BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 January, 2006, 07:59 GMT 12:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گاندھی کی آخری سواری کی مرمت

مہاتما گاندھی
گاندھی کو انیس سو اڑتالیس میں قتل کر دیا گیا تھا
بھارت کے سر کردہ رہنما مہاتما گاندھی کی خاک کو دریائے گنگا تک لے جانے والے فورڈ ٹرک کی مرمت کی جارہی ہے جسے بعد ازاں ان کی موت کے حوالے سے ہونے والی تقریبات میں رکھا جائے گا۔

اس ٹرک کو انیس سو اڑتالیس کے بعد سے استعمال میں نہیں لایا گیا اور وہ
الہ آباد کے عجائب گھر میں قابل مرمت حالت میں کھڑا ہے۔

حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹرک کا انجن ابھی تک بہترین حالت میں ہے جو انجینئروں کے لیے قابل حیرت بات ہے۔

برطانوی استعمار کے خلاف بھارت کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والے رہنما مہاتما گاندھی کے جنازے میں لاکھوں افراد نے شرکت کی تھی۔ انہیں انیس سو اڑتالیس میں 78 سال کی عمر میں ایک انتہا پسند ہندؤ نے قتل کر دیا تھا۔

بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو نے مہاتما گاندھی کی خاک کے ساتھ اس فورڈ ٹرک میں سفر کیا تھا۔ان کے ساتھ دیگر افراد میں مہاتما گاندھی کے بیٹے دیوداس اور جنگ آزادی کے ایک اور رہنما سردار ولا بھائی پٹیل تھے۔

لاکھوں افراد گاندھی کی خاک کو دریا تک لے جانے کے اس سفر میں راستے کے دونوں اطراف کھڑے تھے۔ ان کی خاک بارہ فروری انیس سو اڑتالیس کو دو دریاؤں گنگا اور جمنا کے سنگم پر دریا برد کی گئی۔

انیس سو سینتالیس کا فورڈ ماڈل ٹرک اس مقصد کے لیے بھارتی فوج کی جانب سے فراہم کیا گیا تھا جسے بعد ازاں حفاظت کے پیش نظر ریاست کی پولیس کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

الہ آباد میں باقاعدہ عجائب گھر بننے کے بعد اس تاریخی ٹرک کو وہاں منتقل کر دیا گیا۔

ریاست اترپردیش کی روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے مینجنگ ڈائریکٹر امیش سنہا نے بی بی سی کو بتایا کہ مہاتما گاندھی کے آخری سفر سے تعلق رکھنے والی یہ سواری ان کے لیے ایک ورثے کی حیثیت رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ادارے نےٹرک کی سجاوٹ کی ذمہ داری قبول کی ہے تاکہ وہ واقعی فورڈ ٹرک کی طرح سے نظر آسکے۔

اس ٹرک میں مہاتما گاندھی کی خاک کو لے جایا گیا تھا

ٹرانسپورٹ کے حکام ٹرک کو مرمت کے لیے ورک شاپ میں لے جانا چاہتے ہیں لیکن عجائب گھر کاقانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا لہذا ٹرک کی مرمت کا کام میوزیم کی عمارت کے اندر واقع گیراج میں کیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ کئی سالوں سے ٹرک کھڑا ہے اس کے باوجود اس کے انجن کو درست حالت میں پاکر انجینئر حیران رہ گئے۔

انہوں نے کہا کہ انجن کو صفائی کی ضرورت ہے اوراب بھی اس کا انجن نئی گاڑیوں کے انجن کی طرح بے آواز ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سب سے مشکل کام اس کے لیے نئے ٹائر حاصل کرنے کا تھا۔ ٹرک بنانے والی کمپنی سی ای اے ٹی کے نئے ٹائر فراہم کرنے کے بعد اب اس تاریخی ٹرک کے ٹائر تبدیل کر دیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ تاریخی ٹرک میوزیم کیمپس کے اندر ہی اپنے آزمائشی سفر کے لیے تیار ہے۔

اسی بارے میں
گاندھیوں کی سونیا
13 May, 2004 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد