’طالبان کا خاتمہ سب کے مفاد میں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ طالبان کا خاتمہ پاکستان اور افغانستان سمیت ساری دنیا کے مفاد میں ہے۔ افغانستان میں صدر حامد کرزئی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ طالبان کو شکست دینا عالمی امن کے لیے بہت ہی اہم ہے۔ انہوں نے کہا نیٹو افواج افغانستان میں مکمل امن کی بحالی تک موجود رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر نیٹو افواج نے اس موقع پر افغانستان کو چھوڑ دیا تو دہشتگرد اسے اپنی فتح گردانیں گے جو کہ عالمی امن کے لیے انتہائی خطرناک ہو گا۔ وزیر اعظم ٹونی بلئیر نےافغانستان میں برطانوی فوجیوں سے خطاب کے دوران کہا کہ اکیسویں صدی کے امن کا دراومدار افغانستان کےصحرا میں لڑی جانےلڑائی پر منحصر ہے۔ اس سے پہلے پاکستان کے صدر اور برطانوی وزیر اعظم نے خبردار کیا تھا کہ اسلامی شدت پسندوں سے نمٹنے کے لیے صرف فوجی طاقت کا استعمال کافی نہیں ہے۔ برطانیہ کے وزیر اعظم نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امن کا قیام ’دہشت گردی‘ کے خلاف جنگ میں فتح کے لیے انتہائی اہم ہے۔ پاکستان اور برطانیہ اس عزم کااظہار کیا ہے کہ ’دہشت گردی‘ کے خلاف مستقبل قریب میں مزید اشتراکِ عمل سے کام لیا جائے گا۔ اعلامیہ میں برطانیہ کی طرف سے آئندہ تین برس میں پاکستان کے لیے ترقیاتی امداد دوگنی سے زیادہ کرکے چارسو اسی ملین پاؤنڈ کردینے کا عندیہ دیا ہے۔ اس میں سے بیشتر مالی وسائل مذہبی مدارس میں روشن خیال اعتدال پسندی کی فضا قائم کرنے کے لیے خرچ کیے جائیں گے۔ اسی طرح مشترکہ اعلامیہ میں دونوں ممالک کی وزارتِ داخلہ اور انٹیلجنس ایجنسیوں کی سطح پر ایک نیا معاہدہ کار طے کرنے کی بات کی گئی ہے۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ منشیات کی روک تھام غیر قانونی ترک وطن اور منظم بین الاقوامی جرائم کے خلاف باہمی تعاون سے کام لیا جائے گا۔ انسداد منشیات مہم کے ایک حصے کے طور پر برطانیہ ایم آئی ساخت کے دو ہیلی کاپٹر دینے کااعلان بھی کیا۔ اس موقع پر برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ ’ہم سب کو ایک ہی خطرے کا سامنا ہے اور خطرہ ہے انتہا پسندوں اور ان لوگوں کی طرف سے جو معاشرے کو بند گلی کی طرف لے جاتے ہیں یا اس کی طالبانائزیشن چاہتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ متاثرہ ممالک میں انتخابات کے ذریعے عوامی منشاء اور حمایت حاصل کی جائے۔ ایسی اقدار اورسوچ کو آگےلایا جائے جو مثبت ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ کو ایک عالمگیر جدوجہد کے طور پر دیکھاجائے جس کے تمام پہلوؤں سے نمٹنا ضروری ہے۔ برطانوی وزیراعظم نے دہشت گردی کے بعض منصوبوں کو وقت سے پہلے ناکام کرنے کے حوالے سے پاکستان کے کردار کی تعریف کی۔ صدر مشرف نے ایک سوال کے جواب میں خود سے منسوب اس بیان کی سختی سے تردید کی کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فتح ممکن نہیں، انہوں نے کہا کہ وہ کبھی اس بات کاقائل نہیں رہے کہ دشمن کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے جائیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ وسیع البنیاد حکمت عملی اختیار کی جائے جس میں سیاسی اور تعمیراتی کارروائیاں بھی شامل ہوں۔ امریکہ اور برطانیہ کی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں اپنی جغرافیائی حیثیت کے باعث پاکستان کی بہت اہمیت ہے۔ پاکستان اگرچہ صدر مشرف کی قیادت میں ’نائن الیون‘ کے بعد سے دہشت گردی کے خلاف عالمی مہم کا حصہ بنا ہوا ہے لیکن برطانوی فوجی حکام اور مغربی ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کو دوبارہ ابھرنے سے روکنے کے لیے پاکستان کو مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ | اسی بارے میں ’فوج کو تمام وسائل مہیا کریں گے‘07 October, 2006 | آس پاس طالبان کے ساتھ ایک سفر25 October, 2006 | آس پاس افغان عدم استحکام، امن کے لیے خطرہ18 November, 2006 | آس پاس افغانستان: امدادی کارروائیاں متاثر 20 November, 2006 | آس پاس ٹونی بلیئر پاکستان پہنچ گئے18 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||