BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 06 December, 2004, 14:14 GMT 19:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کشمیریوں کے بغیر حل ممکن نہیں‘
News image
برطانیہ کا پہلا دورہ۔
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے برطانیہ کے وزیر اعظم ٹونی بلیئر سے مذاکرات کے بعد کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل کشمیری عوام کی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

اس پریس کانفرنس میں وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے بھارت اور پاکستان کے درمیان مصالحتی کردار ادا کرنے کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ پاکستان اور بھارت کشمیر کے مسئلہ پر کسی حل پر پہنچنےمیں بہت جلد کامیاب ہو جائیں گے۔

وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے کہا کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کے حل کی حمایت کرتے رہیں گے۔

انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر حل کرکے اپنی توجہ دوسرے معاشی اور سماجی مسائل پر مرکوز کر سکیں گے۔

دہشت گردی کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر مشرف نے کہا کہ پاکستان میں القاعدہ کی کمر توڑ دی گئی ہے اور پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 600 سے زیادہ القاعدہ کے ارکان کو گرفتار کیا جا چکا ہے، ان کے اڈے تباہ کئے جاچکے ہیں اور ان کے ’ کمانڈ اور کنٹرول سسٹم‘ کو بھی توڑ دیا گیا ہے۔

جنرل مشرف نے دہشت گردی کے خلاف عالمی سطح پر جاری جنگ کے بارے میں کہا کہ فوجی حل کے ساتھ ساتھ سیاسی اقدامات کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا دور رس تدارک کرنے کے لیے سیاسی تنازعات کا حل ہونا چاہیے۔

صدر مشرف نے عراق کے بارے میں امریکہ اور بر طانیہ کی پالیسیوں کی بھی حمایت کی اور عراق میں انتخابات کرانے کے فیصلے کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں انتخابات کرانا صحیح اقدام ہے اور اس پر کار بند رہنا چاہیے۔

وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے بین الاقوامی سیاسی تنازعات کے حوالے سے کہا کہ ان کو حل کرنے کا یہ بہتریں موقع ہے اور اس کو ضائع نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا ان تنازعات کے حل میں صدر مشرف کا مشورہ بھی بہت ضروری ہے۔

صدر مشرف نے کہا کہ برطانیہ اور پاکستان کے درمیان عالمی معاملات پر ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ یورپ میں پاکستان کا سب بڑا تجارتی شریک ہے۔ انہوں نے کہا یورپ اور برطانیہ سے تجارت کو فروغ دے کر پاکستان میں روز گار کے مزید مواقعے پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح ملک میں غربت کا خاتمہ ممکن ہو گا جو دہشت گردی کو مستقل بنیادوں پر ختم کرنے کے لیے ضروری ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد