’پاکستان کی امداد بند کی جائے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
معروف امریکی تھنک ٹینک ’رینڈ کارپوریشن‘ نے تین جنوری کو شائع ہونے والی اپنی ایک رپورٹ میں امریکی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ پاکستانی فوج اور انٹیلیجنس اداروں کو اندرونی سلامتی کے نام پر دی جانے والی امداد روک کر اس کا ازسرِ نو جائزہ لیا جانا چاہیے۔ رینڈ کارپوریشن کی طرف سے دی گئی اس تجویز کی بیان کی گئی نمایاں وجوہات میں عسکریت پسند تنظیم لشکر طیبہ کا عراق کی شورش میں مبینہ طور پر ملوث ہونا، کراچی میں منشیات کے بین الاقوامی مافیا کا مضبوط مرکز ہونا اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔ ’سکیورنگ دی ٹائرنٹس آر فوسٹرنگ ریفارمز‘ کے عنوان سے شائع ہونی والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی مفادات کی تکمیل انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرنے والی پاکستان جیسی جابر حکومتوں کی امداد جاری رکھنے میں نہیں بلکہ اسے منقطع کرنے میں مضمر ہے۔ ’ ایک ارب ڈالر کی امداد دینے کے باوجود امریکہ نے انسانی حقوق کی صورتحال سدھارنے کے حوالے سے پاکستان پر کوئی خاص دباؤ نہیں ڈالا‘۔ اس رپورٹ میں شامل پاکستان سے متعلقہ تحقیق کے حوالے سے رینڈ کارپوریشن نے امریکہ میں خارجہ اور انصاف کے محکموں کے حکام کے علاوہ پاکستان میں امریکی سفارتی اہلکاروں سے بھی ملاقاتیں کیں، جبکہ میڈیا، انسانی حقوق اور داخلی سلامتی پر شائع ہونے والی مستند رپورٹس سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔
’گڈ گورننس‘ اور انسانی حقوق کے تقابلی جائزے میں رینڈ کارپوریشن نے پاکستان کو وسطی امریکہ کے ملک ایل سلواڈور سے بھی پیچھے پایا ہے۔ پاکستان اور وسط ایشیائی ریاست ازبکستان کا موازنہ کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کی بحالی اور قانون کی بالا دستی میں دونوں ممالک ناکام رہے ہیں اور بھاری امداد دینے کے باوجود اس حوالے سے امریکہ نے ان ممالک پر کوئی خاص توجہ نہیں دی۔ رینڈ کارپوریشن کے مطابق انسانی حقوق کے حوالے سے افغانستان کا ریکارڈ ان ممالک سے بہتر ہوا ہے، اگرچہ وہاں جنگجو سرداروں ( وار لارڈز ) اور طالبان کے ہاتھوں انسانی حقوق کی صورتحال مخدوش بتائی گئی ہے۔ رینڈ کارپوریشن کے تحقیق کاروں نے پاکستان کو اندورونی سلامتی کے میدان میں درپیش خطرات، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور نظام میں بھاری امریکی امداد و تریبت، آئی ایس آئی سمیت پاکستانی خفیہ اداروں اور بلوچ عسکریت پسندوں کے بارے میں بھی اہم انکشافات اور اعداد وشمار جاری کیے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گیارہ ستمبر سال دو ہزار ایک کو نیو یارک پر ہونے والے حملوں کے بعد امریکہ کی ’گلوبل وار آن ٹیرر‘ کے تحت افغانستان میں ’آپریشن اینڈیورنگ فریڈم‘ کے دوران پاکستان نے القاعدہ اور طالبان کی سرکوبی میں اہم ترین کردار ادا کیا اور اس حوالے سے خالد شیخ محمد، رمزی بن الشیبا، ابو زبیدہ، ابوالفراج اللبی اور احمد گیلانی کی گرفتاری اور امریکہ کے حوالے کرنے کو خاص طور ذکر کیا ہے۔ رینڈ کارپوریشن کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کے ایک بڑے حلیف کے طور پر پاکستان نے اب تک تین سو دو عسکریت پسندوں کو ہلاک جبکہ چھ سو چھپن کو گرفتار کیا ہے۔ ہلاک یا گرفتار ہونے والے یہ عسکریت پسند افغان، ازبک، عرب اور چیچن تھے۔ ان میں سے بیشتر نے پشتون خواتین سے شادیاں بھی کر رکھی تھیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ داخلی طور پر پاکستان کو فرقہ وارانہ دہشت گردی میں ملوث کالعدم تنظیموں سپاہ صحابہ اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے عسکری بازو بالترتیب لشکر جھنگوی اور سپاہ محمد سے خطرہ ہے، جبکہ عسکریت پسند تنظیمیں جیش محمد اور لشکر طیبہ القاعدہ کے عالمی دہشت گردی کے نیٹ ورک سے منسلک ہیں۔ رینڈ کارپوریشن کے مطابق اگرچہ اسلام آباد میں امریکی سفارتی اہلکاروں نے ثبوتوں کی عدم دستیابی کی بنیاد پر تصدیق نہیں کی لیکن
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں در اندازی اور دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے آئی ایس آئی لشکر طیبہ، جیش محمد اور حرکت المجاہدین جیسی تنظیموں کی مدد کرتی ہے۔ رینڈ کارپوریشن کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے دوران پاکستانی فوج کا تمام زور وزیرستان میں دہشت گردوں کی مبینہ کمین گاہوں اور ان کو پناہ دینے والوں پر رہا اور اس حقیقت کو زیادہ سنجیدگي سے نہیں لیا گیا کہ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں کوئٹہ، پشاور، لاہور، فیصل آباد اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں بھی ہو سکتی ہیں۔ اس کا ایک ثبوت ابو زبیدہ اور خالد شیخ محمد جیسے القاعدہ کے اہم رہنمائوں کی راولپنڈی اور فیصل آباد سے گرفتاری ہے۔ رپورٹ میں پاکستانی وزارت داخلہ کے حوالے سے امریکی امداد سے فضائی چوکسی کے لیے قائم کیے گئے ایئر ونگ کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس کا حدود اربعہ بلوچستان اور سندھ کے کچھ علاقے بتائے گئے ہیں۔
بلوچستان کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ صوبہ میں بلوچ لبریشن آرمی، بلوچ پیپلز لبریشن آرمی اور بلوچ لبریشن فرنٹ جیسی عسکریت پسند تنظیموں نے سال دو ہزار پانچ میں جنوری سے جون تک کم از کم ایک سو اکتالیس حملے کیے، جن میں چھپن افراد ہلاک اور نوے زخمی ہوئے۔ شدت پسند تنظیموں کے علاوہ پاکستان کو منظم جرائم کرنے والے گروہوں سے بھی خطرہ بتایا گیا ہے۔ ان گروہوں میں سر فہرست منشیات کی سمگلنگ ہے، جس کے ’مافیا‘ کا سب سے بڑا گڑھ رینڈ کارپوریشن کے مطابق کراچی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں پیدا ہونے والی افیون سے خام ہیروئن ایران اور ترکی کے راستے یورپ کی مارکیٹ میں پہنچتی ہے۔ اس ضمن میں بھارتی انٹیلجنس ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کراچی میں مبینہ طور موجود داؤد ابراہیم کو اس مافیا کا سرغنہ قرار دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ داؤد ابراہیم بھارت کو انتہائی مطلوب افراد میں سر فہرست ہیں۔ |
اسی بارے میں گراونڈ زیرو: انسانی باقیات برآمد21 October, 2006 | آس پاس ’دہشت گرد‘ کیا چاہتے ہیں؟19 October, 2006 | پاکستان ’امریکہ نےحملے کی دھمکی دی‘ 21 September, 2006 | پاکستان ’بش مشرف پر دباؤ ڈالیں‘25 February, 2006 | پاکستان دہشتگردی: نئے قانون کا بل منظور16 February, 2006 | آس پاس ابو فراج انتہائی مطلوب کیوں؟ 04 May, 2005 | پاکستان القاعدہ کا ’سربراہ‘ اجلاس16 August, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||