 |  برطانوی حکومت لندن بم حملوں کو عراق سے منسلک نہیں کرتی |
برطانیہ کے بین الاقوامی امور پر تحقیق کے انتہائی بااثر ادارے نے کہا ہے کہ امریکہ سے قریبی روابط اور افغانستان اور عراق پر حملوں میں امریکی فوج کا ساتھ دینے کی وجہ سے برطانیہ دہشت گردی کا ہدف بن گیا ہے۔ چیٹہم ہاوس نے، جسے رائل انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیرز بھی کہا جاتا تھا، اتوار کو شائع ہونے والی اپنی رپورٹ میں کہا کہ عراق پر حملے کی وجہ سے القاعدہ تنظیم کو دہشت گردوں کی بھرتی اور پراپیگنڈہ میں مدد ملی ہے اور اسے دہشت گردوں کی تربیت کے لیے ایک نیا میدان حاصل ہو گیا ہے۔ برطانوی وزیر دفاع ڈاکٹر جان ریڈ نے رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے دہشت گردی کی حالیہ وارداتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا کہ اگر برطانیہ اس دہشت گردی کے خلاف عالمی مہم کا حصہ نہ بنتا تو محفوظ رہتا تاریخی اعتبار سے غلط ثابت ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ القاعدہ کے واضح نظریات ہیں جو وہ عرب اور باقی دنیا پر ٹھونسنا چاہتا ہے اور جو بھی اس کے راستے میں حائل ہوگا وہ اس کو مارنے میں کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت مضحکہ خیز بات ہوگئی کہ اس کا مقابلہ نہیں کرنا چاہیے اور اس کے راستے سے ہٹ جانا چاہیے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں برطانیہ امریکہ کا ہم رکاب اور برطانیہ کی اس پالیسی کو رپورٹ میں انتہائی خطرناک یا ’ہائی رسک‘ پالیسی قرار دیا گیا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ عراق میں امریکی حملوں کا ساتھ دینا برطانوی اور امریکی فوجیوں کی جانوں کی شکل میں، عراق عوام کی جانوں کی شکل میں اور فوجی اخراجات کے اعتبار سے بہت مہنگا ثابت ہوا ہے۔ رپورٹ میں کہا کہ اس کی وجہ سے انسداد دہشت گردی کے اقدامات میں بھی خلل پڑا ہے۔ وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے سنیچر کو ایک بیان میں کہا تھا کہ لندن میں ہونے والے خودکش بم حملوں کو عراق کی جنگ یا کسی اور پالیسی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ایسے کسی تعلق کو ڈھونڈنا غلط ہے۔ سابق سرکاری افسران اور درس و تدریس سے منسلک صف اول کے لوگوں پر مشتمل اس ادارے نے رپورٹ میں مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کرنے کی برطانیہ کی صلاحیت اس وجہ سے بھی متاثر ہو رہی ہے کہ اہم فیصلہ کا اختیار صرف امریکہ کو حاصل ہے اور وہی پالیسی بناتا ہے۔ |