عارفہ اور صبا کا کوئی خواب نہ تھا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں حیدری مسجد پر ہونے والے بم حملے کے بعد گزشتہ جون کو گھر سے غائب ہونے والی ’خود کش بمبار‘ بہنوں عارفہ اور صبا کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ بچپن سے ہی مذہبی رجحان رکھتی تھیں اور بچپن میں ہی انہیں مذہبی تعلیم دی گئی تھی۔ انہیں گزشتہ ہفتے ہی سوات سے گرفتار کیا گیا ہے اور کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ ان کو مذہبی منافرت پھیلانے والے گروہوں نے خود کش حملوں کے لیے تیار کیا ہے اور ایک سال سے اِن کو تلاش کیا جا رہا تھا۔ عارفہ اور صبا کے والد شیر محمد بلوچ اپنے برادرِ نسبتی گُل حسن کو اپنے گھر کی تباہی کا ذمہ دار گردانتے ہیں۔ کالعدم سُنی شدت پسند تنظیم لشکر جھنگوی کے مبینہ رکن گل حسن کو کراچی کی ایک عدالت نے گزشتہ ہفتے ہی شیعہ مسجد پر حملوں کے جرم میں پینتالیس مرتبہ موت کی سزا سنائی ہے۔ عارفہ اور صبا کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ غائب ہونے سے پہلے اپنے ماموں گُل حسن کے گھر گئی تھیں۔ شیر محمد کا کہنا ہے کہ وہ گُل حسن کے معاملے میں پہلے ہی چوکس تھے جو اکثر گھنٹوں اپنے بھانجوں بھانجیوں سے بات چیت کرتے رہتے تھے۔ ’جب گُل حسن کے بھائی انور حسن کو لشکر جھنگوی کا رکن ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تو میں نے اپنے بچوں کو اس سے ملنے سے روک دیا۔ اس پر گُل حسن بہت ناراض ہوا اور اسی بنا پر ہماری لڑائی بھی ہوئی۔‘ بعد میں شیر محمد بلوچ کی بیوی نے دونوں کی صلح کرائی اور گُل حسن دوبارہ ان کے گھر آنے لگے۔ بیس سالہ عارفہ انٹر اور اٹھارہ سالہ صبا میٹرک کی طالبہ ہے۔ دونوں لیاری کے علاقے بغدادی میں مہر اسکول میں زیر تعلیم تھیں۔ ان کے والد شیر محمد کا کہنا ہے کہ میری بچیاں پہلے امریکی سفارتخانے کے قریب واقع کراچی ہائی سکول میں پڑہتی تھیں مگر اسکول دور ہونے کی وجہ سے ان کو مقامی سکول میں داخل کروایا گیا۔
اپنی بیٹیوں کے گھر سے غائب ہونے کا ذکر کرتے ہوئے شیر محمد بلوچ نے بتایا کہ گُل حسن کی گرفتاری کے بعد اس کی بیوی چند روز تک ان کے گھر رہیں۔ ’وہ میری بیٹیوں صبا اور عارفہ سے بہت پیار کرتی تھی۔ ہماری گھر سے جانے کے چند روز بعد اس نے یہ کہہ کر میری بیٹیوں کو اپنے گھر بلایا کہ وہ تنہا محسوس کر رہی ہے۔‘ دونوں بہنیں انتیس جون سن دو ہزار چار کو اپنے ننیھال جانے کا بہانہ کر کے گُل حسن کے گھر چلی گئیں۔ لیکن جن ان کے باپ نے انہیں واپس گھر آنے کو کہا تو وہ غائب ہو گئیں۔ بنگلانی بلوچ قبیلے سے تعلق رکھنے والا یہ خاندان لیاری میں پانچ کمروں کے مکان میں رہتا ہے۔ بلوچ روایات کی وجہ سے عارفہ اور صبا نے مستقبل میں کچھ بننے کے خواب نہیں دیکھے تھے۔ ان کی والدہ کا کہنا ہے کہ ہمارے خاندان میں لڑکیاں ڈاکٹر انجنیر نہیں بنتی اور نہ ہی ملازمت کر تی ہیں اس وجہ سے ان کی بچیوں نے ایسا کوئی خواب نہیں دیکھے تھے۔ حجاب پہن کر گھر سے باہر نکلنے والی عارفہ اور صبا کی زندگی محدود تھی ۔ ان کی والدہ آمنہ بتاتیں ہیں کہ ہمارے گھر میں ٹی وی بھی نہیں ہے۔ جبکہ بچیاں گھر کے اوپر والے حصہ میں بھی نہیں جاتی تھیں۔ ان کی والدہ کہتی ہیں کہ چھت پر کپڑے ڈالنے بھی وہ خود ہی جاتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بچپن میں ان کی بیٹیوں کی سہیلیاں آتی تھیں مگر اب نہ ان کی سہیلیاں آتی تھیں نہ وہ کہیں جاتی تھیں۔
عارفہ اور صبا کی والدہ آمنہ کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹیاں اپنے ماموں کے گھر زیادہ نہیں جاتی تھیں نہ وہ ان کے گھر آتے تھے ۔ اس کی تین بیٹیاں ہیں جو ساری پانچ سال سے کم عمر ہیں۔ آمنہ کے مطابق ان کا بھائی ایک بنک میں ملازم تھا وہ زیادہ پڑھا لکھا نہیں غربت کی وجہ سے پانچ جماعت پڑھ سکا ہے۔ دوسری جانب پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کا کہنا ہے کہ عارفہ اور صبا کے بارے میں ان کو کچھ معلوم نہیں ۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ عارفہ اور صبا کیا کسی ایجنسی کی تحویل میں نہیں ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ یہ وزارت داخلہ کا معاملہ ہے ان سے معلوم کریں۔ جبکہ کراچی پولیس کے سربراہ طارق جمیل کا کہنا تھا کہ عارفہ اور صبا کی گرفتاری کی ان کو کوئی باضاطہ اطلاع نہیں دی گئی۔ اس وجہ سے ان کو لینے کے لیے اسلام آباد کوئی ٹیم نہیں جارہی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں بہنوں پر کوئی مقدمہ درج نہیں ہے جب صورتحال واضح ہوگی تو قانونی پوزیشن کے مطابق فیصلہ کیا جائیگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||