BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 18 November, 2006, 19:22 GMT 00:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ٹونی بلیئر پاکستان پہنچ گئے
ٹونی بلیئر
ائیرپورٹ پر وزیراعظم ٹونی بلیئر کا استقبال پاکستان کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور خسرو بختیار نے کیا
برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر ایک مختصر دورے پر پاکستان پہنچ گئے ہیں، جہاں اتوار کو وہ صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیر اعظم شوکت عزیز سے ملاقاتیں کریں گے۔

توقع کی جارہی ہے کہ افغانستان کی صورتحال اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے تعاون ان ملاقاتوں کے دوران اہم موضوعات ہونگے۔

برطانوی حکام کے مطابق اس دورے کے دوران وزیراعظم ٹونی بلیئر پاکستان کے لیے چار سو اسی ملین پاؤنڈ کی ترقیاتی امداد کا اعلان کریں گے، جو کہ سابقہ امداد سے دوگنا زیادہ ہے۔

یہ امداد صدر مشرف کی ان تعلیمی اصلاحات کے لیے استعمال کی جائے گی جو وہ اپنے ملک میں دینی مدارس کا اثرونفوذ ختم کرنے کے لیے متعارف کرانا چاہ رہے ہیں۔ دینی مدارس کو انتہا پسندی اور مذہبی عسکریت پسندی پروان چڑھانے کا ذمہ دار تصور کیا جاتا ہے۔

وزیراعظم بلیئر کے ترجمان کے مطابق امدادی پروگرام کو اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ اس کی مدد سے انتہا پسندی سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو ان

ترقیاتی امداد
 امداد صدر مشرف کی ان تعلیمی اصلاحات کے لیے استعمال کی جائے گی جو وہ اپنے ملک میں دینی مدارس کا اثرونفوذ ختم کرنے کے لیے متعارف کرانا چا رہے ہیں۔
برطانوی حکام
شعبوں میں تربیت دی جائے گی جو پاکستانی معیشت کی ترقی کے لیے سودمند ثابت ہو سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ دہشت گردی سے نمٹنے میں ’تکنیکی تعاون‘ کے لیے آٹھ ملین پاؤنڈ کے ایک پیکج کا اعلان بھی کیا جائے گا۔

افغانستان میں طالبان کی سرگرمیوں کی روک تھام اور نیٹو کے فوجی آپریشن کی کامیابی کے لیے پاکستان کے تعاون کی بہت اہمیت ہے۔ پاکستان کے اپنے اس تیسرے دورے کے دوران وزیراعظم بلیئر اسلامی مذہبی رہنماؤں سے ملاقات میں بین الامذہبی بھائی چارے پر بھی بات کریں گے۔

امریکہ اور برطانیہ کی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں اپنی جغرافیائی حیثیت کے باعث پاکستان کی بہت اہمیت ہے۔ پاکستان اگرچہ صدر مشرف کی قیادت میں ’نائن الیون‘ کے بعد سے دہشت گردی کے خلاف عالمی مہم کا حصہ بنا ہوا ہے لیکن برطانوی فوجی حکام اور مغربی ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کو دوبارہ ابھرنے سے روکنے کے لیے پاکستان کو مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

تاہم برطانیہ میں دہشت گردی کے بعض منصوبوں کو وقت سے پہلے ناکام کرنے کے حوالے سے پاکستان کے کردار کی تعریف بھی کی گئی ہے۔ وزیر اعظم ٹونی بلیئر اس وقت پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں جب صرف ایک دن پہلے برطانوی شہری مرزا طاہر حسین کی سزائے موت ختم کرتے ہوئے انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔

انسانی حقوق کی امریکی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے برطانوی وزیراعظم سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے دورے کے دوران پاکستانی حکام سے کہیں کہ وہ دہشت گردی کے شبہ میں لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنانے اور پراسرار طور پر غائب کرنے کا سلسلہ بند کریں۔

اسی بارے میں
الزام لگانا بند کر دیں: مشرف
07 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد