گاندھی:شخصیت پر ایک نئی نظر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کسی قوم کی ترقی کو جانچنے کا ایک پیمانہ یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنی محدود جذباتیت سے نکل کر حالاتِ حاضرہ کو کس حد تک ایک عالمی تناظر میں دیکھنے کے قابل ہوئی ہے۔ دیوتا تراشنا آسان کام ہے کیونکہ پوجا پاٹھ میں ذہن پہ کوئی زور نہیں پڑتا۔ لیکن کسی ترشے ترشائے دیوتا کو عقل و منطق کے کٹہرے میں کھڑا کر کے اُس پر جِرح کرنا بڑے کشٹ کا کام ہے۔ برِصغیر کی دو بڑی قوموں میں پائی جانے والی باہمی منافرت کے باعث تاریخ کے غیر جانبدارنہ تجزیے کا کام مغربی دانشوروں نے سنبھالے رکھا ہے اور آج بھی محمد علی جناح کے سوانحی حالات کا جائزہ لینے کے لئے ہمیں سٹینلے والپرٹ کی کتاب کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ تقسیمِ ہند کے پچاس برس بعد اگر ہم جیسے دیوتا سازوں اور صنم پرستوں میں خِرد افروزی کی کوئی جھلک نظر آجائے تو اسے ایک نیک شگون سمجھنا چاہیئے اور توقع کرنی چاہیئے کہ روشنی کی یہ باریک سی لہر پھیل کر دِن کا اُجالا بن جائے گی۔ اپنی تاریخ کے غیر جانبدارانہ تجزیے کی اہلیت حاصل کر لینا، قومی سطح پر یقیناً بلوغت کی علامت ہے اور پاک و ہند کی نصابی کتابوں میں موجودہ تنگ نظری اور تعصّب کی باقاعدہ تربیت کے شکنجے سے نکل کر اگر کوئی نوجوان انصاف پسندی کی اس راہ پر گام زن ہو تا ہے تو وہ دوہری تعریف کا مستحق ہے۔ چھوٹی موٹی سطح ہی پر سہی لیکن پاکستان کے مقابل بھارت میں غیر جانبدارانہ تاریخ نویسی کا عمل پہلے سے شروع ہو چکا ہے۔ 1965 کے بعد کوئی چالیس برس تک دونوں ملکوں میں کتابوں اور رسالوں کی آزادانہ آمدورفت پر شدید پابندیاں رہی ہیں لیکن حالیہ دنوں میں ہمیں ایک دوسرے کے رسائل و اخبارات پڑھنے کا زیادہ موقعہ مِلا ہے اور انٹر نیٹ کی سہولت کے باعث بھی بہت سا بھارتی مواد پاکستانی محققین کی دسترس میں آگیا ہے۔ اسی طرح بھارتی سکالرز بھی اب نسبتاً زیادہ آسانی کے ساتھ پاکستانی مواد تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر یہ سب سہولتیں نہ ہوتیں تو شاید نوجوان پاکستانی مصنّف کامران شاہد کو حیاتِ گاندھی جیسے خالص ہندوستانی موضوع پر ایک کتاب مرتب کرنے کی صلاحیت حاصل نہ ہو سکتی۔ (یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ مصنّف نے اپنے قیامِ لندن کے دوران وہاں کے کُتب خانوں اور دیگر تحقیقی ذرائع سے بھی پورا فائدہ اٹھایا ہے) ق
سادھو اور شیطان کی ان دو انتہاؤں کے درمیان موہن داس کرم چند کی اصل شخصیت تک رسائی کی کوششیں بہت کم ہوئی ہیں اور زیرِ نظر کتاب کے مصنّف نے بھی نہ تو کوئی ایسی کوشش کی ہے اور نہ ہی اسکا دعوٰی کیا ہے۔ کامران شاہد کی کتاب کا موضوع صِرف اتنا ہے کہ گاندھی جی نے اپنی بے پناہ عوامی مقبولیت اور غیر محدود سیاسی قوّت کو اگر واقعی ایک سیکولر انداز میں برتا ہوتا تو 1947 میں کُشت و خون کا بازار گرم نہ ہوتا۔ مصنف کا خیال ہے کہ آزاد خیالی اور وسیع المشربی کے تمام تر دعوؤں کے باوجود گاندھی جی اندر سے ایک خالص سناتن دھرمی ہندو تھے اور پورے خلوص، دیانت داری اور نیک نیتی سے مستقبل میں رام راجیہ کے خواب دیکھ رہے تھے۔ اُن کا یہ تصوّر اگرچہ اسلام دشمنی پر مبنی نہیں تھا لیکن وہ اس خوش فہمی میں ضرور مبتلا تھے کہ رام راجیہ قائم ہونے سے ہندو مسلم منافرت خود بخود ختم ہو جائے گی۔ بقول مصّنف، گاندھی جی آخری وقت تک سمجھتے رہے کہ نچلی ذاتوں کے ہندو اور ہندوستان کی مسلم آبادی مِل کر اُن کا ساتھ دےگی اور اس سوادِاعظم کے زور پر وہ ہندوستان کو کرہ ارض کا سب سے پُر سکون اور امن پسند ملک بنا دیں گے۔ ظاہر ہے کہ نیک نیّتی کے باوجود یہ ایک غیر حقیقت پسندانہ اپروچ تھی اور اسے حالات کی ستم ظریفی ہی کہا جا سکتا ہے کہ 1948 میں خود گاندھی جی ایک انتہا پسند ہندو کی گولی کا نشانہ بن کر اِس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ گاندھی جی کے بارے میں یہ تجزیہ اگرچہ نیا نہیں ہے لیکن نوجوان پاکستانی مصنّف نے جن دلائل وبراہین سے کام لیا ہے وہ ضرور نئے ہیں اور تاریخ نویسی کے جِن جدید اصولوں کو سامنے رکھا ہے وہ بھی اس کتاب کو ماضی کی جدباتی اور قدرے غیر منطقی تحریروں سے مّمیز کرتے ہیں۔ انگریزی زبان میں ہونے کے باعث ہندوستان میں، امکانی طور پر، اس کتاب کی وسیع رِیڈرشِپ موجود ہے اور توقع کرنی چاہیئے کہ سرحد پار بھی اس کتاب کا مطالعہ بت تراشی اور بت شکنی سے ماوراء ہو کر، صحیح تاریخی تناظر میں کیا جائے گا تاکہ نوجوان پاکستانی مصنّف کو اپنی محنت کی داد مِل سکے۔ 181 صفحات کی یہ جامع کتاب فیروز سنز لاہور نے شائع کی ہے اور اسکی قیمت ڈھائی سو پاکستانی روپے ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||