BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قبائلی شورش: مذاکرات پر زور

پشتونوں کے اتحاد کےلئے دنیا بھر کے پشتونوں کا گرینڈ جرگہ منعقد کیا جائے گا: اسفندیار ولی
ملک کی تقریباً تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے افغا نستان اور قبائلی علاقوں میں جاری شورش کے خاتمے کےلئے امن اور مذاکرات کی کوششوں پر زور دیا ہے۔

پیر کے روز پشاور میں قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے زیراہتمام پختون امن جرگہ منعقد ہوا جس میں ملک کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے علاوہ دانشوروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

باچا خان مرکز میں منعقدہ اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ مجلس عمل کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن کےلئے ضروری ہے کہ تمام غیر ملکی افواج وہاں سے نکل جائے اور طالبان سمیت تمام بااثر قوتوں کو سیاسی عمل میں شریک کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ بعض قوتیں پختونوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے حالانکہ مسلمان اور پختون ایک ہیں ان کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صدر سینیٹر اسفندیار ولی خان نے کہا کہ لوگ پختونوں کے حقوق اور بچوں کی سلامتی کےلئے جرگوں اور امن کی بات کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پشتونوں کے اتحاد و بیداری کےلئے آئندہ دنیا بھر کے پشتونوں کا مشترکہ گرینڈ جرگہ منعقد کیا جائے گا۔

جرگے سے پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی، اے ارڈی کے رہنما اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا، پاکستان پیپلز پارٹی پارلمینٹرینز کے صوبائی صدر رحیم داد خان ، جماعت اسلامی کے صوبائی امیر سراج الحق، پشاور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس میاں محمد اجمل، سابق چیف سیکرٹری صوبہ سرحد خالد عزیز اور ممتاز شاعر احمد فراز نے بھی خطاب کیا۔

اس موقع پر اے این پی کے مرکزی رہنما افراسیاب خٹک نے ایک قرارداد بھی پیش کی جو شرکاء نے متفقہ طورپر منظور کرلی۔قرارداد میں افغانستان میں بیرونی قوتوں کی مداخلت کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور تمام افغانوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے سیاسی اختلافات کو پرامن مذاکرات کے ذریعے سے حل کریں۔

قرارداد میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں فوج کی طرف سے طاقت کے مسلسل استعمال پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ دو دنوں کے دوران پشاور میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں کا یہ دوسرا بڑا اجتماع تھا۔ اس سے قبل اتوار کے روز متحدہ مجلس عمل کے زیراہتمام بھی’تحفظ قبائل کانفرنس‘ منعقد ہوا تھا جس میں ملک کی تقریباً تمام بڑی بڑی سیاسی جماعتوں نے شرکت کی تھی۔

یاد رہے کہ پشاور میں ان تقاریب کا اہتمام باجوڑ ایجنسی میں دینی مدرسے پر بمباری کے نتیجے میں اسی افراد کے ہلاکت کے بعد منعقد ہورہے ہیں۔

اسی بارے میں
باجوڑ میں اے این پی کا جلوس
15 November, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد