باجوڑ: حکومت، اپوزیشن اختلافات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اپوزیشن رہنماؤں نے دعوٰی کیا ہے کہ باجوڑ میں ہلاک ہونے والے تمام افراد معصوم تھے جبکہ حکومتی وزراء نے ایک مرتبہ پھر اس دعوے کو رد کرتے ہوئے اسے اہم معاملات سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ پیر کو باجوڑ کے معاملے پر قومی اسمبلی میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کے برعکس منگل کو جب سپیکر سے حکومتی اور اپوزیشن لیڈرز کی ملاقات کے بعد اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو کسی قسم کی ہنگامہ آرائی دیکھنے میں نہیں آئی۔ اپوزیشن کی جانب سے باجوڑ کے معاملے پر بحث کرتے ہوئے ایم ایم اے کے رہنما حافظ حسین احمد کا کہنا تھا کہ حکومت کے جھوٹ کا عالم یہ ہے کہ ایک جانب تو باجوڑ میں مرنے والے افراد کو فوج کے ترجمان غیر ملکی دہشتگرد قرار دے رہے ہیں تو دوسری جانب وزیرِ اطلاعات ان کے قومی شناختی کارڈ پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام جاننا چاہتے ہیں کہ وہ کونسی قوتیں ہیں جو شمالی وزیرستان اور باجوڑ کے امن معاہدوں کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں۔ حافظ حسین احمد کا کہنا تھا کہ جب ایک فردِ واحد ملک کے فیصلے کرے گا تو ملک یقینی طور پر مطلق العنانیت کا شکار ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسی بھی معاملے پر پارلیمان کو اعتماد میں نہیں لے رہی ہے۔ باجوڑ سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ ہارون الرشید نے اپنی تقریر میں اسمبلی سے باقاعدہ طور پر مستعفی ہونے کا اعلان کیا اور ان کا کہنا تھا کہ ان کا استعفٰی باجوڑ کے عوام کے خیالات کی ترجمانی کرتا ہے۔ قبائلی رکن قومی اسمبلی مولانا معراج دین نےاپنی تقریر میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ باجوڑ میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو معاوضہ دیا جائے جس پر وزیرِ پارلیمانی امور ڈاکٹر شیر افگن نے کہا کہ ’حکومت دہشتگردوں کی موت کا معاوضہ ادا نہیں کرتی‘۔
مسلم لیگ(ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے باجوڑ کے حقائق جاننے کے لیئے ایک پارلیمانی کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں نے اس ملک کو دارالحرب بنا دیا ہے اور دارالحرب میں مسلح جدوجہد جائز ہوتی ہے۔ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ حکومت خود پاکستانیوں کو دہشتگرد ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہے اور میڈیا پر مرنے والے افراد کے شناختی کارڈ دکھا کر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ پاکستانی ایک دہشتگرد قوم ہیں۔ حکومت کی جانب سے بحث سمیٹتے ہوئے وفاقی وزیرِ پارلیمانی امور ڈاکٹر شیر افگن نے اپوزیشن رہنماؤں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ دراصل اپوزیشن جماعتیں تحفظِ حقوقِ نسواں بل سے توجہ ہٹانے کے لیئے لاحاصل بحث جاری رکھے ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ باجوڑ میں ہونے والی کارروائی سے امن معاہدے کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا کیونکہ یہ معاہدہ باجوڑ کے عوام سے کیا جا رہا تھا نہ کہ دہشتگردوں سے۔ انہوں نے کہا کہ باجوڑ کا مدرسہ جماعتِ اسلامی کا تھا اور یہی وجہ ہے کہ اس کے رہنما اس کارروائی پر چراغ پا ہیں۔ حکومتی تقاریر کے دوارن ہی کورم ٹوٹنے کی وجہ سے اجلاس بدھ کی صبح دس بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔ اجلاس کے التواء کے بعد پارلیمنٹ کیفے ٹیریا میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ اطلاعات محمد علی درانی نے کہا کہ کورم ٹوٹنا اپوزیشن کی اخلاقی شکست ہے اور اپوزیشن نے انتہائی غیر جمہوری اور غیر ذمہ دارانہ رویے کا ثبوت دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے پاس جذباتی نعروں کے سوا کچھ نہیں۔ باجوڑ کے رکن اسمبلی کے استعفی پر ان کا کہنا تھا کہ استعفوں کی سیاست غیر ضروری ہے کیونکہ ملکی مسائل پر سب سے بہتر انداز میں ایوان کے اندر رہ کر ہی اپنا مؤقف بیان کیا جا سکتا ہے۔ | اسی بارے میں باجوڑ بمباری: آدھا سچ، آدھا جھوٹ10 November, 2006 | پاکستان باجوڑ حملہ امریکہ نے کیا تھا: رپورٹ13 November, 2006 | پاکستان ’مشرف کےخلاف تحریک چلے گی‘12 November, 2006 | پاکستان فاتحہ کی اجازت نہ ملنے پرہنگامہ 13 November, 2006 | پاکستان پاکستان کے ’بے گھر‘ ممبران اسمبلی24 May, 2006 | پاکستان سولہ منتخب ارکان پر پابندی15 October, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||