BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 09 November, 2006, 13:53 GMT 18:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ مدرسہ کا دوبارہ سنگ بنیاد

باجوڑ مدرسہ
جماعت نے تعمیر نو کے لیے دس لاکھ روپے مختص کیے ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں جماعت اسلامی نےجمعرات کو اس مدرسے کا دوبارہ سنگ بنیاد رکھا جس کو گزشتہ ہفتے فوج نے ایک حملے میں تباہ کر دیا تھا۔

جماعت کا کہنا ہے کہ تین ماہ میں مدرسے کی عمارت کو مکمل کر لیا جائے گا اور اس کی گنجائش اسی طلبہ سے بڑھا کر آٹھ سو کی جائے گی۔

جماعت اسلامی نے باجوڑ میں پاکستانی فوج کے حملے میں تباہ ہونے والے مدرسے کی تعمیرنو کا اعلان گزشتہ دنوں کیا تھا۔

اس حملے کے خلاف بظاہر احتجاج میں سینر صوبائی وزیر کے عہدے سے مستعفی ہونے والے جماعت اسلامی کے صوبائی امیر سراج الحق نے آج مدرسے کی تعمیر نو کا سنگ بنیاد رکھا۔

اس موقع پر سراج الحق کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے اس مقصد کے لیے دس لاکھ روپے مختص کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے اگر اس مدرسے میں اسی طلبہ کی گنجائش تھی تو اب اسے بڑھا کر آٹھ سو کیا جائے گا۔

اس موقعہ پر جماعت اسلامی کے ہی مستعفی ہونے والے رکن قومی اسمبلی ہارون رشید بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کل اسمبلی میں اپنی الوداعی تقریر کریں گے اور اس نشست پر اگر ضمنی انتخاب ہوا تو اس میں بھی حصہ نہیں لیں گے۔

حملے میں ہلاک ہونے والے مدرسے کے مہتم مولوی لیاقت کے چچا زاد بھائی مولانا عبدالمجید نے بھی اس موقع پر خطاب کیا اور ایک مرتبہ پھر واضع کیا کہ ان کا القاعدہ یا طالبان سے کوئی تعلق ہے اور نہ ان میں سے کسی کا کوئی رہنما ان کے پاس آیا کرتا تھا۔

انہوں نے درگئی میں فوجی کیمپ پر حملے کی بھی مذمت کی اور وفاقی وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ کے دونوں واقعات کو جوڑنے کی کوشش پر تنقید کی۔

پاکستان فوج کی مدرسے پر بمباری میں اسی افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حکومت کا کہنا تھا کہ اس مدرسے میں خودکش حملوں کی تربیت دی جاتی تھی جبکہ مقامی قبائلی اسے جھوٹ قرار دیتے ہیں۔

باجوڑ کے زخمیباجوڑ کے زخمی
تین زندہ بچے زخمیوں کا کؤئی پتہ نہیں
’سراسر غلط بیانی‘
’کوئی کیمپ نہیں تھا، حکومت جھوٹ بولتی ہے‘
باجوڑ: بے بس عورتیں
جھگڑے رکوانے میں خواتین کا کردار ختم
 متحدہ مجلس عمل کی حکومت بھی زخمیوں کو نظرانداز کررہی ہےباجوڑ کے تین زخمی
شدت پسند یا معصوم؟ حکومت خاموش کیوں؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد