BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 November, 2006, 19:08 GMT 00:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ میں اے این پی کا جلوس

Anp workers
اے این پی حامیوں نے پابندی کے خلاف مظاہرہ کیا۔ [ فائل فوٹو ]
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی کی انتظامیہ نے عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت کو مدرسے پر بمباری میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے تعزیت کے لئے ایجنسی میں داخل ہونے نہیں دیاہے۔

سکیورٹی دستوں نے اے این پی کے کارکنوں کی جانب سے زبردستی ایجنسی میں داخل ہونے کی کوشش ناکام بنانے کے لئے لاٹھی چارج کیا، آنسوگیس کا استعمال کیا اور ہوائی فائرنگ بھی کی۔

باجوڑ میں گزشتہ دنوں مدرسے پر بمباری کے واقعے کے خلاف عوامی نیشنل پارٹی نے بدھ کو متاثرین سے یوم یکجہتی منانے کا اعلان کیا تھا۔ اس سلسلے میں عوام سے جلوس میں شامل ہونے کے لیے اخبارمیں اشتہارات بھی دیئے تھے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفند یار ولی خان کی سربراہی میں پارٹی کارکنوں کا ایک بڑا جلوس باجوڑ میں بمباری سے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے تعزیت کے لیئے جانا چاہتا تھا لیکن اسے توقعات کے مطابق ضلع دیر سے باجوڑ میں داخلے کے مقام تور غنڈئی پر روک لیا گیا۔

جلوس کے شرکاء روکاوٹیں توڑتے ہوئے تقریباً ایک کلومیٹر آگے نکل گئے لیکن آگے سکیورٹی اہلکاروں نے ان پر لاٹھی چارج کیا، آنسو گیس کے گولے چلائے اور ہوائی فائرنگ کی۔ اس افراتفری میں اسفندیار ولی معمولی زخمی بھی ہوگئے۔

Bajaur Madarsa
باجوڑ مدرسے پر بمباری میں اسّی لوگ ہلاک ہلاک ہوۓ تھے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے وہیں احتجاجی جلسہ اور ہلاک ہونے والوں کے لیئے دعاے مغفرت کی۔ اسفندیار کے علاوہ اے این پی کے صوبائی سربراہ بشیر بلور اور سیکریٹری جنرل میاں افتخار نے بھی مظاہرین سے خطاب کیا اور حکومت کی طرف سے بمباری جیسے اقدامات کو ظلم قرار دیا۔

اس موقعہ پر اے این پی کے مشتعل کارکنوں نے صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف نعرہ بازی کی۔

 شدت پسندوں اور انتہا پسندوں کا یہاں آنے کی اجازت ہے ہمیں نہیں
اے این پی رہنما میاں محد افتخار

اے این پی کے صوبائی سیکریٹری جنرل میاں افتخار نے واپسی پر بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات چیت کرتے ہوۓ اپنے ردعمل میں کہا کہ انہیں آج معلوم ہوا ہے کہ وہ اپنے ملک کے کسی حصے میں نہیں جا سکتے۔ ’شدت پسندوں اور انتہا پسندوں کو وہاں جانے کی اجازت ہے ہمیں نہیں۔‘

یاد رہے کہ قبائلی علاقوں میں سیاسی سرگرمیوں پر حکومت نے پابندی لگا رکھی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد