باجوڑ بمباری کے خلاف احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سکریٹری اطلاعات احسن اقبال نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ باجوڑ کے واقعے کی فوری تحقیقات کا حکم دیں۔ باجوڑ میں مدرسے پر بمباری کے نتیجے میں اسّی سے زائد افراد کی ہلاکت کے خلاف مسلم لیگ (ن) کی جانب سے منعقدہ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے پر پوری قوم سراپا احتجاج ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی عدالتِ عظمٰی کے سربراہ ہونے کے ناطے چیف جسٹس آف پاکستان کو بے گناہوں کے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کروانی چاہئیں تاکہ حکومت کے اس دعوے کا پول کھل سکے کہ مارے جانے والے تمام دہشت گرد تھے۔ اسلام آباد کی لال مسجد کے سامنے ہونے والے اس مظاہرے میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ اگرچہ اس مظاہرے کا انتظام مسلم لیگ (ن) کی جانب سے کیا گیا تھا لیکن شرکاء کی ایک بڑی تعداد مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھتی تھی۔
مظاہرین نے پلے کارڈ اور بینر اٹھا رکھے تھے جن پر مشرف اور امریکہ مخالف نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے تقاریر کے دوران شدید نعرے بازی بھی کی۔ اپنی تقریر میں احسن اقبال نے کہا کہ’جب بھی پاکستان میں کوئی برطانوی یا امریکی اہم وی آئی پی آتا ہے تو مشرف حکومت اسے بےگناہ عوام کے خون کا ندرانہ پیش کرتی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ باجوڑ کا واقعہ بھی امریکی مدد حاصل کرنے کے لیے دکھائی جانے والی کارکردگی کا حصہ ہے۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے دیگر مقررین نے بھی مشرف حکومت اور امریکہ پر کڑی تنقید کی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ باجوڑ کے واقعے پر پاکستانی قوم کا مجموعی ردعمل بہت کمزور ہے اور جب تک عوام ایسے المناک واقعات کی بھرپور مذمت نہیں کریں گے اس وقت تک حکمران امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اس قسم کے اقدامات کرتے رہیں گے۔ | اسی بارے میں باجوڑ مکمل ہڑتال، اسمبلی اجلاس ملتوی 03 November, 2006 | پاکستان باجوڑ کارروائی ہم نے کی: گورنر01 November, 2006 | پاکستان باجوڑ: قبائل میں شدید اشتعال31 October, 2006 | پاکستان ’جماعت اسلامی کا ہاتھ ہے‘01 November, 2006 | پاکستان کراچی،اسلام آباد میں بھی مظاہرے31 October, 2006 | پاکستان باجوڑ حملہ، حکمران جماعت کا احتجاج16 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||