لندن دھماکے: پاکستان کنکشن؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن میں گزشتہ سال سات جولائی کو ہونے والے دھماکوں کو ایک ہفتہ بھی نہیں ہوا تھا کہ بمباروں کے روابط کے حوالے سے پاکستان کی طرف پہلی انگلی اٹھی۔ دھماکوں میں ملوث کم از کم دو، شہزاد تنویر اور محمد صدیق خان کے بارے میں کہا گیا کہ وہ نومبر 2004 میں پاکستان گئے تھے۔ بمباروں کا کسی طرح کا تعلق پاکستان کے لیے انتہائی ’غیرمتوقع‘ تھا اس لیے پاکستانی لبرل اور کنزرویٹو حلقوں کے ردِ عمل کو متوقع تصور کیا گیا۔ لبرلز یا آزاد خیال حلقوں کی دلیل یہ تھی کہ ایسا ہونا ہمسایہ ملک افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف طویل جنگ میں پاکستان کے ملوث ہونے کا ایک منطقی نتیجہ ہے۔ جب کہ قدامت پسندوں کی تنقید کا رخ مغرب کی طرف تھا اور ان کا کہنا تھا کہ جو کچھ اس حوالے سے کہا جا رہا ہے اس کا مقصد مسلمانوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کر کے اپنی داخلی ناکامی کی پردہ پوشی کرنا ہے۔ دونوں اس بات پر متفق تھے کہ برطانوی تحقیقات اور ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ ایک سال بیت چکا ہے۔ ان کا سنکی پن درست ثابت ہوا ہے۔ شہزاد تنویر بھولی ہوئی کہانی بن چکے ہیں۔ پنجاب میں فیصل آباد کے شہر سنمدری میں شہزاد تنویر کی تدفین میں جن گنتی کے سو لوگوں نے شرکت کی تھی ان کے سوا شاید ہی کسی نے ان کی قبر پر جانے کی زحمت کی ہو۔ پاکستانی حکام نے بھی شہزاد تنویر کے معاملے کی پیروی یہ کہہ کر بند کر دی ہے کہ جو کچھ شہزاد نے کیا تھا اس کا نومبر 2004 میں اس کے پاکستان آنے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس سلسلے میں حاصل مواد اور شواہد کو دیکھا جائے تو اس دعوے کو مسترد کرنا ممکن دکھائی نہیں دیتا لیکن اگر تقریباً گزشتہ پچیس سال کے دوران پاکستان میں دی جانے والی اسلامی تعلیمات کو دیکھا جائے تو شاید حکام کی اس رائے سے اتفاق کرنا بھی خاصہ دشوار ہو گا۔
افغانستان میں سوویت دراندازی کے بعد 1979 سے پاکستان میں دینی مدرسوں کی بھر مار ہو گئی تھی۔ اس وقت جب پاکستانی کو بیرونی طور پر مغربی جمہوری ملکوں کی تنقید اور اندرونی طور پر جمہوریت کے حامیوں کی مزاحمت کا سامنا تھا تو ضیاءالحق کی آمرانہ حکومت نے سوویت مداخلت کے خلاف امریکہ کی جنگ کا ہراول ملک بننے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں مدرسوں کی مالی امداد کے پیچھے یہ تصور کام کر رہا تھا کہ یہ نظریاتی نرسریاں لوگوں کو سرحد کے پار سوویت افواج کے خلاف جنگ (جہاد) کے لیے متحرک کرنے کا ذریعہ ثابت ہونگی۔ 1980اور 90 کے دوران جس رفتار سے مدرسوں کی تعداد میں اضافہ ہوا اسے صرف مغربی ملکوں ہی کے بڑے حصے نے نہیں پاکستان کے شہری علاقوں نے بھی صحیح طور پر نہیں سمجھا۔ مغربی ملک عام طور پر ان مدرسوں کو ’شدت پسندوں کے تربیتی کیمپ‘ یا ’دہشت گردی کی نمو کے مراکز‘ تصور کرتے ہیں۔ اس تن آسانی میں یہ بات بھلا دی جاتی ہے کہ ان مدرسوں ہی سے بڑے پیمانے پر ایسے علماء بھی نکلے جنہوں نے سوویت یونین کے خلاف جنگ کے اس عرصے میں عالمی سطح پر اپنے تشخص کو منوایا۔ ان میں اکثر انتہائی سادہ زندگی گزارتے ہیں اور شدت پسندی کے حوالے ان کی نشاندہی کرنا انتہائی دشوار ہے۔ لیکن جب کوئی بائیس سالہ نوجوان، دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ سے بٹ جانے والی دنیا میں یہ جانے کی کوشش کرتا ہے کہ اس مرحلہ پر اس کا مذہب اس پر کیا واجب کرتا ہے تو اسے ان علماء کی طرف جانے کے سوا کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔
اس مرحلے میں پاکستان ایک فطری منزل بن جاتا ہے کیونکہ یہاں یہ سہولت باآسانی دستیاب ہے۔ یہاں علماء تاریخ اسلام سے ایسی واقعاتی مثالیں اور قرانی آیات کے ایسے حصے نکال کر سامنے رکھ دیتے ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف کچھ بھی کرنے والا یا کسی بھی طرح کی معاونت کرنے اور معاونت میں ساتھ دینے والا بھی اتنا شریکِ جرم اور دشمن ہے جتنا کہ کوئی دشمن خود ہو سکتا ہے۔ اس کا اطلاق مغربی جمہوریتوں پر کر کے دیکھیں تو ہر امریکی جس نے جارج بش کو صدر کے عہدے کے لیے دوبارہ منتخب کیا ہے شریکِ جرم دکھائی دے گا۔ اسی طرح بلیئر کو ووٹ دینے والا ہر برطانوی بھی شریکِ جرم ٹھہرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شدت پسند مغرب کو ’میدانِ حرب‘ یعنی ’میدان جنگ‘ قرار دیتے ہیں۔ اس طرح مغربی افواج کے برخلاف شہریوں کو جائز ہدف ثابت کر کے وہ مہم جو مسلمانوں کے لیے غیر روایتی جنگ کو انتہائی آسان بنا دیا جاتا ہے۔ یہی نہیں اس سے جنت تک رسائی کی مسافت بھی آسان دکھائی دینے لگتی ہے۔ پاکستان کے آزاد خیال حلقے ایک عرصے اس ضرورت پر زور دیتے رہے ہیں کہ عمل کرنے والوں کی بجائے شدت پسندی کی مذہبی اجازت کے تصور پر توجہ دی جائے اور اب اس بات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔
اس کے حق میں وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ شہزاد تنویر پاکستان فوجی تربیت حاصل کرنے نہ آیا ہو اور اس کا مقصد محض اتنے یقین کا حصول ہو کہ وہ جس راستے پر چل رہا ہے وہ درست یا سیدھا جنت کی طرف لے جانے والا ہے۔ پاکستان کی حکومت نے 7 جولائی کو لندن میں ہونے والے حملوں کے بعد تمام مدرسوں میں زیرِ تعلیم غیر ملکی طالبِ علموں کو ملک سے چلے جانے اور تمام مدارس کو رجسٹر کرانے کا حکم دیا تھا۔ مذہبی امور کی وزارت کا کہنا ہے کہ اب تک دس ہزار مدارس نے خود کو رجسٹر کرایا ہے اور نوے فیصد غیر ملکی طالبِ علم ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ اگر حکومت کا یہ دعویٰ درست بھی ہو تو بھی بہت سے لوگ ضرور یہ سوچیں گے کہ کیا اس سے مسئلہ حل ہو جائے گا؟ ایسے لوگوں کی دلیل یہ ہے کہ کہ اصل شدت پسندی کسی انسانی شکل و صورت میں نہیں اس تصور میں ہے جو کسی کو بھی ٹائم بم کی گھڑی کی ٹک ٹک شروع کرنے پر اکسا سکتا ہے۔ اس کے بعد اگر شہزاد تنویر کے تعاقب کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا تو اس پر کسی کو کوئی حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ |
اسی بارے میں لندن حملے: حامیوں پر بغاوت کے مقدمے07 August, 2005 | آس پاس لندن حملے، ایک شخص پر فرد جرم عائد03 August, 2005 | آس پاس لندن حملے: مشتبہ گرفتار تین ہوگئے24 July, 2005 | آس پاس ’لندن حملے عراق جنگ کا نتیجہ ہیں‘18 July, 2005 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||