لبنان اسرائیل جنگ پر نئی کتاب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان پر اسرائیلی حملے کو ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دِن ہوئے ہیں اور اتنی مختصر سی مدت میں اس حملے کے تاریخی پس منظر، حالات کے موجودہ رُخ اور مستقبل کے امکانات پر تحقیق کرنا اور ڈیڑھ سو صفحے کی ایک کتاب مرتب کر دینا بظاہر ایک صحافیانہ سا عمل لگتا ہے لیکن ڈاکٹر لال خان کی تصنیف پڑھ کر اس تاثر کی نفی ہوجاتی ہے کہ یہ عجلت میں لکھی ہوئی کوئی سطحی سی تحریر ہوگی۔ مصُنف کی تیز رفتاری کے پسِ پشت زیرِ بحث موضوع پر اُن کی مضبوط گرفت، سیاسی اور سماجی صورتِ حال کے تجزیئے کےلیئے اُن کی دسترس میں موجود سائنسی طریق کار اور سب سے بڑھ کر ذاتی فکر مندی کی وہ سطح ہے جو سماجی تبدیلی کے خواہش مند ایک انسان دوست مصنف کو مُنشیانہ تحقیق کرنے والے بے جہت لکھاریوں سے ممتاز و منفرد کرتی ہے۔ لبنان پر اسرائیل کے تازہ حملے کے اصل مقاصد بیان کرتے ہوئے مصنف نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل دراصل اپنی سرحدیں دُور دُور تک پھیلا کر صیہونیت کے خواب کو سچا کرنا چاہتا ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے اسرائیل کے بانی ڈیوڈ بن گورین کے خیالات وضاحت سے پیش کرنے کےلیئے معروف صیہونی مصنف ایوی شلیام کی کتاب ’اسرائیل اور عرب دنیا‘ سے یہ اقتباس درج کیا ہے: ’بن گورین کا منصوبہ تھا کہ جنوبی لبنان پر مکمل قبضہ کر کے باقی ماندہ ملک کو ایک عیسائی میرونائٹ ریاست میں تبدیل کر دیا جائے اور 1956ء میں اس نے اپنی یہ سکیم برطانوی اور فرانسیسی سامراجیوں کے آگے فرانس کے خفیہ مذاکرات میں پیش کی تھی۔ اس کے چیف آف سٹاف موشے دیان نے ایک لبنانی افسر کو اس منصوبے کے تحت تیار کیا کہ وہ اپنے آپ کو میرونائٹ آبادی کا نجات دہند قرار دے کر لبنان میں داخل ہوجائے، ایک مخصوص علاقے پر قبضہ کر کے وہاں عیسائی حاکمیت کا اعلان کرے اور بالآخراسکا اسرائیل کے ساتھ الحاق کروا دے۔‘ اس طرح دریائے لیطانی کے جنوب میں سارے علاقے پر تسلط قائم کر کے تمام خطے کو اسرائیل اپنے کنٹرول میں لانا چاہتا تھا۔
اسرائیل نے اپنے اس پرانے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کی کئی مرتبہ کوشش کی۔ مصنف کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور اسکے عرب ہمسایوں کے مابین اب تک جو چار جنگیں ہوئی ہیں اُن میں سے بیشتر اسرائیلی فوج نے آسانی سے جیت لی ہیں اور آج اسرائیل کے پاس اُس سے کہیں زیادہ رقبہ ہے جو ریاست کے قیام کے وقت 1948 میں تھا۔ تاہم مصنف کے بقول لبنان کو اپنے زیرِنگیں کرنے کی ناتمام آرزو اب بھی اسرائیل کے دِل میں کروٹیں لے رہی ہے اور اس سلسلے کی تازہ ترین کوشش کے دوران اسرائیل کی ’ناقابلِ تسخیر‘ فوج کو جو دھچکا لگا وہ اس یہودی ریاست کے اندر بڑھتے ہوئے معاشی، اقتصادی، سیاسی اور سماجی بحران کی غمازی کرتا ہے۔ مصنف نے اس سلسلے میں ایک ایسی اسرائیلی خاتون کے مضمون کا حوالہ بھی دیا ہے جو نقلِ وطن کر کے اب امریکہ میں آباد ہوچکی ہے۔ خاتون نے ترکِ وطن کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ تل ابیب کے ایک ہسپتال میں جب اسکا بیٹا پیدا ہوا تو نرس نے اس تندرست و توانا بچّے کو تعریفی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا ’یہ تو بڑا ہو کر اچھا فوجی بنےگا‘ ماں یہ سُن کر گویا دہل گئی اور خجالت، ندامت اور حقارت کے شدید احساس نے اسے اپنے بچّے سمیت وطن چھوڑ دینے پر مجبور کردیا۔ ڈاکٹر لال خان کے بقول یہ محض ایک اسرائیلی ماں کی کہانی نہیں بلکہ حالتِ جنگ کے لامتناہی سلسلے نے معاشرے کے مختلف طبقوں میں یہ احساس پوری طرح بیدار کردیا ہے کہ ایک آتش فشاں کے دہانے پر قائم ہونے والی بستی کے مکین تا قیامت سُکھ چین کی نیند نہیں سوسکتے۔ اسرائیلی سماج کا گہرائی سے تجزیہ کرتے ہوئے لال خان بتاتے ہیں کہ موجودہ مالی سال کے دوران جہاں اسرائیلی بینکوں نے 137 فیصد منافع کمایا ہے وہیں ساڑھے چار لاکھ اسرائیلی باشندے خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ قومی سطح پر بے روزگاری بارہ فیصد تک پہنچ گئی ہے اور میونسپلٹی دفاتر کے پندرہ ہزار کارکنوں کو پچھلے ایک سال سے تنخواہیں نہیں ملیں۔ معاشرے کے اِن اندرونی تضادات کا ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ مصنف نے اس مسئلے کو بین الاقوامی سامراج کے تناظر میں بھی دیکھا ہے اور تاریخی حوالوں سے واضح کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں مُستقل بدامنی اور حالتِ جنگ کس طرح عالمی سامراج کے مختلف مقاصد کو پورا کرتے ہیں۔ خوبصورت کمپیوٹر کتابت اور مضبوط جلد بندی کے ساتھ ایک سو پچاس صفحے کی یہ دستاویز لاہور کے طباعتی ادارے ’جدوجہد پبلیکیشنز‘ نے شائع کی ہے اور بُک سٹالوں پر اس کی قیمت 180 روپے ہے۔ |
اسی بارے میں گاندھی:شخصیت پر ایک نئی نظر21 March, 2006 | فن فنکار سید عاشور کاظمی کی نئی کتاب03 July, 2004 | فن فنکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||