BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 13 November, 2006, 17:39 GMT 22:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ حملہ امریکہ نے کیا تھا: رپورٹ

باجوڑ مدرسہ
کمیشن کا کہنا ہے کہ مدرسے پرحملہ افغانستان سرحد کی جانب سے کیا گیا
باجوڑ میں مدرسے پر بمباری کے واقعے کی تحقیقات کرنے والے وکلاء کے ایک کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بمباری امریکی طیاروں نے کی تھی۔

پشاور ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کے تحقیقاتی کمیشن نے گزشتہ ہفتے باجوڑ مدرسے کا دورہ کیا اور اس سے متعلق پانچ صفحات پرمشتمل تفصیلی رپورٹ آج صوبائی دارالحکومت پشاور میں صحافیوں اور وکلاء کے سامنے پیش کی ۔

کمیشن کے سربراہ بیرسٹر باچا کا کہنا تھا کہ عینی شاہدین کے مطابق حملہ افغانستان کی سمت سے ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی لوگوں کے مطابق پاکستانی ہیلی کاپٹر پچیس منٹ بعد وہاں پہنچے۔

رپورٹ کے مطابق مدرسے پرافغانستان کی جانب مغربی سمت میں درودیوار کو کافی نقصان پہنچا جبکہ پاکستانی سرحد کی جانب کے مکانات محفوظ رہے۔ انہوں نےایک بم پر لکھے چند نمبروں کا ذ کر بھی رپورٹ میں شامل کیا ہے۔

وکلاء کے مطابق مقامی لوگ بمباری کے بعد وہاں پہنچے تو کئی لاشوں کی شناخت ناممکن تھی۔ تاہم ان کے مطابق مرنے والوں کی عمریں آٹھ سے اٹھارہ برس کے درمیان تھیں۔انہوں نے کہا کہ انہیں کسی عسکری تربیت یا اسلحے کے کوئی آثار نہیں ملے۔

 رپورٹ کے مطابق مدرسے پر افغانستان کی جانب مغربی سمت میں درودیوار کو کافی نقصان پہنچا جبکہ پاکستانی سرحد کی جانب کے مکانات محفوظ رہے۔ رپورٹ میں ایک بم پر لکھے چند نمبروں کا ذ کر بھی شامل ہے۔

کمیشن میں بیرسٹر باچا کے علاوہ، محمد خورشید خان، قیصر رشید خان، غلام نبی خان، کریم خان محسود اور احمد زیب خان شامل تھے۔

یہ پہلا آزاد وفد تھا جس نے مدرسہ ضیاءالعلوم تعلیم قرآن کا دورہ کیا تھا۔ حکومت نے اس علاقع میں صحافیوں کےداخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس حملے کا بظاہر مقصد باجوڑ میں امن معاہدے کے لیے ماحول کو خراب کرنا تھا۔

اس موقعع پر وکلاء نے دو قرار دادیں بھی منظور کیں جن میں حکومتی موقف کو مسترد کر دیا گیا۔ پشاور ڈسٹرکٹ بارایسو سی اسشن کے صدر فدا گل کے مطابق حکومت نے مدرسے کی جوفلم دکھائی ہے وہ تورا بورا میں طالبان نے تیار کی تھی اور سی ڈیزپر دستیاب ہے۔

حکومت پاکستان کا مدرسے کے بارے میں موقف رہا ہے کہ وہاں خودکش حملوں کی تربیت دی جا رہی تھی اور اس جگہ پرانہوں نے ایک برس سے نظر رکھی ہوئی تھی۔ حکومت اس حملے میں بچوں کی ہلاکت کی بھی تردید کرتی ہے۔

اسی بارے میں
باجوڑ: ’مخبر‘ کی لاش برآمد
02 November, 2006 | پاکستان
درگئی: حملے کے بعد
08 November, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد