BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 November, 2006, 13:13 GMT 18:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مشرف کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ‘

درگئی
ایم ایم اے نے پشاور کے اخباری کانفرنس میں اس حملے کو افسوس ناک قرار دیا
چھ مذہبی جماعتوں پر مشتمل اتحاد متحدہ مجلس عمل نے درگئی میں فوجی مرکز پر حملے کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے اس کارروائی کو صدر جنرل پرویز مشرف کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا ہے جبکہ سرحد اسمبلی نے بھی ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے آرمی مرکز پر حملے کی مذمت کی ہے۔

بدھ کے روز پشاور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایم ایم اے کے صوبائی رہنما اور جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مشتاق احمد خان نے بتایا کہ پرویز مشرف کی ’امریکہ نواز‘ پالیسیوں کی وجہ سے آج پورا ملک خطرات سے دوچار ہے ہر طرف بے چینی، بے یقینی اور عدم تحفظ کی فضا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو کچھ قبائلی علاقوں اور بالخصوص باجوڑ میں ہوا یہ سب حکومت نے امریکہ کے اشارے پر کیا ہے۔ مشتاق احمد خان نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اب فوج چھاونیوں میں محفوظ نہیں رہی اور بقول ان کے یہ مشرف کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہورہا ہے۔

ایم ایم اے کے رہنما نے اس بات کی بار بار سختی سے تردید کی کہ درگئی حملہ باجوڑ کے واقعے کا ردعمل ہوسکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قبائل پُرامن لوگ ہیں اور باجوڑ کے واقعے کے بعد قبائلی علاقوں میں کوئی تشدد کا واقعہ رونما نہیں ہوا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ قبائیلی عوام پرامن احتجاج پر یقین رکھتے ہیں۔

ادھر سرحد اسمبلی کے اجلاس میں بھی حکومت اور اپوزیشن بنچوں نے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے سے درگئی میں فوجی مرکز پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

اس سے قبل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایم ایم اے کےرہنماؤں مشتاق احمد خان اور ایم این اے شجاع ملک نے اعلان کیا کہ باجوڑ کے واقعہ کے حوالے سے 19 نومبر کو پشاور میں آل پارٹیزتحفظ قبائل کانفرنس منعقد کی جائے گی جس میں تمام سیاسی جماعتوں کو دعوت دی جائی گی۔

 باجوڑ کے رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ ہارون رشید نے پشاور میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب میں کہا ہے کہ باجوڑ کے واقعے میں ہلاک ہونے والے طلباء کے لواحقین کو عنقریب میڈیا کے سامنے لایا جائے گا اوراس بات کو شواہد کے ساتھ ثابت کرایا جائے گا کہ یہ حملہ امریکی طیاروں نے کیا تھا اور اس مدرسے میں کوئی غیر ملکی نہیں تھا

انہوں نے کہا کہ امریکہ میں گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد سے قبائلی علاقے بحران کی زد میں ہیں اور اسلامی مدارس، علماء کرام اور طلباء ہر طرف سے خطرات سے دوچار ہیں۔

ادھر باجوڑ کے رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ ہارون رشید نے پشاور میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب میں کہا ہے کہ باجوڑ کے واقعے میں ہلاک ہونے والے طلباء کے لواحقین کو عنقریب میڈیا کے سامنے لایا جائے گا اوراس بات کی شواہد کے ساتھ ثابت کرایا جائے گا کہ یہ حملہ امریکی طیاروں نے کیا تھا اور اس مدرسے میں کوئی غیر ملکی نہیں تھا۔

فوج حملوں کی زد میں
پاک فوج پر حملے، کب اور کیسے
’جہاد‘ کا اعلان
خار میں احتجاجی جلسہ اور مظاہرین کا پتھراؤ
 متحدہ مجلس عمل کی حکومت بھی زخمیوں کو نظرانداز کررہی ہےباجوڑ کے تین زخمی
شدت پسند یا معصوم؟ حکومت خاموش کیوں؟
اسی بارے میں
گورنر سرحد پر راکٹ حملہ
07 November, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد