پاکستان: دہشت گردی دنیا سے کم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں موجودہ سال کے دوران ملک دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی ہے، جبکہ اسکے برعکس عالمی سطح پر دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی کی بنیادی وجہ حکومت کی وہ پالیسی ہے جس کے تحت ستمبر سے مسائل کے حل کے لیے طاقت کی بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا گیا ہے۔ شوکت سلطان کا کہنا تھا کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران حکومت نے ایک ’حکمت عملی‘ کے تحت قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے۔ ’ہم نے دوہزارچار میں جنوبی وزیرستان اور دوہزار چھ میں شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے ذریعے دہشت گردی کا خاتمہ کیا‘۔ ان کے بقول ابتداء میں بعض ’تخریب کار‘ بات چیت کے لیے تیار نہیں تھے، لیکن گھیرا تنگ ہونے پر وہ بھی مذاکرات کرنے پر آمادہ ہوگئے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایسا بھی نہیں ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مستقبل میں کسی قسم کی طاقت استعمال نہیں کی جائیگی۔
’حکومت مقاصد کے حصول کے لیے فوجی یا غیر فوجی حکمت عملی اختیار کر سکتی ہے، مطلوب دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری رہے گا‘۔ ان کا دعویٰ تھا کہ رواں سال کے دوران پاکستان میں القاعدہ کا نیٹ ورک ختم کر دیا گیا ہے اور اس کے بہت سے کارکن گرفتار ہیں۔ شوکت سلطان سے جب پوچھا گیا کہ اس سال درگئی میں فوجی مرکز کو ایک خودکش بمبار نے تاریخ میں پہلی بار نشانہ بناکر بیالیس زیر تربیت فوجیوں کو ہلاک کردیا تو انکا کہنا تھا ’ فوج کے لیے یہ ایک باعث تشویشناک واقعہ تھا، ہم نے اس کا تجزیہ کیا اور اسکی روشنی میں چند حفاظتی اقدامات اٹھائے ہیں‘۔ | اسی بارے میں ’طالبان کو تربیت نہیں دے رہے‘30 November, 2006 | پاکستان شکئی: قبائلی رہنما سمیت چار ہلاک10 November, 2006 | پاکستان مدرسے پر بمباری: 80 افراد ہلاک30 October, 2006 | پاکستان باجوڑ:مدرسے پر فوجی کارروائی30 October, 2006 | پاکستان وزیرستان ایک تجربہ گاہ10 September, 2006 | پاکستان اسامہ کو گرفتار کیا جائے گا: پاکستان06 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||