BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 October, 2006, 23:58 GMT 04:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دہشت گرد‘ کیا چاہتے ہیں؟

’امریکہ نے، دشمن کو جانچے پرکھے بغیر اس کے خلاف بآوازِ بلند اعلانِ جنگ کر دیا ہے جو کہ اُلٹا نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔‘
مغربی دنیا میں نئی کتابوں کےایسے بے شمار ’نیلام گھر‘ موجود ہیں جہاں طباعت کے کچھ ہی عرصہ بعد تازہ کتاب پہنچ جاتی ہے اور اصل قیمت سے بہت کم پر فروخت ہوتی ہے۔

ضروری نہیں کہ اِن کتابوں میں طباعت کا کوئی سقم ہو یا صفحات کی ترتیب اُلٹی سیدھی ہوگئی ہو یا چھاپے کی سیاہی میں کمی بیشی ہوگئی ہو۔ بعض اوقات فوری ضرورت سے زاید چھپی ہوئی کاپیاں بھی اِن کتاب منڈیوں میں پہنچ جاتی ہیں۔

کتابوں کےایسے ’وئر ہاؤس‘ طالب علموں اور معلموں میں یکساں مقبول ہیں اور اب لاہور میں گلبرگ کے مین بلیوارڈ پر پہلی مرتبہ کتابوں کا ایک ایسا گودام کھُلا ہے جس میں تازہ ترین مغربی مطبوعات انتہائی سستے داموں میسر ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ پروفیسروں یا طالب علموں کی بجائے یہاں کُتب فروشوں کی بھیڑ لگی ہے جو کہ انھی کتابوں کو اپنی دکانوں کے شوکیس میں سجا کر پوری قیمت پر بیچنے کی کاروباری حرص رکھتے ہیں۔

تو آئیے ہم بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لیں اور اس امریکی کتاب کی تھوڑی سی ورق گردانی کریں جو دائیں ہاتھ کی شیلف کےنچلے خانے میں پڑی ہے۔ نام ہے:

WHAT TERRORISTS WANT:
Understanding the Enemy
by Louise Richardson

یعنی ’دہشت گرد کیا چاہتے ہیں‘۔ از لوئیس رچرڈسن

مصّنفہ کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ القاعدہ والوں نے ہماری مغربی سوسائٹی کو اچھی طرح چھان پھٹک کر دیکھا ہے اور ہمارے آزاد معاشرے کی کمزوریوں سے مکمل آ گاہی حاصل کی ہے اور اس کے بعد انھوں نے ہم پر حملے شروع کئے ہیں جبکہ اہلِ مغرب، خاص طور پر امریکہ نے، دشمن کو جانچے پرکھے بغیر اس کے خلاف بآوازِ بلند ’اعلانِ جنگ‘ کر دیا ہے جو کہ اُلٹا نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔

مصنفہ کے مطابق القاعدہ جیسی تنظیم کو پھولنے پھلنے کےلئے تین عناصر درکار ہوتے ہیں۔
اوّل: اُکھڑے اور اُجڑے ہوئے، زندگی سے بیزار لوگوں کا ایک گروہ
دوم: ساز باز کا ماحول
سوم: تباہی پھیلانے کا ایک مضبوط نظریاتی جواز

حالات نے القاعدہ کو یہ تینوں عناصر عطا کر دیئے ہیں۔ ہر دہشت گرد تنظیم کی طرح القاعدہ کے جیالے بھی صرف تین مقاصد رکھتے ہیں:
اپنی آتشِ انتقام کو ٹھنڈا کرنا
اپنے کارناموں کی شہرت پہ فخر کرنا
اپنے دشمن کی تلملاہٹ سے محظوظ ہونا

القاعدہ کی شہرت دوام کا سبب
 امریکہ کی بش انتظامیہ نے القاعدہ کے خلاف عالمی سطح پر واویلا مچا کر اسے ابدی شہرت بخش دی ہے اور دہشت گردی کے خلاف ’اعلانِ جنگ‘ کر کے دنیا بھر کو یہ تاثر دیا ہے کہ یہ ایک عسکری مسئلہ ہے اور اسے فوجی قوّت کے زور سے ہی ختم کیا جا سکتا ہے، چنانچہ اس مہم کا سرخیل امریکی محکمہء دفاع کو بنا دیا گیا ہے
لوئیس رچرڈسن

مصنفہ کے بقول القاعدہ کے یہ تینوں مقاصد بدرجہ اتم پورے ہورے ہیں کیونکہ امریکہ کی بش انتظامیہ نے القاعدہ کے خلاف عالمی سطح پر واویلا مچا کر اسے ابدی شہرت بخش دی ہے اور دہشت گردی کے خلاف ’اعلانِ جنگ‘ کر کے دنیا بھر کو یہ تاثر دیا ہے کہ یہ ایک عسکری مسئلہ ہے اور اسے فوجی قوّت کے زور سے ہی ختم کیا جا سکتا ہے، چنانچہ اس مہم کا سرخیل امریکی محکمہء دفاع کو بنا دیا گیا ہے۔

ماضی میں بھی اس طرح کی تحریکوں کو کبھی فوجی قوت کے ذریعے نہیں کچلا جا سکا۔ مثلاً سن پچاس کے عشرے میں ملایا میں برطانیہ نے جس طرح حالات قابو میں کئے، یا پیرو میں شائننگ پاتھ کی تحریک کو جسطرح ختم کیا گیا اور ترکی نے کُردوں کی ’پی۔ کے۔ کے‘ تحریک کو جسطرح لگام ڈالی، اِن سب مثالوں میں کہیں بھی مدِّ مقابل کے خلاف محض اعلانِ جنگ نہیں کیا گیا تھا بلکہ عسکری کاروائی کے ساتھ ساتھ معاشی، سیاسی، معاشرتی اور نفسیاتی محاذوں پر بھی کوششیں جاری رکھی گئی تھیں۔

اِن مثالوں میں مصنفہ نے ایک اہم مثال نظر انداز کر دی یعنی مشرقی پنجاب میں سکھوں کی تحریک جس پر بالآخر حکومتِ ہند نے قابو پا لیا تھا۔

بہرحال اِن تمام مثالوں میں جو بات یکساں ہے وہ یہ ہے کہ حکومتوں نے بڑے پیمانے کے فوجی حملے کرنے کی بجائے پولیس، عدلیہ اور مخبروں کو استعمال کیا اور حاصل ہونے والی معلومات کو سیاسی، معاشرتی اور نفسیاتی ماہرین کے سامنے رکھا۔ اِن تمام مثالوں میں کامیابی کی کنجی ایک ہی تھی یعنی شدت پسندوں کو معاشرے کے بڑے دھارے سے الگ کر دیا گیا۔ لیکن ایسا کرنے کےلئے سوسائٹی کے پِسے ہوئے طبقے کو انصاف مہیّا کرنا اور اُن نادار عوام کی جائز شکایات دُور کرنا ضروری تھا جو دربار سرکار تک رسائی حاصل نہ ہو سکنے کے سبب اپنے مسائل کے حل کے لئے باغی گروہوں کی دہشت گردی کا آلہ کار بن جاتے تھے۔

یہ ایک طویل اور صبر آزما کارروائی تھی لیکن اس کے نتائج کسی بھی ’اعلانِ جنگ‘ سے بہتر نکلے۔

مصنفہ نے جو مثالیں پیش کی ہیں وہاں تک تو یہ فارمولا کام کرتا نظر آتا ہے لیکن امریکہ اور مشرقِ وسطٰی کی صورتِ حال اس لحاظ سے مختلف ہے کہ اندرونی سیاست اور بین الاقوامی تزویراتی مجبوریوں کے باعث امریکہ اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ فلسطینیوں کے جائز حقوق پورے کرنے کےلئے اسرائیل پر کوئی دباؤ ڈال سکے اور جب تک امریکہ اس حقیقت سے آنکھیں چُراتا رہے گا، نہ فلسطین کا مسئلہ حل ہوگا، نہ ایک جابرانہ قوت کے طور پر امریکہ کی شبیہ بہتر ہوگی اور نہ ہی القاعدہ جیسی تنظیموں کو معاشرے کی شہ رگ سے جدا کیا جا سکے گا، کیونکہ ہر جانب سے انصاف کے حصول میں ناکام ہونے کے بعد مظلوم لوگ القاعدہ اور اس قبیل کی دیگر تنظیموں کے ہاتھ پر بیعت کرتے رہیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد