’فوج کو تمام وسائل مہیا کریں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ افغانستان میں برسرِ پیکار برطانوی فوجیوں کی تمام جنگی ضروریات کو پورا کیا جائے گا۔ افغانستان پر حملے کے پانچ سال پورے ہونے پر برطانوی فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا فوجیوں کی جو بھی ضروریات ہوں گی انہیں پورا کیا جائے گا۔اگر انہیں مزید ہیلی کاپٹر یا بکتر بند گاڑیاں درکار ہوں گی تو وہ مہیا کی جائیں گی۔ برطانوی فوجیوں کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انتہائی نامساعد حالات میں بھی برطانوی فوجیوں نے عزم اور حوصلے کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے جنوب اور جنوب مشرقی علاقوں میں اب بھی گڑ بڑ جاری ہے۔ ٹونی بلیئر نے، جو برطانوی افواج کے لیئے مخصوصی ریڈیو اور ٹی وی نشریات کے لیئے انٹرویو دے رہے تھے، کہا کہ یہ کوئی حیران کن بات نہیں کہ فوجی آپریشن کے دوران آپ اپنی ضروریات کا جائزہ لیتے ہیں اور حساب لگاتے ہیں کہ کس چیز کی ضرورت ہے اور کیا چیز ضروری نہیں ہے۔ برطانوی وزیر اعظم نے بیرون ملک خدمات انجام دینے والے فوجیوں سے وعدہ کیا کہ آئندہ چند ہفتوں میں ان کے لیئے مراعات کا اعلان کیا جائے گا، تاہم انہوں نے مراعات کے اس پیکج کی تفیصل نہیں بتائی۔ ستمبر دو ہزار ایک سے چالیس برطانوی فوجی افغانستان میں ہلاک ہو چکے ہیں اور گزشتہ کئی ماہ سے فوجیوں کی ہلاکتوں میں اضافے کی وجہ سے ٹونی بلیئر سے افغانستان میں برطانوی فوجیوں کے بارے میں سوالات کیئے جا رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ سات برطانوی فوجی طالبان کے خلاف کارروائیوں میں مارے گئے تھے جبکہ ستمبر ہی میں ہوائی جہاز کے ایک حادثے میں چودہ فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ ٹونی بلیئر نے افغانستان میں برطانوی فوجیوں کی موجودگی کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ افغانستان کو ایک مرتبہ پھر طالبان اور القاعدہ کا گڑھ بننے سے بچانے کی کوشش کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی فوجی جو کچھ کررہے ہیں وہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ صرف برطانیہ کی سکیورٹی کا معاملہ نہیں ہے۔ برطانوی فوجی جنوبی افغانستان کے علاقے ہلمند میں تعینات ہیں جہاں ٹونی بلئیر کے مطابق حالات انہتائی دشوار ہیں۔ انہوں نے اس الزامات کی تردید کی کہ حکومت نے حالات کی سنگینی کو چھپانے کی کوشش یا صورت حال کا انداز لگانے میں غلطی کی تھی۔ | اسی بارے میں ’عراق،افغانستان سے واپسی ٹھیک نہیں‘26 September, 2006 | آس پاس افغانستان: نیٹو نے انتظام سنبھال لیا05 October, 2006 | آس پاس طالبان سے لڑائی مشکل ہے: برطانیہ19 September, 2006 | آس پاس افغانستان: فوجی کون بھیجے گا؟13 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||