حکومت، جرگے میں رابطے بحال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں مدرسے پر بمباری کےنتیجے میں ہلاکتوں کے بعد حکومت اور مقامی قبائل کے درمیان امن کے حوالے سے تعطل کا شکار رابطے دوبارہ بحال ہوگئے ہیں۔ پیر کو مامون قبائل کی امن کمیٹی کے سربراہ ملک عبد العزیز کی سربراہی میں دس رکنی جرگے کے ممبران نے باجوڑ ایجنسی کے صدرمقام خار میں پولیٹیکل ایجنٹ سے ملاقات کی۔ مدرسے پر بمباری کے بعد مقامی انتظامیہ اور جرگہ اراکین کے درمیان یہ پہلی ملاقات تھی۔ مامون قبائل اور پولیٹکل حکام کے درمیان تئیس اکتوبر کو مدرسے پر بمباری سے تین گھنٹے بعد ایک امن معاہدے پر دستخط ہونے تھے تاہم حملے کے بعد یہ امن مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے تھے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے امن کمیٹی کے سربراہ ملک عبد العزیز نے مدرسے پر حملے کے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مذاکرات کے دوران حملہ کرکے قبائلی روایات کی دھجیاں اڑائیں اور سنگین غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’جرگہ جب چل رہا ہو تو فریقین کسی قسم کی خلاف ورزی نہیں کرتے لیکن اس واقعہ میں حکومت کی طرف سے جرگے کی خلاف ورزی کی گئی لہذا اب حکومت ہی کو اعتماد کی فضا بحال کرنا ہوگی‘۔ ان کہنا تھا کہ اس واقعے پر ساری باجوڑ قوم سراپا احتجاج ہے اور جب تک حکومت کی جانب سے اس واقعے پر معذرت، ہلاک شدگان کو معاوضہ اور تباہ ہونے والے مدرسہ کو دوبارہ تعمیر نہیں کیا جاتا اس وقت تک علاقے میں امن کی فضا بحال کرنا مشکل ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم سب قبائل امن پسند لوگ ہیں اور علاقے میں بھی امن چاہتے ہیں لیکن حکومت کو اس بار ضمانت دینا ہوگی کہ آئندہ مذاکرات کے دوران اس قسم کے واقعات دوبارہ رونما نہیں ہوں گے‘۔ باجوڑ میں حکومت اور مقامی قبائل کے درمیان ازسر نو امن کی فضا کی بحالی کے سوال پر ملک عبد العزیز کا کہنا تھا کہ اس بات کا دارومدار اب حکومت پر ہے کیونکہ مذاکرات میں تعطل کی ذمہ دار حکومت ہے لہذا اب امن کی فضا بحال کرنے میں بھی پہل ان ہی کی جانب سے ہونی چاہیے۔ ادھر باجوڑ کے واقعے کے خلاف صوبہ سرحد اور باجوڑ ایجنسی میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ پیر کو باجوڑ میں صدیق آباد پھاٹک اور لوئے سم کے مقامات پر دو الگ الگ احتجاجی مظاہرے ہوئے جس سے باجوڑ میں قائم سیاسی اتحاد کے رہنماؤں نے خطاب کیا۔ مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ باجوڑ واقعہ پر قبائلی روایات کے مطابق فوری طور پر معافی طلب کی جائے اور ہلاک شدگان کو معاوضہ ادا کیا جائے۔ صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں بھی پیر کو تاجراتحاد کی اپیل پر مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے کیے گئے جبکہ منگل کو پورے ضلع میں پہیہ جام ہڑتال کی کال دی گئی ہے۔ |
اسی بارے میں باجوڑکے زخمی نامعلوم جگہ منتقل06 November, 2006 | پاکستان باجوڑ کی عورتوں کی بے بسی06 November, 2006 | پاکستان باجوڑ: مقامی صحافی گرفتار06 November, 2006 | پاکستان باجوڑ: وکلاء کا حقائق کمیشن 05 November, 2006 | پاکستان باجوڑ اور سرحد میں احتجاج جاری04 November, 2006 | پاکستان باجوڑ اور سرحد میں احتجاج جاری03 November, 2006 | پاکستان باجوڑ بمباری کے خلاف احتجاج03 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||