BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 07 November, 2006, 07:44 GMT 12:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکومت، جرگے میں رابطے بحال

حکومت نے مذاکرات کے دوران حملہ کرکے سنگین غلطی کا ارتکاب کیا ہے: ملک عبدالعزیز
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں مدرسے پر بمباری کےنتیجے میں ہلاکتوں کے بعد حکومت اور مقامی قبائل کے درمیان امن کے حوالے سے تعطل کا شکار رابطے دوبارہ بحال ہوگئے ہیں۔

پیر کو مامون قبائل کی امن کمیٹی کے سربراہ ملک عبد العزیز کی سربراہی میں دس رکنی جرگے کے ممبران نے باجوڑ ایجنسی کے صدرمقام خار میں پولیٹیکل ایجنٹ سے ملاقات کی۔

مدرسے پر بمباری کے بعد مقامی انتظامیہ اور جرگہ اراکین کے درمیان یہ پہلی ملاقات تھی۔ مامون قبائل اور پولیٹکل حکام کے درمیان تئیس اکتوبر کو مدرسے پر بمباری سے تین گھنٹے بعد ایک امن معاہدے پر دستخط ہونے تھے تاہم حملے کے بعد یہ امن مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے تھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے امن کمیٹی کے سربراہ ملک عبد العزیز نے مدرسے پر حملے کے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مذاکرات کے دوران حملہ کرکے قبائلی روایات کی دھجیاں اڑائیں اور سنگین غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’جرگہ جب چل رہا ہو تو فریقین کسی قسم کی خلاف ورزی نہیں کرتے لیکن اس واقعہ میں حکومت کی طرف سے جرگے کی خلاف ورزی کی گئی لہذا اب حکومت ہی کو اعتماد کی فضا بحال کرنا ہوگی‘۔

ہم سب قبائل امن پسند لوگ ہیں اور علاقے میں بھی امن چاہتے ہیں لیکن حکومت کو اس بار ضمانت دینا ہوگی کہ آئندہ مذاکرات کے دوران اس قسم کے واقعات دوبارہ رونما نہیں ہوں گے
ملک عبدالعزیز

ان کہنا تھا کہ اس واقعے پر ساری باجوڑ قوم سراپا احتجاج ہے اور جب تک حکومت کی جانب سے اس واقعے پر معذرت، ہلاک شدگان کو معاوضہ اور تباہ ہونے والے مدرسہ کو دوبارہ تعمیر نہیں کیا جاتا اس وقت تک علاقے میں امن کی فضا بحال کرنا مشکل ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم سب قبائل امن پسند لوگ ہیں اور علاقے میں بھی امن چاہتے ہیں لیکن حکومت کو اس بار ضمانت دینا ہوگی کہ آئندہ مذاکرات کے دوران اس قسم کے واقعات دوبارہ رونما نہیں ہوں گے‘۔

باجوڑ میں حکومت اور مقامی قبائل کے درمیان ازسر نو امن کی فضا کی بحالی کے سوال پر ملک عبد العزیز کا کہنا تھا کہ اس بات کا دارومدار اب حکومت پر ہے کیونکہ مذاکرات میں تعطل کی ذمہ دار حکومت ہے لہذا اب امن کی فضا بحال کرنے میں بھی پہل ان ہی کی جانب سے ہونی چاہیے۔

ادھر باجوڑ کے واقعے کے خلاف صوبہ سرحد اور باجوڑ ایجنسی میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ پیر کو باجوڑ میں صدیق آباد پھاٹک اور لوئے سم کے مقامات پر دو الگ الگ احتجاجی مظاہرے ہوئے جس سے باجوڑ میں قائم سیاسی اتحاد کے رہنماؤں نے خطاب کیا۔

مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ باجوڑ واقعہ پر قبائلی روایات کے مطابق فوری طور پر معافی طلب کی جائے اور ہلاک شدگان کو معاوضہ ادا کیا جائے۔

صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں بھی پیر کو تاجراتحاد کی اپیل پر مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے کیے گئے جبکہ منگل کو پورے ضلع میں پہیہ جام ہڑتال کی کال دی گئی ہے۔

عینی شاہدین کا بیان
مدرسے پرحملہ ایسے لگتا تھا جیسے زلزلہ ہو
قبائلی علاقوں میں حملہواویلہ پھر خاموشی
باجوڑ کے بعد کس نے کیا کیا؟ عامر احمد خان
باجوڑ بمباری
ہلاکتوں کے خلاف ملک گیر احتجاج
بے جوڑ کہانی
باجوڑ کی حکومتی کہانی میں جھول نمایاں ہیں
 متحدہ مجلس عمل کی حکومت بھی زخمیوں کو نظرانداز کررہی ہےباجوڑ کے تین زخمی
شدت پسند یا معصوم؟ حکومت خاموش کیوں؟
باجوڑ حملے کے اثرات
کیا وزیرستان معاہدہ برقرار رہ سکے گا؟
اسی بارے میں
باجوڑ کی عورتوں کی بے بسی
06 November, 2006 | پاکستان
باجوڑ: مقامی صحافی گرفتار
06 November, 2006 | پاکستان
باجوڑ: وکلاء کا حقائق کمیشن
05 November, 2006 | پاکستان
باجوڑ بمباری کے خلاف احتجاج
03 November, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد