BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’لندن حملے عراق جنگ کا نتیجہ ہیں‘
عراق
برطانوی حکومت لندن بم حملوں کو عراق سے منسلک نہیں کرتی
برطانیہ کے بین الاقوامی امور پر تحقیق کے انتہائی بااثر ادارے نے کہا ہے کہ امریکہ سے قریبی روابط اور افغانستان اور عراق پر حملوں میں امریکی فوج کا ساتھ دینے کی وجہ سے برطانیہ دہشت گردی کا ہدف بن گیا ہے۔

چیٹہم ہاوس نے، جسے رائل انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیرز بھی کہا جاتا تھا، اتوار کو شائع ہونے والی اپنی رپورٹ میں کہا کہ عراق پر حملے کی وجہ سے القاعدہ تنظیم کو دہشت گردوں کی بھرتی اور پراپیگنڈہ میں مدد ملی ہے اور اسے دہشت گردوں کی تربیت کے لیے ایک نیا میدان حاصل ہو گیا ہے۔

برطانوی وزیر دفاع ڈاکٹر جان ریڈ نے رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے دہشت گردی کی حالیہ وارداتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا کہ اگر برطانیہ اس دہشت گردی کے خلاف عالمی مہم کا حصہ نہ بنتا تو محفوظ رہتا تاریخی اعتبار سے غلط ثابت ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ القاعدہ کے واضح نظریات ہیں جو وہ عرب اور باقی دنیا پر ٹھونسنا چاہتا ہے اور جو بھی اس کے راستے میں حائل ہوگا وہ اس کو مارنے میں کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت مضحکہ خیز بات ہوگئی کہ اس کا مقابلہ نہیں کرنا چاہیے اور اس کے راستے سے ہٹ جانا چاہیے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں برطانیہ امریکہ کا ہم رکاب اور برطانیہ کی اس پالیسی کو رپورٹ میں انتہائی خطرناک یا ’ہائی رسک‘ پالیسی قرار دیا گیا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ عراق میں امریکی حملوں کا ساتھ دینا برطانوی اور امریکی فوجیوں کی جانوں کی شکل میں، عراق عوام کی جانوں کی شکل میں اور فوجی اخراجات کے اعتبار سے بہت مہنگا ثابت ہوا ہے۔ رپورٹ میں کہا کہ اس کی وجہ سے انسداد دہشت گردی کے اقدامات میں بھی خلل پڑا ہے۔

وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے سنیچر کو ایک بیان میں کہا تھا کہ لندن میں ہونے والے خودکش بم حملوں کو عراق کی جنگ یا کسی اور پالیسی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ایسے کسی تعلق کو ڈھونڈنا غلط ہے۔

سابق سرکاری افسران اور درس و تدریس سے منسلک صف اول کے لوگوں پر مشتمل اس ادارے نے رپورٹ میں مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کرنے کی برطانیہ کی صلاحیت اس وجہ سے بھی متاثر ہو رہی ہے کہ اہم فیصلہ کا اختیار صرف امریکہ کو حاصل ہے اور وہی پالیسی بناتا ہے۔

66لندن میں دھماکے
ٹرانسپورٹ نظام نشانے پر: تصویروں میں
لندن یا لندنستان
’لندن دہشت گردوں کا چوراہا بن چکا ہے‘
66برطانوی معاشرہ
مختلف قوموں کے ایک ساتھ رہنے کا مسئلہ
66رمزفیلڈ سینیٹ میں
’عراق کی جنگ میں امریکہ ہار نہیں رہا‘
66عراق میں تباہی
عراق میں خود کش حملوں کی تباہی کے مناظر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد