باجوڑ بمباری: آدھا سچ، آدھا جھوٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشتگردی کے خلاف ایک طویل جنگ کی وجہ سے صورتحال انتہائی پیچیدہ ہوچکی ہے جس کی وجہ سے یہ ممکن ہے کہ باجوڑ پر حملے کے حوالے سے جہاں حکومت کا موقف غلط ہے وہیں مذہبی جماعتوں کے دعوے بھی صحیح نہیں۔ حکومتی دعوے کے مطابق مدرسے میں ہلاک ہونے والے تمام لوگ دہشتگرد تھے جبکہ حکومت مخالفین اور مقامی افراد کہتے ہیں کہ ہلاک شدگان میں زیادہ تر دینی تعلیم حاصل کرنے والے بچے تھے۔ باجوڑ اور اس کے آس پاس کے دیہات کے تفصیلی دورے کے بعد جہاں حملے میں کم عمر بچوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی وہیں حملے کے وقت مدرسے میں بڑی عمر کے افراد کی موجودگی کے شواہد بھی ملے۔ مدرسے کے محل وقوع اور عمارت کی سائز کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ حکومتی دعوٰی صحیح نہیں لگتا کہ اس عمارت کو دہشتگردی کی تربیت کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ ایک تو مدرسہ آبادی کے بہت نزدیک ہے جبکہ قبائلی جنگجوؤں کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ آبادی سے ہٹ کر تربیتی کیمپ لگاتے ہیں اور دوسرا یہ کہ اس عمارت میں اتنی جگہ ہی نہیں کہ 80 افراد تربیت حاصل کر سکیں۔
جہاں تک مدرسے میں معصوم بچوں کی ہلاکت کی بات ہے تو جس جگہ مدرسہ واقع ہے وہ پورا گاؤں اس بات پر متفق ہے کہ ہلاک شدگان میں بچے شامل ہیں اور دوسرا یہ کہ ہلاک شدگان کے والدین میں سے بعض خود اس عمر کے ہیں کہ ان کی اولاد چودہ پندرہ برس سے زیادہ کی نہیں ہو سکتی۔ مدرسے میں بڑی عمر کے افراد کی موجودگی کے حوالے سے یہ بات اہم ہے، ماضی میں بھی یہ قبائلی جنگجو مدرسوں میں ہی مشاورت کے لیے اکٹھے ہوتے رہے ہیں اور مقامی لوگوں سے جو شواہد ملے ہیں ان کے مطابق یہ ممکن ہے کہ حملے کے وقت مدرسے میں پینتیس سے چالیس کی تعداد میں بالغ مرد موجود تھے لیکن حکومت کے اپنے بیان کے مطابق بھی انہیں اس مدرسے سے ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سےیہ پتہ چلے کہ یہ لوگ جنگجو یا دہشتگرد تھے۔ مذہبی جماعتوں کے مطابق مدرسے میں غیرملکی موجود نہیں تھے۔ تاہم باجوڑ کے دورے کے دوران مقامی افراد نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں گیارہ افغان باشندے تھے جبکہ تین کا تعلق مہمند ایجنسی سے تھا۔ تاہم پولیٹیکل ایجنٹ مہمند ایجنسی کسی بھی ہلاک ہونے والے فرد کے ایجنسی سے تعلق سے انکار کرتے ہیں۔ جہاں تک مدرسے میں زیادہ لوگوں کی موجودگی کا سوال ہے تو مقامی افراد کے مطابق والدین بچوں کو عید کے فوراً بعد مدرسوں میں داخل کرانے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ اس کے بعد داخلہ ملنا مشکل ہو جاتا ہے۔ دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں بسنے والے قبائلی چودہ پندرہ سال کی عمر میں عام شہریوں کے مقابلے میں جسمانی طور پر زیادہ تندرست و توانا ہوتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بچے نہیں ہوتے۔ یہ بھی واضح رہے کہ ان علاقوں میں مذہب کے غلبے کی وجہ سے بچہ بچہ جہاد اور شہادت کا شوقین نظر آتا ہے لیکن ان سب کو اس بنیاد پر دہشتگرد نہیں کہا جا سکتا۔ |
اسی بارے میں باجوڑ ایجنسی: نو مشتبہ قبائلی رہا21 October, 2006 | پاکستان مدرسے پر فوج کی بمباری، ’80 افراد ہلاک‘30 October, 2006 | پاکستان مدرسے پر بمباری: 80 افراد ہلاک30 October, 2006 | پاکستان باجوڑ حملے کے بعد کس نے کیا کیا؟31 October, 2006 | پاکستان مدرسے پر بمباری: 80 افراد ہلاک31 October, 2006 | پاکستان ’ان پر دنیا کا ہم پر اللہ کادباؤ ہے‘31 October, 2006 | پاکستان حکومت کو مطلوب مولوی فقیر کون؟01 November, 2006 | پاکستان یومِ احتجاج: ’جہاد اور انتقام‘ کا عہد31 October, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||