مزید خود کش حملوں کا خطرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے کہا ہے کہ مزید خود کش بم حملوں کے بارے میں انٹیلیجنس معلومات کی بنا پر ملک بھر میں حفاظتی انتظامات سخت کردیئے گئے ہیں۔ بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویوں میں انہوں نے کہا کہ عوام کی حفاظت کرنا حکومت کا فرض ہے اور جب بھی کوئی معلومات ملتی ہے تو ملک کی اہم عمارتوں اور تنصیبات کی حفاطت کے لیے اقدامات کرتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا کہ اطلاعات کے مطابق پانچ خود کش بمباروں کا ایک گروہ ملک میں مزید حملے کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے تو وزیر داخلہ نے کہا کہ انہیں جب بھی اس طرح کی معلومات ملتی ہے تو وہ حکومتی ایجنسیوں اور صوبائی حکومتوں کو حفاظتی انتظامات سخت کرنے کی ہدایت کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ بعض مقامی اخبارات میں پیر کو ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے حوالے سے خبر شائع ہوئی ہے کہ انٹیلیجنس معلومات کے مطابق پانچ خود کش بمباورں کا ایک گروہ اسلام آباد سمیت کہیں بھی ملک میں حملے کرسکتا ہے اور اس خدشے کے پیش نظر اسلام آباد میں غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ اسلام آباد میں جگہ جگہ پولیس کے ناکے لگے ہوئے ہیں جبکہ گشت میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ پارلیمان اور دیگر اہم عمارتوں کے باہر بھی پولیس تعینات کی گئی ہے۔ پارلیمان میں داخل ہونے والوں کی سخت تلاشی لی جاتی ہے اور سادہ کپڑوں میں اہلکاروں کی تعیناتی بھی معمول سے زیادہ نظر آتی ہے۔ ایک سوال پر وزیر داخلہ نے کہا کہ ہوائی اڈوں پر انتہائی خطرے یعنی ’ریڈ الرٹ‘ کا تاثر غلط ہے لیکن ان کے مطابق وہاں بھی معمول کی سیکورٹی کو سخت کیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ ایسی بات نہیں کرنا چاہتے جس سے لوگ خوفزدہ ہوں۔ جب ان سے پوچھا کہ اب تک سیکورٹی فورسز نے بہت جگہوں پر حملے کیے لیکن اور کہیں حکومت پر اتنا شبہہ نہیں کیا گیا جتنا باجوڑ کے مدرسے پر حملہ متنازعہ بن گیا ہے تو وزیر داخلہ نے کہا کہ مذہبی جماعتیں اس واقعہ کو اپنی انتخابی مہم کا حصہ بنا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کے پاس ثبوت نہیں ہوتے تو وہ اپنے شہریوں پر کیوں حملے کرے گی؟ درگئی میں بیالیس فوجیوں کی ہلاکت کی تحقیقات میں تاحال کوئی ’لیڈ‘ ملنے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ پیش رفت ہوئی ہے لیکن وہ فی الوقت اس بارے میں کچھ بتا نہیں سکتے۔ اسلام آباد میں پارلیمان اور آئی ایس آئی کے دفتر کے سامنے راکٹ نصب کرنے کے الزام میں حاضر سروس فوجیوں کی گرفتاری کی تردید کرتے ہوئے آفتاب احمد شیر پاؤ نے کہا اس واقعہ میں ’ریٹائرڈ فوجیوں کا تعلق ہوسکتا ہے‘۔ | اسی بارے میں پاکستان میں خود کش حملوں کا بڑھتا رجحان18 July, 2006 | پاکستان حملہ آور کے ساتھی کی تلاش ختم09 November, 2006 | پاکستان عارفہ اور صبا کا کوئی خواب نہ تھا11 June, 2005 | پاکستان پاکستان:حملوں کی مبینہ سازش 21 August, 2004 | پاکستان پاکستان میں سکیورٹی الرٹ26 August, 2006 | پاکستان عاشورہ پر سخت حفاظتی اقدامات09 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||