رفعت اللہ اورکزئی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | درگئی کے آرمی ٹریننگ سنٹر پر ہونے والے خود کش حملے میں بیالیس جوان ہلاک ہوئے |
درگئی میں گزشتہ روز فوجی تربیتی مرکز پر خودکش حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کی طرف سے خودکش حملہ آور کے ساتھی کی تلاش کےلیے شروع کیا گیا آپریشن ختم کردیا گیا ہے۔ درگئی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جمعرات کے روز پاک فوج کے کمانڈوز ، فرنٹیر کور اور ملاکنڈ لیوی کے دستوں نے درگئی بازار سے تین کلو میٹر دور شمال میں واقع درگئی مہاجر کیمپ کا محاصرہ کیا اور جاسوسی کتوں کی مدد سے اردگرد کے علاقوں میں تلاشی لی۔ فوج اور سکیورٹی اہلکاروں کو شبہ تھا کہ خود کش حملہ آوور کے ساتھ ان کا ایک ساتھی بھی تھا جو حملے کے بعد قریبی گنے کے کھیتوں میں روپوش ہوگیا تھا۔ ایک مقامی صحافی عبد اللہ عابد جو آج صبح سیکورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران ان کے ہمراہ تھے انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ خودکش حملہ آور کے ساتھی کی تلاش کےلیے شروع کیا گیا آپریشن جمعرات کی صبح بھی جاری رہا جس کا دائرہ درگئی کے نزدیک واقع علاقوں تک پھیلایا گیا۔ تاہم تاحال اس سلسلے میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فورسز کے ہمراہ ماہر کتے بھی تھے جن کی مدد سے قریبی علاقوں کی تلاشی لی گئی اور کئی گھنٹوں تک علاقے کو محاصرے میں رکھا گیا۔ عبد اللہ عابد نے بتایا کہ تھوڑی دیر پہلے یہ آپریشن ختم کردیا گیا ہے اور فورسز کو اب واپس بلا لیا گیا ہے۔ تاہم ان کے مطابق علاقے میں ابھی بھی سرکاری اہلکار سفید کپڑے میں موجود ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ افتاب احمد خان شیرپاؤ نے بھی جمعرات کے روز درگئی میں پنجاب رجمنٹ کے تربیتی مرکز کا دورہ کیا ۔سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر نے اس جگہ کا بھی معائنہ کیا جہاں پر گزشتہ روز خودکش حملہ ہوا تھا ۔ انہوں فوجی مرکز میں زیر تربیت جوانوں اور وہاں پر تعینات افسروں سے بھی ملاقات کی۔ ادھر درگئی سے پاکستان پیپلز پارٹی پارلمینٹرین کے رکن صوبائی اسمبلی سید علی محمد شاہ باچا نے گزشتہ روز کے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے حکومت کی ناکام پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا۔ درگئی پریس کلب میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا صدر پرویز مشرف فوج کو سیاست میں ملوث کرکے ان کے وقار کو ٹھیس پہنچا رہے ہیں ۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کیا کہ آج اپنے ملک کے اندر فوج پر حملے ہورہے ہیں۔ |