باجوڑ حملہ ملکی سالمیت پر حملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل(ر) اسد درانی کا کہنا ہے کہ باجوڑ میں مدرسے پر بمباری وہاں ہونے والے امن معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی امریکی سازش تھی۔ لِبرل فورم کے زیرِ اہتمام وزیرستان میں ہونے والے امن معاہدے پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ باجوڑ کا حملہ پاکستان کی سالمیت پر حملہ تھا اور حکومت نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر کے فوج کی انتہائی غلط شبیہ پاکستانی عوام اور باقی دنیا کے سامنے پیش کی ہے۔ اسد درانی نے کہا کہ پاکستانی فوج ایسی کارروائی کر ہی نہیں سکتی اور اگر اسے اس مدرسےپر آپریشن کرنے کا حکم دیا جاتا تو وہ دیگر طریقۂ کار اختیار کرتی۔ ان کا کہنا تھا پاکستان کے قبائلی علاقہ جات کا معاشرہ اور وہاں کا نظامِ زندگی دیگر معاشروں کی نسبت مختلف ہے اور وہاں موجود بے چینی اور بد امنی کا خاتمہ بزور ِ طاقت نہیں بلکہ قبائلی سسٹم کےذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔
اسد درانی کا یہ بھی کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان امریکہ کے اتحادی کا رتبہ کھو چکا ہے اور اس کی حیثیت (bounty hunter) کرائے کے قاتل کی سی ہو چکی ہے۔ اس موقع پر آئی ایس آئی کے ایک اور سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) حمید گل نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں صورتحال صرف اسی صورت میں بہتر ہو سکتی ہے کہ جب امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان سے نکل جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کا جلد از جلد انخلاء ہی سے پاکستان کا بہتر مفاد وابستہ ہے۔ حمید گل کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں امن معاہدے اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک حکومت خود انہیں کامیاب بنانے میں مخلص نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ سنہ 2004 میں ہونے والے شکئی معاہدے کا حشر سب کے سامنے ہے اور سب جانتے ہیں کہ امن معاہدے کے بعد کس طرح نیک محمد کو ہلاک کیا گیا اور اس کی ہلاکت کے ساتھ ہی معاہدہ اپنی اہمیت کھو بیٹھا اور یہی کچھ باجوڑ میں ہوا کہ معاہدہ ہونے جا رہا تھا اور چند گھنٹے قبل اسے ناکام بنانے کی مذموم کوشش کی گئی۔ حمید گل نے حکومت پر زور دیا کہ باجوڑ کے واقعے اور پھر درگئی میں ہونے والے حملے کے بعد اسے اپنی پالیسی میں تبدیلی لانی چاہیئے اور اہلِ اقتدار کو یہ بات تسلیم کر لینی چاہیئے کہ قبائلی پر امن لوگ ہیں اور وہ پاکستان کی سلامتی کے مخالف نہیں۔ عسکری امور کے ماہر لیفٹیننٹ جنرل (ر) طلعت مسعود نے اپنے خطاب میں پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ ایک دوسرے پر الزام تراشی کا سلسلہ بند کر دیں کیونکہ اس عمل سے وزیرستان اور طالبان کا مسئلہ حل کرنے کے حوالے سے دونوں حکومتوں کی ناکامی جھلکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دونوں حکومتوں نے آپس میں تعاون نہ کیا تو نہ ہی حالات بدلیں گے اور نہ ہی دونوں جانب حکومتی بالادستی قائم ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ باجوڑ اور درگئی کے واقعات سے اس علاقے میں قیامِ امن کی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ | اسی بارے میں حکومت، جرگے میں رابطے بحال07 November, 2006 | پاکستان باجوڑ مکمل ہڑتال، اسمبلی اجلاس ملتوی 03 November, 2006 | پاکستان باجوڑ میں ہلاک ہونے والے کے نام 09 November, 2006 | پاکستان باجوڑ مدرسہ کا دوبارہ سنگ بنیاد09 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||