باجوڑ مدرسہ کا دوبارہ سنگ بنیاد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں جماعت اسلامی نےجمعرات کو اس مدرسے کا دوبارہ سنگ بنیاد رکھا جس کو گزشتہ ہفتے فوج نے ایک حملے میں تباہ کر دیا تھا۔ جماعت کا کہنا ہے کہ تین ماہ میں مدرسے کی عمارت کو مکمل کر لیا جائے گا اور اس کی گنجائش اسی طلبہ سے بڑھا کر آٹھ سو کی جائے گی۔ جماعت اسلامی نے باجوڑ میں پاکستانی فوج کے حملے میں تباہ ہونے والے مدرسے کی تعمیرنو کا اعلان گزشتہ دنوں کیا تھا۔ اس حملے کے خلاف بظاہر احتجاج میں سینر صوبائی وزیر کے عہدے سے مستعفی ہونے والے جماعت اسلامی کے صوبائی امیر سراج الحق نے آج مدرسے کی تعمیر نو کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس موقع پر سراج الحق کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے اس مقصد کے لیے دس لاکھ روپے مختص کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے اگر اس مدرسے میں اسی طلبہ کی گنجائش تھی تو اب اسے بڑھا کر آٹھ سو کیا جائے گا۔ اس موقعہ پر جماعت اسلامی کے ہی مستعفی ہونے والے رکن قومی اسمبلی ہارون رشید بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کل اسمبلی میں اپنی الوداعی تقریر کریں گے اور اس نشست پر اگر ضمنی انتخاب ہوا تو اس میں بھی حصہ نہیں لیں گے۔ حملے میں ہلاک ہونے والے مدرسے کے مہتم مولوی لیاقت کے چچا زاد بھائی مولانا عبدالمجید نے بھی اس موقع پر خطاب کیا اور ایک مرتبہ پھر واضع کیا کہ ان کا القاعدہ یا طالبان سے کوئی تعلق ہے اور نہ ان میں سے کسی کا کوئی رہنما ان کے پاس آیا کرتا تھا۔ انہوں نے درگئی میں فوجی کیمپ پر حملے کی بھی مذمت کی اور وفاقی وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ کے دونوں واقعات کو جوڑنے کی کوشش پر تنقید کی۔ پاکستان فوج کی مدرسے پر بمباری میں اسی افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حکومت کا کہنا تھا کہ اس مدرسے میں خودکش حملوں کی تربیت دی جاتی تھی جبکہ مقامی قبائلی اسے جھوٹ قرار دیتے ہیں۔ |
اسی بارے میں باجوڑ اور سرحد میں احتجاج جاری03 November, 2006 | پاکستان باجوڑ مکمل ہڑتال، اسمبلی اجلاس ملتوی 03 November, 2006 | پاکستان باجوڑ بمباری: قافلے کو روک دیا گیا01 November, 2006 | پاکستان مدرسہ کی تعمیر3 ماہ میں: جماعت02 November, 2006 | پاکستان ’ان پر دنیا کا ہم پر اللہ کادباؤ ہے‘31 October, 2006 | پاکستان مدرسے پر بمباری: 80 افراد ہلاک31 October, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||