اسلام آباد بم حملہ: 18 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امام بری کے مزار پر خود کش بم حملے میں کم سے کم اٹھارہ افراد ہلاک اور چھیاسی زخمی ہوگئے ہیں۔ ابتدائی طور پر ہلاک ہونے والوں کی تعداد کا اندازہ بیس لگایا گیا تھا۔ دھماکہ جمعہ کی صبح گیارہ بجے کے قریب اس وقت ہوا جب پانچ روزہ عرس کے آخری دن کی تقریبات جاری تھیں۔ پاکستان میں کسی صوفی بزرگ کی درگاہ پر خود کش بم حملے کا تو یہ پہلا واقعہ ہے۔ البتہ کچھ عرصہ قبل صوبہ بلوچستان کی ایک درگاہ پر ایک بم دھماکہ ہوا تھا جس کی وجہ سے کئی لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔ بری امام کا مزار وزیراعظم ہاؤس اور قائد اعظم یونیورسٹی کے درمیان واقع ہے اور سفارتی علاقہ، ایوانِ صدر، پارلیمنٹ کی عمارت اور سپریم کورٹ بھی اس جگہ سے بہت زیادہ دور نہیں۔ اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر طارق محمود پیرزادہ کے حوالے سے سرکاری خبر رساں ادارے نے بتایا ہے کہ انہوں نے بم دھماکوں میں اٹھارہ افراد کی ہلاکت اور چھیاسی زخمی ہونے کی تصدیق کردی ہے۔ آئی جی پولیس کے مطابق یہ ایک خود کش بم دھماکہ تھا جس کی تفتیش پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیز نے شروع کردی ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ فی الوقت یہ کہنا ہے کہ یہ فرقہ وارانہ دہشت گردی ہے یا نہیں، قبل از وقت ہوگا۔ صدر جنرل پرویم مشرف اور وزیراعظم نے اس کو دہشت گردی کا عمل قرار دیتے ہوئے واقعے پر افسوس ظاہر کیا ہے۔ وزیراعظم نے ہلاک ہونے والے ہر فرد کے ورثا کے لیے ایک لاکھ روپیہ امداد کا اعلان بھی کیا ہے۔ حملے کے بعد درگاہ کی چار دیواری کے اندر صدر دروازے کی دائیں جانب لاشیں بکھری ہوئی تھیں۔ ابتدائی طور پر پولیس نظر نہیں آئی اور ’مختار فورس‘ کے رضا کار لاشوں پر چادریں ڈال کر انہیں ڈھانپ کر ایمبولینس میں ڈال رہے تھے۔ دھماکے کے فوری بعد بھاری تعداد میں پولیس تعینات کر دی گئی اور اسلام آباد انتظامیہ نے راولپنڈی سے پنجاب پولیس کے دستے بھی مدد کے لیے بلوائے ہیں۔ عینی شاہد ایس ایم شیرازی نے بی بی سی کو بتایا کہ مجلس جاری تھی اور جیسے ہی تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کا وفد مزار پر حاضری دے کر مجلس گاہ میں پہنچا تو شدید دھماکہ ہوگیا اور ایک شخص کی گردن شامیانے سے ٹکرائی اور نیچے گری۔ ان کے مطابق یہ خودکش بمبار تھا جو مارا گیا اس کے جسم کے اعضاء دور دور تک پھیل گئے۔ شیرازی نے اس مشتبہ بمبار کا سر دکھایا جو پیچھے سے پھٹا ہوا تھا لیکن چہرا پھر بھی قابل شناخت حالت میں موجود تھا۔ مشتبہ بمبار شکل سے نوجوان لگ رہا تھا۔ اس کی ہلکی موچھیں بھی تھیں جبکہ بال تھوڑے سے گھنگریالے لگ نظر آرہے تھے۔ سرگودھا سے آنے والے ایک ملنگ بابا سید ریاض حسین شاہ نے بتایا کہ اچانک دھماکے کے بعد بھگدڑ مچ گئی اور ہر طرف لاشیں بکھری ہوئی تھیں اور قیامت صغریٰ کا عالم تھا۔ ان کے ساتھ ہی کھڑے ہوکر دھاڑیں مار کر رونے والے ایک شخص نے اپنا تعلق بھی سرگودھا کی تحصیل بھلوال سے بتایا اور کہا کہ وہ پندرہ ساتھیوں سمیت یہاں آئے تھے اور اب میتوں کی شناخت کر رہے ہیں۔ ایک نوجوان عینی شاہد محمد شاہد نے بتایا کہ جب مجلس جاری تھی تو پولیس والے غائب تھے اور باہر ہوٹل پر بیٹھ کر چائے پی رہے تھے۔ بری امام کے عرس کے ابتدائی چار روز تک مسلمان نیز غیر مسلم اور مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے عقیدت مندوں کی تقریبات ہوتی ہیں۔ لیکن آخری دن مسلمان اقلیت اہل تشیع کے لوگ حضرت امام حسین ماتم بھی کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے مختلف درگاہوں پر جہاں شیعہ آتے ہیں وہاں سنی مسلک سمیت مختلف فرقوں کے لوگ بھی اپنی عقیدت کے تحت حاضری دیتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||