس کے فرق سے ڈیموکریٹس اور ریپبلیکن میں کوئي زیادہ فرق نہیں سوائے ان کے عراق میں مزید فوجیں بھیجنے والی صدر بش کی تجویز کے۔ بہرحال میں بہت دیر تک ہمارے جیسے ممالک میں جمہوریت، آمریت، مذہبی انتہا پسندی اور امریکی تاریخ کی بھول بھلیوں میں بھٹکتا رہا۔ نہ جانے کیوں امریکہ میں جب ڈیموکریٹ صدر آتا ہے یا کانگریس اور سینیٹ میں ڈیموکریٹس اکثریت میں آتے ہیں تو پاکستان میں جمہوریت کی بات کرنے والوں کے توقعات ذرا بڑھ جاتے ہیں- ’آمریت کے تین نشان: فورڈ بھٹو ٹکا خان، امریکہ میں ریپبلیکن صدر اور پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کے دنوں میں نیپ سمیت ان کے مخالفین کی طرف سے لگنے والے نعرے والی یہ چاکنگ شاید آج بھی مرکزی سکھر کی بازار کی کسی دیوار پر دھندلائي ہوئی لکھی مل جائے۔ اور ملٹری کالونی کی دیوار پر لکھا ہوا یہ نعرہ شاید پاکستان میں کبھی پرانا نہ ہو: ’بلوچستان سے فوجی کتوں کو واپس کرو۔ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائيزیشن-( بی ایس او)‘۔ اور امریکہ میں جب اس طرح کی تبدیلی کی ہوائيں لگنے لگتی ہیں تو غلط یا برابر بینظير بھٹو کی امیدیں بھی بر آئی ہوئی لگتی ہیں۔ اس دفعہ بھی وہ امریکہ کے بیس روز کے دورے پر آتی ہوئی بتائي جارہی ہیں۔ گزشتہ چند سالوں سے انہوں نے جتنے دورے امریکہ کے کیے ہیں اتنے شاید انہوں نے کبھی اپنے حلقہ انتخابات کے بھی نہ کیےہوں۔ ’وزیر اعظم بینظیر‘ اس نعرے سے زیادہ کوئي پسندیدہ نعرہ خود بینظیر بھٹو کا بھی نہ ہو! بینظیر بھٹو اور نواز شریف تو تیسری مرتبہ بھی وزیر اعظم بننے کے خواہشمند ہیں۔ وہ دن گۓ جب وہ امریکی عوام اور مغربی میڈیا کی ڈارلنگ ہوا کرتی تھیں۔ پھر دو بار اقتدار کی سنگھاسن پر بیٹھنے کے بعد عوام کے دلوں کی دھڑکن کے ساتھ بندھی ہوئی انکی پارٹی (پی پی پی) واقعی ’پرنسیس اینڈ پلے بواۓ پارٹی‘ بن گئی۔ وہ پارٹی جو ضیاء الحق سے لے کر جام صادق علی تک اور فاروق لغاری سے ارباب غلام رحیم تک اپنے دشمن اپنی ہی بطن سے پیدا کرتی ہے۔ خطے میں آجکل کے ’سین پارٹ‘ کو دیکھتے ہوئے بینظیر سمجھتی ہیں شاید انکی بھی امید بر آۓ۔ وہ کہ جو اپنے وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر اور آئي ایس آئی کے ساتھ طالبان کو افغانستان میں منظم اور مضبوط کرنے کی اتنی ہی ذمہ دار تھیں۔ وائٹ ہاؤس میں آج تک سب سے زیادہ رسائي رکھنے والے امریکی صحافی بوب وُڈوارڈ نے اپنی کتاب 'بش ایٹ وار' (ون) میں لکھا ہے کہ بل کلنٹن کےدنوں میں پاکستانی انٹیلیجنس کے چھ سوکمانڈوز کو افغانستان میں اسامہ بن لادن کو پکڑنے یا ہلاک کرنے کے لیے تربیت دی گئی تھی لیکن یہ نہیں ہوسکا کیونکہ وہاں (جنرل مشرف کے ہاتھوں) فوجی بغاوت ہوگئی۔ دوسرے لفظوں میں اگر جنرل پرویز مشرف اپنی نوکری سے برطرفی پر پاکستان میں فوجی بغاوت نہ کرتے تو دنیا آج بہتر جگہ ہوتی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||