درگئی: حملے کے بعد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
درگئی میں فوجیوں پر خودکش حملے کے واقعے کے چند گھنٹوں بعد میں جب اس مقام پر پہنچا تو ایسا محسوس ہوا کہ یہاں تو کچھ ہوا ہی نہیں۔ فٹبال پِچ کے سائز کا یہ میدان ایسا صاف کہ نہ کوئی کپڑے کا چیتھڑا اور نہ کوئی گڑھا۔ میدان میں پانی کا چھڑکاؤ کر کے اور سفید چونے سے اس کے درمیان گول دائر بنا کر اسے فوراً ہیلی پیڈ میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ مالاکنڈ لیویز اور فوجی اس کے گرد جگہ جگہ بیٹھے مقامی لوگوں کو اطراف سے آنے سے منع کر رہے تھے۔ لیکن لوگوں کا ہجوم چاروں جانب تھا۔ ایک سپاہی سے ان مجمے کے بارے میں دریافت کیا تو تمام دن انہیں پیچھے دھکیلنے کے بعد اس نے تنگ آکر کہا کہ ’ہمارے لوگوں کے پاس فالتو وقت بہت ہے۔ یہ سب تماشے کے لیے صبح سے کھڑے ہیں۔ فوجی ہیلی کاپٹر تھوڑی دیر بعد آتے جاتے دکھائی دیے۔ وہ اس میدان میں بنے ہیلی پیڈ میں تو نہیں اتر رہے تھے لیکن زخمیوں اور لاشوں کے لیئے کہیں اور سے اڑان بھر رہے تھے۔ پشاور کو مالاکنڈ سے ملانے والی ایک انتہائی مصروف شاہراہ کے ایک جانب یہ میدان ہے تو دوسری جانب برطانوی باقیات کا وہ قلعہ ہے جہاں یہ فوجی رہتے تھے۔ پنجاب رجمنٹ سینٹر کے باہر کھڑے تھے کہ چودہ ایمبولینس میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی لاشیں قلعے سے نکلیں۔ خیال تھا کہ پشاور کی جانب روانہ ہونگی لیکن انہوں نے بٹ خیلہ کی سمت رخ کیا۔ پوچھنے پر بتایا گیا کہ شاید بٹ خیلہ ہسپتال میں ان لاشوں کو مناسب تابوتوں میں ڈال کر ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کیا جائے گا۔ درگئی پشاور سے تقریباً نوے کلومیٹر شمال میں نیم قبائلی علاقے مالاکنڈ کے آغاز پر واقع ہے۔ اس چھوٹے سے قصبے کے شروع میں اس کا چند سو دکانوں پر مشتمل چھوٹا سا بازار آتا ہے۔ گہما گہمی والے اس بازار میں بٹ خیلہ کی جانب روانہ ہوں تو بازار سے باہر یہ قلعہ واقع ہے۔ میدان سڑک سے چار پانچ فٹ نیچے ہے۔ نہ کوئی دیوار، نہ باڑ اور نہ کوئی جھاڑیاں۔ ہر آنے جانے والے کو میدان میں کھڑا ہر کوئی با آسانی دکھائی دیتا ہے۔ اس میدان کو دیکھ کر محسوس ہوا کہ شاید علاقے کے ساتھ واقع باجوڑ ایجنسی میں واقعات کے بعد بھی یہاں سکیورٹی کے انتظامات میں سختی نہ کرنا غفلت کے زمرے میں آتا ہو۔اس طرح سر عام سڑک کنارے تربیت تو کسی بھی تخریب کار کے لیے ایک آسان ہدف تھا جس کا فائدہ انہوں نے اٹھایا۔ اس تربیتی میدان کے قریب ایک مکان کی تعمیر میں مصروف ایک مستری نے بتایا کہ دھماکے سے زمین ہل گئی اور وہ زخمیوں کی مدد کے لیے بھاگے۔ انہوں نے کہا کہ زخمی چیخ رہے تھے اور پانی مانگ رہے تھے۔ اس واقع کے بعد مقامی آبادی کی تشویش میں انتہائی اضافہ ہوا ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ کہیں جنوبی وزیرستان سے شروع ہونے والی تشدد کی آگ شمالی وزیرستان اور باجوڑ سے ہوتے ہوئے ان کے علاقے میں نہ پہنچ جائے۔ جس سے بھی ملے سب نے اس واقعہ پر افسوس کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ فوجی رنگروٹ تین ماہ قبل ہی فوج میں شامل ہوئے تھے۔ ان کی عمریں بھی کوئی زیادہ نہ تھیں۔ | اسی بارے میں پاک فوج کے تربیتی مرکز پر ’خودکش‘ حملہ: 42 فوجی ہلاک 08 November, 2006 | پاکستان ’مشرف کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ‘08 November, 2006 | پاکستان خودکش حملہ آور کے ساتھی کی تلاش08 November, 2006 | پاکستان فوج پر حملے، کب اور کیسے08 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||