BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 30 November, 2006, 15:33 GMT 20:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’طالبان کو تربیت نہیں دے رہے‘

افغان کمیپ
افغانستان نے الزام لگایا تھا کہ پاکستان میں موجود افغان کیمپوں میں طالبان کو تربیت دی جا رہی ہے
پاکستان کے ایک اعلی سرکاری اہلکار نے افغانستان کی جانب سے لگائے گئے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے کہ پاکستان کے افغان مہاجر کیمپوں میں طالبان جنگجوؤں کو تربیت دی جا رہی ہے۔

یہ تردید، پاکستان میں افغان مہاجرین کے ادارے افغان کمشنریٹ کے چیف کمشنر نیر آغانے جمعرات کو پشاور میں افغان مہاجرین کی رجسٹریشن سے متعلق منعقدہ بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کی۔

کچہ گھڑی مہاجر کیمپ میں منعقدہ اس بریفنگ میں مہاجرین کے لیے اقوام متحدہ کے ادراے یو این ایچ سی آر کے اعلی اہلکار اندریکا رٹواٹی اور نادرہ کے اہلکاروں نے بھی شرکت کی۔

نیر آغا نے کہا کہ اس بات میں کوئی حقیقت نہیں کہ پاکستان میں قائم افغان مہاجر کیمپوں میں طالبان جنگجوؤں کو تربیت دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ان کا براہ راست ان چیزوں سے واسطہ کوئی نہیں تاہم پھر بھی اس طرح کے جو بھی الزامات ہیں وہ سب بے بنیاد ہیں اور ان میں کوئی حقیقت نہیں۔

اس سے قبل صحافیوں کے مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے افغان کمشنریٹ ، نادرہ اور یو این ایچ سی ار کے اہلکاروں نے کہا کہ اس سال پاکستان میں پندرہ اکتوبر سے افغان مہاجرین کی شروع کی گئی رجسٹریشن کے عمل میں اب تک پانچ لاکھ مہاجرین کا اندراج کیا جاچکا ہے اور ان کو کارڈ بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان پانچ لاکھ مہاجرین میں صرف ڈھائی لاکھ صوبہ سرحد میں رجسٹرر کیے گئے ہیں اور یہ عمل اس سال کے آخر تک مکمل کرلیا جائے گا۔

مہاجرین کی رجسٹریشن کے عمل میں اب تک پانچ لاکھ مہاجرین کا اندراج کیا جاچکا ہے

اہلکاروں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ شروع میں اندراج کا عمل سست روی کا شکار تھا تاہم ان کے مطابق اس میں اب تیزی آگئی ہے اور روزانہ پاکستان کے مختلف شہروں میں انیس ہز ار کے قریب مہاجرین کا اندراج ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مہاجرین کے اس اندراج کا مقصد افغانیوں کو پاکستان کے اندر تین سال تک قانونی حق دینا ہے تاہم جو مہاجرین اس سے رہ گئے وہ غیر قانونی تصور ہونگے اور ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائی گی۔

واضع رہے کہ پاکستان میں اس وقت چوبیس لاکھ افغان مہاجرین رہائش پزیر ہیں جبکہ یو این ایچ سی آر کے مطابق 28 لاکھ مہاجرین اپنی مرضی کے مطابق افغانستان واپس جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں
قبائلی شورش: مذاکرات پر زور
20 November, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد