BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فاتحہ کی اجازت نہ ملنے پرہنگامہ

مدرسے پر حملے میں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں
حافظ حسین احمد نے مرحوم رکن اسمبلی عبدالستار افغانی اور باجوڑ اور درگئی کے واقعات میں مارے جانے والے افراد کے لیے فاتحہ خوانی کرنی چاہی
باجوڑ میں مدرسے پر بمباری کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے اسّی افراد کے لیے فاتحہ خوانی کی اجازت نہ دینے پر ایم ایم اے اراکین کی نعرے بازی اور احتجاج کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس منگل کی صبح دس بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

پیر کی شام جب اجلاس شروع ہوا تو متحدہ مجلس عمل کی جانب سے حافظ حسین احمد نے رکن اسمبلی عبدالستار افغانی اور باجوڑ اور درگئی کے واقعات میں مارے جانے والے افراد کے لیے فاتحہ خوانی شروع کر دی۔

اس موقع پر سپیکر قومی اسمبلی چوہدری امیر حسین نے انہیں منع کیا اور کہا کہ ایوان میں عبدالستار افغانی کے لیے فاتحہ خوانی ہو چکی ہے لہذا یہ عمل دوبارہ نہ شروع کیا جائے۔ تاہم حافظ حسین احمد نے اپنی تقریر جاری رکھی جس پر سپیکر نے ان کا مائیک بند کر دیا۔

اس پر ایم ایم اے کے اراکینِ قومی اسمبلی اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور حکومت کے خلاف زور شور سے نعرے بازی کرنے لگے۔ سپیکر نے اس رویے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اجلاس پندرہ منٹ کے لیے ملتوی کر دیا۔

احتجاج
نہ مجھے پارلیمان میں ’باجوڑ میں معصوم افراد کی شہادت‘ پر بات کرنے دی جا رہی ہے اور نہ ہی اپنے مرحوم رکنِ اسمبلی ساتھی کی فاتحہ پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے اور میں اس پر بھرپور احتجاج کرتا ہوں
حافظ حسین احمد
اجلاس کے التواء کے فوراً بعد ایم ایم اے اور مسلم لیگ(ن) کے اراکینِ اسمبلی ڈائس پر جمع ہوگئے اور انہوں نے باجوڑ واقعے کے ذمہ دار افراد، امریکہ اور مشرف حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ اس موقع پر حافظ حسین احمد کا کہنا تھا کہ نہ انہیں پارلیمان میں ’باجوڑ میں معصوم افراد کی شہادت‘ پر بات کرنے دی جا رہی ہے اور نہ ہی اپنے رکنِ اسمبلی ساتھی کی فاتحہ پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے اور وہ اس پر بھرپور احتجاج کرتے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کا کوئی بھی رکن ابتداء میں اس احتجاج میں شامل نہیں ہوا تاہم کچھ دیر بعد پی پی پی کے چند اراکینِ اسمبلی دیگر احتجاجی اراکین سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ڈائس کے نزدیک آ گئے۔

جب اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو سپیکر نے کہا کہ اپوزیشن اراکین کے احتجاجی رویے سے ایوان کا تقدس پامال ہوا ہے اور خالی احتجاج کی سیاست کا کوئی فائدہ نہیں۔ چوہدری امیر حسین کا کہنا تھا کہ انہوں نے اجلاس ملتوی کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈران کو باجوڑ اور درگئی کے واقعات پر بحث کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے اپنے چیمبر میں طلب کیا تھا تاہم ایم ایم اے کا کوئی رہنما وہاں نہیں پہنچا اور اس سے ان کی ان معاملات پر سنجیدگی کا اندازہ ہوتا ہے۔

اس کے بعد سپیکر نے اجلاس منگل کی صبح دس بجے تک ملتوی کرتے ہوئے ایوان کی تمام سرکردہ جماعتوں کے رہنماؤں کو باجوڑ اور درگئی پر بحث کا معاملہ طے کرنے کے لیے منگل کی صبح نو بجے اپنے چیمبر میں طلب کر لیا۔

اسی بارے میں
باجوڑ: مقامی صحافی گرفتار
06 November, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد