BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 01 September, 2006, 18:11 GMT 23:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاک بھارت تعلقات کے 60 برس

کتاب کے مصنف طارق اسماعیل ساگر
اِس کتاب کے مصنف گزشتہ بائیس برس سے پاک ہِند تعلقات پر مضامین تحریر کر رہے ہیں اور دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کا شاید ہی کوئی پہلو ہو جو اُن کی نظر سے نہ گزرا ہو۔

زیرِنظر کتاب میں مصنف نے برِصغیر میں مسلمانوں کی آمد سے لے کر انگریز حاکمیت کے اختتام تک کی کہانی بطور پس منظر بیان کرنے کے بعد 1947
سے ذرا پہلے کے زمانے کو نقطہء آغاز بنایا ہے۔

کتاب کی ابتدا میں مصنف نے قارئین کے ذہن میں یہ دلچسپ سوال بیدار کیا ہے کہ یورپ کے ممالک دو عالمی جنگوں کے دوران شدید باہمی دشمنی کے باوجود اب مِل جُل کر اچھے ہمسایوں کی زندگی گزار رہے ہیں لیکن پاکستان اور بھارت کی باہمی رنجش اور کدورت آج تک دُور نہیں ہوسکی۔

اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہوئے مصنف ایک طویل سفر پر چل نکلتا ہے جو 1947 میں باؤنڈری کمیشن کے قیام سے شروع ہوتا ہے اور 60 برس بعد بھی جاری ہے۔

گزشتہ پندرہ بیس برس کے دوران برِصغیر کی تاریخ، سیاست اور معاشرت پر انگریزی، اُردو، ہندی اور دیگر زبانوں میں سینکڑوں کتابیں شائع ہوئی ہیں جِن میں اُن بزرگوں کی خودنوشت سوانح عمریاں بھی شامل ہیں جنھوں نے اپنی نوجوانی میں تقسیمِ ہند کا منظر دیکھا تھا یا کسی نہ کسی حیثیت سے تقسیم کے اس عمل میں وہ خود شامل تھے۔

مصنف نے اِن اہم تصانیف میں سے بیشتر کا مطالعہ کیا ہے لیکن اپنے تجزیے میں انھوں نے اس بات کو کہیں بھی پوشیدہ نہیں رکھا کہ وہ نئی نسل کے ایک پاکستانی باشندے کی حیثیت سے برِصغیر کی حالیہ تاریخ کا مطالعہ کررہے ہیں اور وطنِ عزیز کے ساتھ جہاں کہیں انھیں زیادتی ہوتی نظر آتی ہے اس کا برملا بلکہ قدرے جذباتی انداز میں پُر زور بیان کرنے سے نہیں چوکتے۔

پہلے ہی باب میں انھوں نے تاریخی حوالوں اور اہم شخصیات کے بیانات کی روشنی میں ثابت کیا ہے کہ پنجاب کی حد بندی کےلیئے جو کمیشن قائم کیا گیا تھا وہ محض ایک ڈھونگ تھا کیونکہ حد بندی کا فیصلہ پہلے سے ہوچکا تھا جِس میں گورداس پور اور بٹالہ کی تحصیلیں بھارت میں شامل کی جاچکی تھیں۔ اِس سلسلے میں مصنف نے سر ظفر اللہ خان، جسٹس دین محمد اور چوہدری محمد علی کی تحریروں سے متعلقہ اقتباسات پیش کئے ہیں۔ مصنف اِس معروف نقطہء نظر کے قائل معلوم ہوتے ہیں کہ ماؤنٹ بیٹن اور کانگریس نے درپردہ یہ سازش کر رکھی تھی کہ پاکستان کو مظبوط بنیادوں پر قائم نہ ہونے دیا جائے تاکہ جغرافیائی اور اقتصادی طور پر کھوکھلا ہوکر یہ نوزائیدہ ملک پھر سے بھارت میں مدغم ہو جائے اور یوں دو قومی نظریے کا نعرہ اپنی موت آپ مرجائے۔

کتاب کے مصنف طارق اسماعیل ساگر

باؤنڈری کمیشن اور ماؤنٹ بیٹن کا احوال بیان کرنے کے بعد مصنف اثاثوں کی تقسیم، حیدرآباد اور جونا گڑھ کے سقوط اور دریائی پانی کے جھگڑے میں، بقول اُن کے، پاکستان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا مفصل احوال بیان کرتے ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے لا متناہی مذاکرات کو مصنف نے چھ ادوار میں تقسیم کیا ہے۔ پہلا دور 1947 سے 1960 تک کا ہے جِس میں ایوب خان کے زمانہء مارشل لاء کا خاص طور پر ذکر ہے۔ دوسرا دور 1961 سے 1971 تک کا ہے جو کہ بھٹّو کی آمد پر پاک بھارت تعلقات کی ایک نئی جہت دکھاتا ہے۔ تیسرا دور (1972 تا 1978 ) معاہدہ شملہ، معاہدہ دہلی، اسلامی سربراہی کانفرنس، بھارت کے ایٹمی دھماکے اور اُس کے ردِعمل میں تیزی پکڑنے والے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو زیرِ بحث لاتا ہے۔

1978 سے 1988 تک کے چوتھے دور میں سیا چن کا مسئلہ بنیادی حیثیت اختیار کر لیتا ہے اور پانچویں دور میں جوکہ 1989 سے 1999 تک چلتا ہے، کارگِل کا معرکہ اور پاکستان میں ’را‘ کی سرگرمیاں زیرِ بحث آتی ہیں۔

کشمیر کا مسئلہ یوں تو اِن تمام ادوار کے پس منظر میں بھرپور طریقے سے موجود ہے لیکن مباحثے کا چھٹا اور آخری دور (2000 تا 2006) خاص طور پر کشمیر کے معاملے کو گرفت میں لیتا ہے۔ اسی اہم دور میں 11/9 کی صورتِ حال بھی سامنے آتی ہے اور جنوبی ایشیا کی سیاست پر اسکے اثرات بھی نمایاں ہوتے ہیں۔

بحث کے اس حصّے میں کشمیر کی موجودہ صورتِ حال اور اس مسئلے کے تمام ممکنہ حل، مثلاً پاکستان سے الحاق، بھارت سے الحاق، مکمل خودمختاری، صرف وادی کی خود مختاری، وادی اور آزاد کشمیر کا الحاق اور چناب فارمولا وغیرہ پر مفصل روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس حصّے میں بھارتی مزائیلوں کے حالیہ تجربات اور اُس کے مقابل پاکستان کی دفاعی پیش رفت کا موازنہ کیا گیا ہے۔

کتاب: پاک بھارت تعلقات، تاریخ اور تجزیہ
مصنف: طارق اسماعیل ساگر
ناشر: طاہر سنز اُردو بازار لاہور
صفحات: 704
قیمت: 750 روپے

کتاب کے آخری باب میں بھارت کی کامیاب موجودہ خارجہ پالیسی پر روشنی ڈالی گئی ہے جِس کی بدولت امریکہ اور اسرائیل سے لے کر تُرکی اور سعودی عرب تک سب ہی ممالک نے بھارت سے قریبی تعلقات اُستوار کئے ہیں۔ بقول مصنف کے یہ صورتِ حال پاکستان کے پالیسی سازوں کے لیئے ایک لمحہء فکریہ کی حیثیت رکھتی ہے۔

خوبصورت کتابت و طباعت اور مضبوط جلد بندی کے ساتھ شائع ہونے والا سات سو صفحات سے زیادہ کا یہ مواد نہ صرف عامل صحافیوں کےلیئے حوالے کی ایک کتاب بن سکتا ہے بلکہ تاریخ و سیاسیات کے طلباء اور اساتذہ کےلئے بھی درجنوں کتابوں اور اہم تاریخی دستاویزات کا نچوڑ ایک جامع شکل میں پیش کردیتا ہے۔

اسی بارے میں
کشمیر نہ سہی کچھ اور سہی
05 October, 2005 | پاکستان
سیاچن مذاکرات پھر شروع
23 May, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد