باجوڑ میں ہلاک ہونے والے کے نام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے تیس اکتوبر کو باجوڑ میں ایک مدرسے پر میزائیل حملے میں مارے جانے والے اسی افراد میں سے ترتالیس کے ناموں کی فہرست جاری کر دی ہے۔ بدھ کی شام گئے ایک نیوز بریفنگ میں انہوں نے بتایا کہ تاحال باجوڑ واقعہ میں مرنے والے جن ترتالیس افراد کے نام ملے ہیں ان میں چھ افغانستان کے شہری بھی شامل ہیں۔ افغانستان کے شہریوں کے نام انہوں نے عدنان خان، نغیم اللہ، حزب اللہ، ولایت اللہ، ضبیح اللہ اور قطب گل بتائے ہیں لیکن ان کے والد کے نام نہیں بتائے۔ مدرسے پر بمباری میں مارے گئے جن سینتیس پاکستانی شہریوں کے نام بتائے گئے ہیں ان کی عمر اور والد کا نام بھی دیا گیا ہے۔ جبکہ ان میں سے بائیس افراد کے شناختی کارڈ نمبر اور ان کی کاپیاں بھی فراہم کی گئی ہیں۔ وزیر نے ناموں کی جو فہرست جاری کی ہے وہ پاکستان فوج کے تعلقات عامہ کے شعبہ کے لیٹر ہیڈ پر شائع شدہ ہیں۔ واضح رہے کہ چند روز قبل جماعت اسلامی نے ہلاک ہونے والے کی ایک فہرست جاری کی تھی جس میں ان کی عمریں بھی بتائیں تھیں۔ جماعت اسلامی کا دعویٰ ہے کہ حملہ امریکی ڈرون سے کیا گیا اور اس میں مارے جانے والے اسی افراد کو معصوم طالبعلم قرار دیا تھا۔ محمد علی درانی نے کہا کہ شناختی کارڈوں سے ثابت ہوا ہے کہ جماعت اسلامی نے جو عمریں بتائیں تھیں وہ غلط تھیں اور ان کی حقیقی عمر سے کافی کم ہیں۔ وزیر نے حکومت پر تنقید کرنے والے سیاستدانوں پر زور دیا کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور ایسے بیانات دینے سے گریز کریں جس سے شدت پسندوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہو۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ جماعت اسلامی کھل کر باجوڑ واقعہ پر حکومتی موقف کو چلینج کر رہی ہے تو ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جارہی تو وزیر نے کہا کہ حکومت شدت پسندوں کے حامیوں کے خلاف کارروائی کرے گی۔ واضح رہے کہ پیپلز پارٹی سمیت کئی جماعتوں نے مطالبہ کیا تھا کہ حکومت مدرسے میں مرنے والوں کے نام شائع کرے۔ اس میں تاخیر پر حکومت کے خلاف کڑی نکتہ چینی بھی کی جارہی تھی۔ باجوڑ واقعہ میں مارے جانے والوں کی جو فہرست حکومت نے جاری کی ہے اس میں فضل حکیم، گل حسن، نواب خان، سلطنت خان، اسماعیل خان، ظہیر الدین بابر، عبدالکریم، حیات اللہ، ولی سید، تحصیل خان، ضیاءالرحمٰن، اکرام اللہ، عنایت الرحمٰن، راحت اللہ، خان محمد، شہاب الدین، کریم خان، شریف اللہ، محمد یونس، عنایت رحمٰن، افتخار خان، شاہ جہاں، عبدالوارث، محمد اسحٰق، رحمت اللہ، مولوی لیاقت، محمد طاہر، غلام النبی، فضل سبحان، سلیم، بخت منیر، گل شیر، جمروز، نورمحمد، فضلِ وہاب، نمیر اور شبیر شامل ہیں۔ | اسی بارے میں باجوڑ کی بے جوڑ کہانی01 November, 2006 | پاکستان مشرف اور حکومت پر شدید تنقید03 November, 2006 | پاکستان باجوڑ اور سرحد میں احتجاج جاری03 November, 2006 | پاکستان باجوڑ اور سرحد میں احتجاج جاری04 November, 2006 | پاکستان باجوڑ: وکلاء کا حقائق کمیشن 05 November, 2006 | پاکستان حکومت، جرگے میں رابطے بحال07 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||