باجوڑ: مقامی صحافی گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی کی انتظامیہ نے پیر کو باجوڑ سے وکلاء کی تفتیشی ٹیم کو نکال دیا اور پانچ مقامی صحافیوں کو نظر بند کر دیا۔ ادھر یہ بھی اطلاع ہے کہ مدرسے پر بمباری میں زخمی ہونے والے افراد کو پشاور سے کسی نا معلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق باجور میں مدرسے پر پاکستانی فوج کی بمباری کے بعد وکلاء کے حقائق کمیشن کے علاقے پر پہنچنے پر حکام نے انہیں موقع پر جانے سے روکنے کی کوشش کی تاہم یہ گروپ خار میں واقع اس مدرسے تک پہنچ گیا۔ وفد کی قیادت کرنے والے بیرسٹر باچا نے موقع پر پہنچ کر حکومتی دعووں پر شک و شبہات ظاہر کیے اور کہا کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ سپریم کورٹ نے اتنے بڑح واقعے کی از خود نوٹس نہیں لیا ہے۔ انہوں نے حکومت کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے باہر سکیورٹی کے ’لیویز‘ اہلکاروں نے وکلاء کو علاقے سے باہر نکال دیا اور پشاور کی طرف روانہ کر دیا لیکن ان کے ہمراہ مقامی صحافیوں کو حراست میں لے لیا۔ ان مقامی صحافیوں میں مسعود خان، ڈاکٹر نور حکیم، حسین احمد، ظفر اللہ اور محمد ابراہیم شامل ہیں۔ ان صحافیوں نے بمباری کے بعد صورتحال کی رپورٹنگ کی تھی جو کہ سرکاری موقف اور دعووں سےمختلف تھی ۔ کئی ماہ پہلے قبائلی علاقے فاٹا کے ایک صحافی حیات اللہ کو اغوا کر کے قتل کر دیا گیا تھا اور کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ یہ کام حکومت کے اہلکاروں نے کیا تھا۔ بمباری میں 80 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||